مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان


۔ (۱۹۲۹)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: اَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِیُّ، ثَنَا اَیُوْبُ بْنُ مَوْسٰی بْنِ عَمْرٍو بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: اَوِ ابْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَانَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہُ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حسَنٍ۔)) قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الَّرْحْمٰنِ حَدَّثَنَا بِہٖخَلْفُ بْنُ ھِشَامٍ الْبَزَّارُ وَالْقَوَارِیْرِیُّ قالا: ثَنَا عَامِرُ بْنُ اَبِیْ عَامِرٍ بِاِسْنَادِہِ فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۷۸)

۔ سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین نے اپنے بچے کو حسن ادب سے بہترین کوئی تحفہ نہیں دیا۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۹۲۹) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف عامر بن صالح، ولارسالۃ عمرو بن سعید بن العاص، جد ایوب بن موسی لیس لہ صحبۃ، وموسی بن عمرو تفرد بالروایۃ عنہ ابنہ ایوب أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۶۳، والبیھقی فی الشعب : ۱۶۷۳(انظر: ۱۵۴۰۳/۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بڑا تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت ہے، اولاد کو اس قابل بنا دینا چاہیے کہ وہ دین کو بھی سمجھے اور دنیا سے بھی غافل نہ ہونے پائے۔