TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان - اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 19 · 11 Hadith
۔ (۱۹۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلٌ اِلَّا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ، اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ،اَوْوَلَدٍصَالِحٍیَدْعُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
Takhreej
(۱۹۲۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۶۳۱(انظر: ۸۸۴۴)
Explanation
فوائد:… صدقہ جاریہ کی کسی قسم کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو خیر اپنے ورثے میں نیک اولاد کو چھوڑ کر جانے میں ہے، اس کی کوئی مثال نہیں، اس کا کوئی جواب نہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانانِ عصرِ حاضر نے اپنی اولاد کی ترقی کے مختلف حقوق ادا کیے ہیں، ما سوائے نیک تربیت کے۔
9025
Sahih
۔ (۱۹۲۶)۔ عَنِ الْاَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَفْد کِنْدَۃَ فَقَالَ لِیْ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ وَلَدٍ؟)) قُلْتُ: غُلامٌ وُلِدَ لِیْ فِیْ مَخْرَجِیْ اِلَیْکَ مِنَ ابْنَۃِ جَمْدٍ، وَلَوَدِدْتُّ اَنْ مَکَانَہُ شَبِِعَ الْقَوْمُ، قَالَ: ((لا تَقُوْلَنَّ ذٰلِکَ، فَاِنَّ فِیْھِمْ قُرَّۃَ عَیْنٍ، وَاَجْرًا اِذَا قُبِضُوْا، ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذٰاکَ اِنَّھُمْ لَمَجْبَنَۃٌ مَحْزَنَۃٌ، اِنَّھُمْ لَمَجْبَنَۃٌ مَحْزَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۸۳)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بیشکیہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۲۶) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی: ۶۴۶، والحاکم: ۴/ ۲۳۹(انظر: ۲۱۸۴۰)
Explanation
فوائد:… بچوں کی فکر انسان کو بزدل اور بخیل بنا دیتی ہے، ہر کوئی زندگی کا حریص ہوتا ہی ہے، لیکن جب بچے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور نگہداشت کی خاطر انسان اپنی زندگی کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگ جاتا ہے اور جہاد جیسے عظیم عمل میںشرکت کرتے وقت بھی فکر مند ہو جاتاہے۔ بہرحال اولاد ایک نعمت ہے، ان کی خدمت میں شرف ہے، لیکن دوسرے شرعی احکام متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
9026
Sahih
۔ (۱۹۲۷)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، قَالَ: زَعَمَتِ الْمَرْاَۃُ الصَّالِحَۃُ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُحْتَضِنًا اَحَدَ ابْنَیِ ابْنَتِہِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! اِنَّکُمْ لَتُجَبِّنُوْنَ وَتُبَخِّلُوْنَ، وَاِنَّکُمْ لَمِنْ رَّیْحَانِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِنَّ آخِرَ وَطْاَۃٍ وَطِئَھَا اللّٰہ بِوَجٍّ۔)) وَقَالَ سفیان مَرَّۃً: اِنَّکُمْ لَتُبَخِّلُوْنَ وَاِنَّکُمْ لَتُجَبِّنُوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۵۷)
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
Takhreej
(۱۹۲۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمر بن عبد العزیز لا یعرف لہ سماع من خولۃ ، ولجھالۃ ابن ابی سوید، أخرجہ الترمذی: ۱۹۱۰ (انظر: ۲۷۳۱۴)
Explanation
فوائد:… غزوۂ طائف، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آخری قتال تھا، اگرچہ غزوۂ تبوک اس کے بعد پیش آیا، لیکن اس میں جنگ نہیں ہوئی تھی۔
9027
Sahih
۔ (۱۹۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزْرِیُّ، عَنْ نَاصِحٍ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ سِمَاکٍ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاَنْ یُّؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَہُ، اَوْ اَحَدُکُمْ وَلَدَہُ، خَیْرٌ لَّہُ مِنْ اَنْیَّتَصَدَّقَ کَلَّ یَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَھٰذَا الْحَدِیْثُ لَمْ یُخْرِجْہُ اَبِیْ فِیْ مُسْنَدِہِ مِنْ اَجْلِ نَاصِحٍ ؛ لِاَنَّہُ ضَعِیْفٌ فِیْ الْحَدِیْثِ وَاَمْـلَاہُ عَلَیَّ فِی النَّوَادِرِ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۰۶)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہیہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میںاملاء کروائی تھی۔
Takhreej
(۱۹۲۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمر بن عبد العزیز لا یعرف لہ سماع من خولۃ ، ولجھالۃ ابن ابی سوید، أخرجہ الترمذی: ۱۹۱۰ (انظر: ۲۷۳۱۴)
9028
Zaeef
۔ (۱۹۲۹)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِیُّ، ثَنَا اَیُوْبُ بْنُ مَوْسٰی بْنِ عَمْرٍو بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: اَوِ ابْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَانَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہُ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حسَنٍ۔)) قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الَّرْحْمٰنِ حَدَّثَنَا بِہٖخَلْفُ بْنُ ھِشَامٍ الْبَزَّارُ وَالْقَوَارِیْرِیُّ قالا: ثَنَا عَامِرُ بْنُ اَبِیْ عَامِرٍ بِاِسْنَادِہِ فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۷۸)
۔ سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔
Takhreej
(۱۹۲۹) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف عامر بن صالح، ولارسالۃ عمرو بن سعید بن العاص، جد ایوب بن موسی لیس لہ صحبۃ، وموسی بن عمرو تفرد بالروایۃ عنہ ابنہ ایوب أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۶۳، والبیھقی فی الشعب : ۱۶۷۳(انظر: ۱۵۴۰۳/۱)
Explanation
فوائد:… یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بڑا تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت ہے، اولاد کو اس قابل بنا دینا چاہیے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور دنیا سے بھی غافل نہ ہونے پائے۔
9029
Zaeef
۔ (۹۰۳۰)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَاَنْفِقْ عَلٰی عَیَالِکَ مِنْ طَوْلِکَ، وَلا تَرْفَعْ عَنْھُمْ عَصَاکَ اَدَبًا، وَاَخِفْھِمْ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تینیہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔
Takhreej
(۹۰۳۰) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر لم یدرک معاذا أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴ (انظر: ۲۲۲۰۷۵)
Explanation
فوائد:… دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت بیوی بچوں کو سزا دی جا سکتی ہے۔
9030
Zaeef
۔ (۹۰۳۱)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ اِنَّ اَبِیْ بَشِیْرًا وَھَبَ لِیْ ھِبَۃً، فَقَالَتْ اُمِّیْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقَ بِیْ حَتّٰی اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اُمَّ ھٰذَا الْغُلَامِ سَاَلَتْنِیْ اَنْ اَھَبَ لَہُ ھِبَۃً فَوَھَبْتُھَا لَہُ، فَقَالَتْ: اَشْھِدْ عَلَیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاَتَیْتُکَ لِاُشْھِدُکَ، فَقَالَ: ((رُوَیْدَکَ، اَلَکَ وَلَدٌ غَیْرُہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((کُلُّھُمْ اَعْطَیْتَہُ کَمَا اَعْطَیْتَہُ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَـلَا تُشْھِدْنِیْ اِذًا، اِنِّیْ لا اَشْھَدُ عَلٰی جَوْرٍ، اِنَّ لِبَنِیْکَ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۹)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔
Takhreej
(۹۰۳۱) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۵۸۷، ومسلم: ۱۶۲۳ (انظر: ۱۸۳۶۹)
9031
Sahih
۔ (۹۰۳۲)۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَقَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاَشْھِدْ غَیْرِیْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَیْسَیَسُرُّکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا فِی الْبِرِّ سَوَائً ؟)) قَالَ: بَلٰی، وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَھُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ اَنْ تَعْدِلَ بَیْنَھُمْ کَمَا اَنَّ لَکَ عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ اَنْ یَّبَرُّوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۵۵۶)
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیںیہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔
Takhreej
(۹۰۳۲) تخریج:انظر الحدیث السا بق
9032
Sahih
۔ (۹۰۳۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَارِبُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ یَعْنِیْ سَوُّوْا بَیْنَھُمْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ، اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَبْنَائِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۴۲)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔
Takhreej
(۹۰۳۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۵۴۴، والنسائی: ۶/ ۲۶۲ (انظر: ۱۸۴۵۱)
Explanation
فوائد:… والدین کسی ایک بچے کے ساتھ کسی اعتبار سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے، بعض آباء کو دیکھا گیا ہے کہ ان کے بعض بچے ہمیشہ ان کے غیظ و غضب اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں اور بعض لاڈ پیار کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اسی طرح جب بچوں پر خرچ کرنے کی باری آتی ہے تو پھر اسی امتیاز کو مدّنظر رکھا جاتا ہے۔ ایسا کرنا ضلالت و گمراہی ہے، نبوی منہج سے بھٹک جانے کی علامت ہے اور بچوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی علامت ہے ۔ بچوں اور بچیوں کی شادیوں پر بھی مساوات کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کاَنَ رَجُلٌ جَالِسٌ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ ہُ ابْنٌ لَہُ فَأَخَذَہُ فَقَبَّلَہُ ثُمَّ أَجْلَسَہُ فِی حِجْرِہِ، وَجَائَـتِ ابْنَۃٌ لَّہُ، فَأَخَذَھَا إِلٰی جَنْبِہٖ،فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا عَدَلْتَ بَیْنَھُمَا؟)) یَعْنِی: بَیْنَ ابْنِہٖوَبِنْتِہٖفِی تَقْبِیْلِھِمَا۔ … ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے ان کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا۔ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ (مسند بزار: ۲/۳۷۸/۱۸۹۳، شعب الایمان للبیھقی: ۶/ ۴۱۰/۸۷۰۰، صحیحہ: ۲۸۸۳، ۲۹۹۴) یہ اولاد کے مابین مساوات کا معیار ہے کہ محبت کے ظاہری تقاضوں میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کے دل میں کسی ایک بیٹے کا لحاظ یا اس کی محبت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اس میں مضائقہ بھی نہیں ہے، کیونکہیہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ سب سے زیادہ محبت تھی، لیکن مساوات کے ظاہری تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
9033
Sahih
۔ (۹۰۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَبْصَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْاَقْرَعُ یُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِیْ عَشَرَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ قَطُّ! قَالَ: ((اِنَّہُ مَنْ لَایَرْحَمُ لَایُرْحَمُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۹۰۳۴) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۳۱۸ (انظر:۷۲۸۹ )
9034
Sahih
۔ (۹۰۳۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: دَخَلَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآہُ یُقَبِّلُ حَسَنًا اَوْ حُسَیْنًا، فَقَالَ لَہُ: لا تُقَبِّلْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ وُلِدَ لِیْ عَشَرَۃٌ مَا قَبَّلْتُ اَحَدًا مِنْھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَنْ لایَرْحَمُ لایُرْحَمُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
Takhreej
(۹۰۳۵) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۹۹۷(انظر: ۷۱۲۱)
Explanation
فوائد:… بندے کا رحمدل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرے گا، اگر کوئی آدمی بہت ہی سخت طبیعت کا مالک ہو تو اس کو چاہیے کہ تکلف کرتے ہوئے اپنی اولاد کے معاملے میں نرمی کر لیا کرے۔
9035
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.