TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہواخارج ہونے سے وضو کرنا

Chapter 2 of نواقض الوضو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 5 Hadith
۔ (۷۵۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَکُونُ بِالْبَادِیَۃِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَیْحَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِذَا فَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَائَ فِی أَعْجَازِہِنَّ، وَقَالَ مَرَّۃً: فِی أَدْبَارِہِنَّ)) (مسند أحمد:۶۵۵)
سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۷۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن سلام مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۱۱۶۶، وابوداود: ۲۰۵، ۱۰۰۵ (انظر: ۶۵۵)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کی وضاحت: معلوم ہوا کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا یعنی اس سے غیر فطری جماع کرنا حرام ہے، خاوندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عضو کو حق زوجیت کا محل قرار دیا ہے، اسی کو استعمال کریں۔ غیر فطری جماع سے مراد پائخانہ والی جگہ کو استعمال کرنا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو الٹا نہیں لٹا سکتا ، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) یعنی: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کے خیال کی تردید کی جا رہی ہے کہ چت لٹا کر مباشرت کی جائے یا پیٹ کے بل یا کروٹ پر، اس سے اولاد میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ضروری یہ ہے کہ ہر صورت میں عورت کی مباشرت والی جگہ ہی استعمال ہو۔
758
Zaeef
۔ (۷۵۹)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ: رَأَیْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ ؓ یَشُمُّ ثَوْبَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: مِمَّ ذَالِکَ؟ فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا وُضُوئَ اِلَّا مِنْ رِیْحٍ أَوْ سِمَاعٍ)) (مسند أحمد: ۱۵۵۹۱)
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔
Takhreej
(۷۵۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۱۶ (انظر: ۱۵۵۰۶)
Explanation
فوائد:… یہ حکم اس شخص کے لیے ہے، جس کو وضو کر لینے کے بعد وضو کے ٹوٹ جانے کا شک پڑ جائے،یعنی جب تک اسے بدبو پا لینے یا آواز سن لینے کے ساتھ یہ یقین نہ ہو جائے کہ واقعی وضو ٹوٹ گیا ہے، تو اس کا پہلا وضو برقرار رہے گا۔ اگلی حدیث کے فوائد میں مذکورہ حدیث سے یہی مفہوم واضح ہو رہا ہے۔
759
Sahih
۔ (۷۶۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا وُضُوْئَ اِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِیْحٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۰۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کرنا نہیں ہے، مگر ہوا کی آواز سے یا بو پا لینے سے۔
Takhreej
(۷۶۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۱۵ ، والترمذی: ۷۴ (انظر: ۹۳۱۳)
Explanation
فوائد:… امام بیہقی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ درج بالا حدیث دراصل درج ذیل حدیث کا اختصار ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِذَا وَجَدَ اَحُدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ حَرَکَۃً فِیْ دُبُرِہٖ، فَاَشْکَلَ عَلَیْہِ اَحْدَثَ اَمْ لَمْ یُحْدِثْ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا اَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) … جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے اور اسے یہ شبہ پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو وہ اس وقت تک (نئے وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو نہ پا لے۔ (صحیح مسلم: ۳۶۲، واللفظ لاحمد: ۹۳۵۵) بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے اوپر والی احادیث کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
760
Sahih
۔ (۷۶۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ مَنْ أَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: فُسَائٌ أَوْ ضُرَاطٌ۔ (مسند أحمد: ۸۰۶۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بے وضو ہو جانے والا جب تک وضو نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ یہ سن کر حضرموت کے ایک باشندے نے ان سے سوال کیا: اے ابوہریرہ! حَدَث سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔
Takhreej
(۷۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۵، ۶۹۵۴، ومسلم: ۲۲۵(انظر: ۸۰۷۸)
Explanation
فوائد:… عام طور پر ہوا خارج ہونے سے ہی وضو ٹوٹتا ہے، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ ؓنے صرف اِس چیز کا ذکر کیا ہے۔
761
Sahih
۔ (۷۶۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمٰی مَوْلَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ امْرَأۃُ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْتَأْذِنُہُ عَلٰی أَبِیْ رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَہَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَبِیْ رَافِعٍ: ((مَالَک وَلَہَا یَا أَبَا رَافِعٍ؟)) قَالَ: تُؤْذِیْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ آذَیْتِیْہِ یَا سَلْمٰی؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا آذَیْتُہُ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ أَحْدَثَ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِہِمُ الرِّیَحُ أَن یَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِیْ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَیَقُوْلُ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّہَا لَمْ تَأْمُرْکَ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غلام سیدنا ابو رافعؓکی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔
Takhreej
(۷۶۲) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ البزار: ۲۸۰، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۷۶۵ (انظر: ۲۶۳۳۹)
762
Sahih