TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9341 - نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان - فقر اور غِنٰی کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 13 in this chapter
نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۳۴۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ قاَلَ: جَائَ ہُ ابْنُہُ عَامِرٌ فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ اَفِی الْفِتْنَۃِ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اَکُوْنَ رَاْسًا! لاَ وَاللّٰہِ! حَتّٰی اُعْطٰی سَیْفًا اِنْ ضَرَبْتُ بِہٖمُؤْمِنًانَبَاعَنْہُ،وَاِنْضَرَبْتُبِہٖکَافِرًاقَتَلَہُ،سَمِعْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوںنے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔
9341
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۳۴۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول

Related Chapters

570
1
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
Musnad Ahmad
2
Chapter: If A Righteous Man Is Praised, It Is Glad Tidings For Him And Will Not Harm Him
جب کسی نیک آدمی کی تعریف کی جائے تو یہ اس کے لیے بشارت ہے اور اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے
Sahih Muslim
3
Chapter: What Has Been Related About What Is Said When One Has Intercourse With His Wife
باب: آدمی بیوی کے پاس (صحبت کے لیے) آئے تو کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About: Food For One is Sufficient For Two
باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
Jam e Tirmazi
7
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Supplicating When One Goes To His Bed
باب: آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What One Says When Setting Out As A Traveler
باب: جب آدمی سفر کے لیے نکلے تو کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
10
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
12
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
13
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
14
قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
ایک آدمی نے مال کا صدقہ کرنے کے لیے ایک وکیل بنایا، لیکن اس نے وہی مال اس مالک کے بیٹے کو دے دیا
Musnad Ahmad
16
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
Musnad Ahmad
17
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
Musnad Ahmad
18
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
20
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
23
راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
24
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
25
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
Musnad Ahmad
27
(44) CHAPTER. If somebody was busy with his domestic work and Iqama was pronounced and then he came out [for offering the Salat (prayer)].
اس آدمی کے بارے میں جو اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف تھا کہ تکبیر ہوئی اور نماز کے لیے نکل کھڑا ہوا
Sahih Bukhari
28
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
29
(18) CHAPTER. White cloth for the shroud.
اس بارے میں کہ کفن کے لیے سفید کپڑے ہونے مناسب ہیں
Sahih Bukhari
30
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
31
(6) CHAPTER. How many witnesses are sufficient to attest one's good or bad record?
کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے ؟
Sahih Bukhari
32
(2) CHAPTER. He who makes peace between the people is not a liar.
دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے کے لیے جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے
Sahih Bukhari
33
(22) CHAPTER. The sin of a betrayer (treacherous and perfidious person) whether he betrays a good or bad person.
دغابازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بے عمل کے ساتھ
Sahih Bukhari
34
(11) CHAPTER. The food of one person is sufficient for two persons.
ایک آدمی کا پورا کھانا دو کے لیے کافی ہو سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
35
(41) CHAPTER. Love is from Allah.
نیک آدمی کی محبت اللہ پاک لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے
Sahih Bukhari
36
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
Sahih Muslim
37
Chapter: Clarifying that Kissing when fasting is not unlawful for the one whose desire is not provoked by that
اس آدمی کے لیے روزے کے دوران میں بیوی کا بو سہ لینا حرام نہیں جس کی شہوت کو تحریک نہ ملتی ہو
Sahih Muslim
38
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
39
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
40
Chapter: The Story Of Three Men In The Cave And Their Tawossul (Seeking To Draw Close To Allah) By Means Of Righteous Deeds
غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ اختیار کرنا
Sahih Muslim
41
CHAPTER: Testimony Of Two Men About Sighting The Crescent Of Shawwal.
باب: شوال کے چاند کی رویت کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Regarding Abrogation Of The Command For Mass Deployment By Specific Deployment.
باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: A Man Who Fights For The Wages Of His Service.
باب: آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: How Many People Should Enter The Grave?
باب: میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں ؟
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: A man who swears to establish his right.
باب: آدمی اپنے حق کے لیے قسم کھائے ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Grapes pressed for wine.
باب: آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: How many times should one say salam when seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: If a man is invited, that is considered permission to enter.
باب: آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
49
پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد آدمی کے لیے حلال ہو جانے والی چیزوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

14
Musnad Ahmad
2096
۔ (۲۰۹۶) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ قَالَ کَانَ أَبِی وَجَدِّیْ وَعَمِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ عَشِیِّۃَ عَرَفَۃَ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ، قَالَ سَلَمَۃُ: أَوْصَانِیْ أَبِیْ بِصَلَاۃِ السَّحَرِ، قُلْتُ: یَا أَبَتِ! إِنِّیْ لَا أُطِیْقُھَا، قَالَ: فَانْظُرِ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا تَدَعَنَّہُمَا، وَلَا تَشْخَصْ فِی الْفِتْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۰)
سلمہ بن نبیط کہتے ہیں: میرے باپ، دادا اور چچا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن پچھلے پہر سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ پھر میرے باپ نے مجھے تہجد کی نماز پڑھنے کا حکم دیا، لیکن میں نے کہا: اباجان! مجھ میں اتنیطاقت نہیں ہے، یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھر فجر سے پہلے دو رکعتوں کا خیال رکھنا اوران کو ہرگز ترک نہ کرنااور فتنہ میں اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنا۔
Musnad Ahmad
2311
۔ (۲۳۱۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ حَبِیْبَ بْنَ مَسْلَمَۃَ أَتٰی قَیْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فِی الْفِتْنَۃِ الْأُوْلٰی وَھُوَ عَلٰی فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: اِرْکَبْ فَأَبٰی، فَقَالَ لَہُ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: صَاحِبُ الدَّابَّۃِ أَوْلٰی بِصَدْرِھَا۔)) فَقَالَ لَہُ حَبِیْبٌ اِنِّی لَسْتُ أَجْہَلُ مَا قَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنِّی أَخْشٰی عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۷)
عبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ ، لیکن سیّدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر( کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔
Musnad Ahmad
8462
۔ (۸۴۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمُ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
Musnad Ahmad
8532
۔ (۸۵۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَ یْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمْ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Musnad Ahmad
9306
۔ (۹۳۰۶)۔ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِثْنَتَانِ یَکْرَہُھُمَا ابْنُ آدَمَ، اَلْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَۃِ، وَیَکْرَہُ قِلَّۃَ الْمَالِ، وَقِلَّۃُ الْمَالِ اَقَلُّ لِلْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۲۴)
۔ سیدنا محمو د بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، ابن آدم تو ان کو ناپسند کرتا ہے (لیکن حقیقت میں وہ دونوںاس کے لیے بہتر ہیں)، ایک موت ہے، اور موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے اور دوسری قلت مال ہے، حالانکہ قلت ِ مال کی وجہ سے حساب قلیل ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
12069
۔ (۱۲۰۶۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ عَلَیْنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَقُلْنَا لَہُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی الْفِتْنَۃِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ بَعْدِی قَوْمٌ، یَأْخُذُونَ الْمُلْکَ، یَقْتُلُ عَلَیْہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) قَالَ: قُلْنَا لَہُ: لَوْ حَدَّثَنَا غَیْرُکَ مَا صَدَّقْنَاہُ، قَالَ: فَإِنَّہُ سَیَکُونُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۰)
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریںگے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔
Musnad Ahmad
12429
۔ (۱۲۴۲۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میںسے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔
Musnad Ahmad
12651
۔ (۱۲۶۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔
Musnad Ahmad
12798
۔ (۱۲۷۹۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اَخًا لِاَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَتَسَرَّعُ فِیْ الْفِتْنَۃِ فَجَعَلَ یَنْہَاہُ وَلَا یَنْتَہِیْ فَقَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرٰی اِنَّہُ سَیَکْفِیْکَ مِنِّیْ الْیَسِیْرُ اَوْ قَالَ مِنَ الْمَوْعِظَۃِ دُوْنَ مَا اَرٰی‘ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا الآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ :((اِنَّہٗاَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۱۹)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔