۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم مرتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے، ما سوائے تین اعمال کے، صدقہ جاریہ سے، یا علم سے جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیری اولاد ہے؟ میں نے کہا: ابھی جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا، اس وقت میرا ایک بچہ بنت جمد کے بطن سے پیدا ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس بچے کی بجائے لوگ ہی سیر ہو کر کھانا کھا لیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز اس طرح نہ کہو، کیونکہ بعض بچے آنکھ کی ٹھنڈک بنتے ہیں اور جب فوت ہو جاتے ہیں تو اجر ملتا ہے، پھر بھی اگر تو یہ بات کہتا ہے تو یہ بچے بزدلی اور غم کا سبب بنتے ہیں، بیشکیہ بزدلی اور غم کاسبب بنتے ہیں۔
۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہے: ایک عورت سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بیٹی کے دو بیٹوں میں سے ایک کو گود میں لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ کی قسم! تم بزدل اور بخیل بناتے ہو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوشبودار چیز بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آخری قتال وَجّ یعنی طائف میں ہوا تھا۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا اپنے بچے کو ادب و اخلاق کی تعلیم دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ روزانہ نصف صاع صدقہ کرے۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے کہا: میرے باپ نے ناصح راوی کی وجہ سے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت نہیں کیا، کیونکہیہ راوی حدیث میں ضعیف ہے، اورانھوں نے مجھے نوادر میںاملاء کروائی تھی۔
۔ سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس باتوں کی وصیت کی تھی، ان میں سے تینیہ تھیں: اور اپنی مالی وسعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب کی تعلیم دینے کے لیے ان سے لاٹھی کو دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں خوف دلا کے رکھ۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک چیز ہبہ کی، میرے ماں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس ہبہ پر گواہ بنائیں، چنانچہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں نے پہلے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں اِس کو کوئی ہبہ دوں، اور اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اس پر گواہ بناؤں، اس لیے آپ کو گواہ بنانے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھیرو، کیا تمہاری اور بھی اولاد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو یہ ہبہ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں، میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا، تم پر تمہارے بیٹوں کا یہ حق ہے کہ تم ان کے ما بین انصاف کرو۔
۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیںیہ بات خوش نہیں کرتی کہ تمہاری اولاد تم سے برابر برابر نیکی کرے؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ ایک روایت میں ہے: تم پر تمہاری اولاد کایہ حق ہے کہ تم ان کے مابین انصاف کرو، جیسا کہ اُن پر تمہارا حق ہے کہ وہ سب تم سے نیکی کریں۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کے ما بین برابری کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو، اپنی بچوں اور بچیوں کے ما بین برابری کا رویہ اختیار کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا اقرع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے تو ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان کا بوسہ نہ لیں، میرے تو دس بچے ہیں اور میں نے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔