TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان - نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان - فقر اور غِنٰی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of فقر اور غِنٰی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 13 Hadith
۔ (۹۳۳۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خُبَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ: کُنَّا فِیْ مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلیٰ رَاْسِہِ اَثَرُ مَائٍ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، قَالَ: ((اَجَلْ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذِکْرِ الْغِنیٰ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا بَاْسَ بِالْغِنیٰ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَالصِّحَۃُ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ خَیْرٌ مِنَ الْغِنٰی، وَطَیِّبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۴۵)
۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۹۳۳۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۴۱ (انظر: ۲۳۱۵۷)
Explanation
فوائد:… تقوی و پرہیزگاری کے بغیر مالداری ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے، ہر کوئی سرمایہ دار ہونے کو اعزاز اور کامیابی کی علامت سمجھتا ہے، لیکن اس کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل بات ہے۔ اسلام اور ہدایت جیسے عظیم احسانات کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
9331
Sahih
۔ (۹۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذْ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ وَسِلاحَکَ ثُمَّ ائْتِنِیْ۔)) فَاَتَیْتُہُ وَھُوَ یَتَوَضَّاُ، فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظْرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اَبْعَثَکَ عَلٰی جَیْشٍ فَیُسَلِّمَکَ اللّٰہُ وَیُغْنِمَکَ وَاَرْغَبُ لَکَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَۃً صَالِحَۃً۔)) قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَااَسْلَمْتُ مِنْ اَجْلِ الْمَالِ، وَلٰکِنِّیْ اَسْلَمْتُ رَغْبَۃً فِیْ الْاِسْلاَمِ وَاَنْ اَکُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَاعَمْرُو! نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الْصَالِحِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۱۵)
۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔
Takhreej
(۹۳۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابویعلی: ۷۳۳۶، وابن حبان: ۳۲۱۰، والطبرانی فی الاوسط : ۳۲۱۳، والحاکم: ۲/ ۲۳۶ (انظر: ۱۷۷۶۳)
9332
Sahih
۔ (۹۳۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَحَسَدَ اِلاَّ فِیْ اثْنَیْنِ: رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہِ فِی الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ حِکْمَۃً، فَھُوَ یَقْضِیْ بِھَا، وَیُعَلِّمُھَا النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی رشک نہیں ہے، مگر دو آدمیوں پر، ایک وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو حق میں خرچ کرنے کی بھرپور توفیق دی ہو، اور دوسرا وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور دانائی سے نوازا ہو تو وہ اور اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
Takhreej
(۹۳۳۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۷۳، ۱۴۰۹، ومسلم: ۸۱۶ (انظر: ۴۱۰۹)
9333
Sahih
۔ (۹۳۳۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُوْا، وَاشْرَبُوْا، وَتَصَدَّقُوْا، وَالْبَسُوْا غَیْرَ مَخِیْلَۃٍ وَلاسَرَفٍ۔)) وَقَالَ یَزِیْدُ مَرَّۃً: ((فِیْ غَیْرِ اِسْرَافٍ وَلامَخِیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بس تکبر اور اسراف نہیں ہونا چاہیے۔
Takhreej
(۹۳۳۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۸۱۹، وابن ماجہ: ۳۶۰۵، والنسائی: ۵/ ۷۹،وعلقہ البخاری فی اول کتاب اللباس (انظر: )
9334
Sahih
۔ (۹۳۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ وَلاسَرَفٍ ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلٰی عَبْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظرآئے۔
Takhreej
(۹۳۳۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9335
Sahih
۔ (۹۳۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ، اَوْ شَمْلَتَانِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَرَآنِیْ رَثَّ الْھَیْئَۃِ) فَقَالَ لِیْ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کُلِّ مَالِہِ مِنْ خَیْلِہِ وَاِبِلِہِ وَغَنَمِہِ وَرَقِیْقِہِ، فَقاَلَ: ((فَاِذَا اٰتَاکَ اللّٰہُ مَالاً فَلْیَرَ عَلَیْکَ نِعْمَتَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلْیَرَ اَثْرَ نَعْمَتِہِ اللّٰہُ عَلَیْکَ) فَرُحْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَغَدَوْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَائَ)۔ (مسند احمد: ۱۵۹۸۲)
۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔
Takhreej
(۹۳۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۰۶۳، والنسائی: ۸/ ۱۸۰ (انظر: ۱۵۸۹۲)
Explanation
فوائد:… خالص اور انتہائی سرخ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا اس پوشاک کے سرخ ہونے سے مراد ہلکا سرخ ہے، یا وہ جس میں کسی اور رنگ کی ملاوٹ بھی ہو۔
9336
Sahih
۔ (۹۳۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔اَنَّ اَبَاہُ اَتَی النَّبِیَّ وَھُوَ اَشَعَثُ سَیِّیئُ الْھَیِئَۃِ، فَقَالَ لَہُ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا لَکَ مَالٌ؟)) قَالَ: مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَنَعَمَ عَلٰی عَبْدِ نَعْمَۃً اَحَبَّ اَنْ تُرٰی عَلََیْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۷)
۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔
Takhreej
(۹۳۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… بندے کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کیسے استعمال کرنا چاہیے، ملاحظہ ہوحدیث نمبر (۹۲۳۹)
9337
Sahih
۔ (۹۳۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْْضًا عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلُاَیْدِیْ ثَلاثَۃٌ: فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِی الَّتِیْ تَلِیْھَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی، فَاَعْطِیَنَّ الْفَضْلَ وَلاتَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۴)
۔ ابو الاحوص کے باپ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، جو سب سے بلند ہے، دوسرا خرچ کرنے والے کا ہاتھ، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نیچے ہے اور تیسرا سوالی کا ہاتھ، جو سب سے نیچے ہے، پس تو ضرور ضرور زائد مال خرچ کر دے اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جا۔
Takhreej
(۹۳۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۶۴۹ (انظر: ۱۷۲۳۲)
9338
Sahih
۔ (۹۳۳۹)۔ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ((کَانَ مُعَاوِیَۃُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَلَّمَا یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا وَیَقُوْلُ: ھٰؤُلائِ الْکَلِمَاتُ قَلَّمَا یَدَعَھُنَّ اَوْ یُحَدِّثُ بِھِنَّ فِی الْجُمْعِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖخَیْرًایُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ، وَاِنَّ ھٰذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ یَّاْخُذْہُ بِحَقِّہِ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ الذَّبْحُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۱)
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے تو زیادہ تر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے اور یہ مال د دولت شیریں اور سر سبز و شادات یعنی پر کشش ہے، پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور ایک دوسرے کی تعریف سے بچو، کیونکہیہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
Takhreej
(۹۳۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۴۳ (انظر: ۱۶۸۴۶)
Explanation
فوائد:… مسند احمد محقق کے لحاظ سے حدیث کی ابتدائی عبارت کا مفہوم یہ واضح ہوتا ہے: معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کم ہی کچھ بیان کرتے تھے اور جمعہ کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ حدیث کم ہی بیان کرنا چھوڑتے تھے… (عبداللہ رفیق)
9339
Sahih
۔ (۹۳۴۰)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، اَنَّ اَخَاہْ عُمَرَ انْطَلَقَ اِلٰی سَعْدٍ فِیْ غَنَمٍ لَّہُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، فَلَمَّا رَآہُ سَعْدٌ قَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا الرَّاکِبِ، فَلَمَّا اَتَاہُ قَالَ: یَااَبَتِ، اَرَضِیْتَ اَنْ تَکُوْنَ اَعْرَابِیًّا فِیْ غَنَمِکَ، وَالنَّاسُ یَتَنَازَعُوْنَ فِی الْمُلْکِ بِالْمَدِیْنَۃِ! فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ، وَقَالَ: اسْکُتْ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِیَّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ۔))(مسند احمد: ۱۴۴۱)
۔ عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر اپنے باپ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اپنی بکریوں میں تھے، جب انھوں نے اس کو دیکھا تو کہا: میں اس سوار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جب وہ آیا تو کہا: ابو جان! کیا آپ اپنے بکریوں میں بدّو بن جانے پر راضی ہو گئے، لوگ تو مدینہ منورہ میں بادشاہت کے مسئلے پر لڑ رہے ہیں، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: خاموش ہو جا، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی، غنی اور گمنام ہو۔
Takhreej
(۹۳۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۶۵(انظر: ۱۴۴۱)
Explanation
فوائد:… غنی سے مراد نفس کا غنی ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ مالدار ہو، جس کے مال نے اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہ کیا ہو۔
9340
Sahih
۔ (۹۳۴۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ قاَلَ: جَائَ ہُ ابْنُہُ عَامِرٌ فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ اَفِی الْفِتْنَۃِ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اَکُوْنَ رَاْسًا! لاَ وَاللّٰہِ! حَتّٰی اُعْطٰی سَیْفًا اِنْ ضَرَبْتُ بِہٖمُؤْمِنًانَبَاعَنْہُ،وَاِنْضَرَبْتُبِہٖکَافِرًاقَتَلَہُ،سَمِعْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوںنے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9341
Sahih
۔ (۹۳۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غِنٰی کا تعلق زیادہ مال و دولت اور سازو سامان سے نہیں ہے، غنی تو نفس کا غنی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطحاوی فی مشکل الآثار : ۶۰۵۲ (انظر: ۹۶۴۷)
9342
Sahih
۔ (۹۳۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَاللّٰہِ! مَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَمَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْخَطَأَ وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۷۱)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو کثرتِ مال کا ڈر ہے۔ ایک روایت میں ہے: مجھے تمہارے بارے میں بلا ارادہ غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے، جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ، وانظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ فقر کی مضرّت، غِنٰی کی مضرّت سے زیادہ ہے، کیونکہ فقیری سے صرف دنیا کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ غِنٰی کا ضرر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، اس گزارش کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ اکثر و بیشتر مالدار لوگوں کا مال ان کو اللہ تعالیٰ اور موت سے غافل کر دیتا ہے، وہ دنیا کی رنگینیوں میں پڑ جاتے ہیں اور فقراء و مساکین پر شفقت کرنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ فقیری بھی اس آدمی کے لیے مفید ہے جو صبر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر شریعت کے احکام کا لحاظ رکھنے والا ہو۔ اگر دنیوی مال و دولت کے ساتھ دینی تعلیمات کی روشنی میں تقوی و پرہیزگاری کی نعمت مل جائے تو پھر سرمایہ امورِ خیر کا سبب بن جائے گا، درج بالا تمام احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو کبشہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً ۔)) قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعْبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) … دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہنچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل منزلت والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔ (ترمذی: ۲۳۲۵، مسند احمد:۱۸۰۳۲)
9343
Sahih