۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمییہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیتیہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤںکے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
۔ سیدناابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔
۔ سیدنا خداش بن سلامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنیماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دو، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔