TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان

Chapter 4 of نواقض الوضو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 4 Hadith
۔ (۷۶۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ حَرْکَۃً فِیْ دُبُرِہِ فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ یُحْدِثْ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۹۳۴۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے، جس کی وجہ سے وہ اِس اشکال میں پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں وہ (وضو کے لیے) اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پالے۔
Takhreej
(۷۶۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۶۲ (انظر: ۹۳۵۵)
Explanation
فوائد:… دُبُر : اس لفظ کے یہ مختلف معانی ہیں: پیٹھ، سرین، ہر چیز کا پچھلا حصہ، آخری حصہ۔ لیکن یہاں اس سے مراد پائخانہ والی جگہ کے پاس والا اندرونی حصہ ہے۔
765
Sahih
۔ (۷۶۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا کَانَ فِی الصَّلٰوۃِ جَائَ ہُ الشَّیْطَانُ فَأَبَسَّ بِہٖ کَمَا یَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَاِذَا سَکَنَ لَہُ أَضْرَطَ بَیْنَ اِلْیَتَیْہِ لِیَفْتِنَہُ عَنْ صَلَاتِہِ، فَاِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ مِنْ ذَالِکَ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا لَا یَشُکُّ فِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۵۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے لیے کے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔
Takhreej
(۷۶۶) تخریج: اسنادہ قوی (انظر: ۸۳۶۹)
766
Sahih
۔ (۷۶۷)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ وَہُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَاخُذُ شَعْرَہُ مِنْ دُبُرِہِ فَیَمُدُّہَا فَیَرَی أَنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۳۴)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی دُبُر کے بَالَ پکڑ کر کھینچتا ہے، اس سے بندے کو یہ وہم ہو نے لگتا ہے کہ وہ ہوا خارج ہونے کی وجہ سے بے وضو ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی آدمی وضو کے لیے اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔
Takhreej
(۷۶۷) تخریج: حدیث حسن۔ أخرج نحوہ ابن ماجہ: ۵۱۴ (انظر: ۱۱۹۱۲)
767
Sahih
۔ (۷۶۸)۔عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ) ؓ، أَنَّہُ شَکَا اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ الشَّیئَ فِی الصَّلَاۃِ یُخَیَّلُ اِلَیہِ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((لَا یَنْفَتِلُ حَتَّی یَجِدَ رِیحًا أَو یَسْمَعَ صَوتًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔
Takhreej
(۷۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۷، ۱۷۷، ۲۰۵۶، ومسلم: ۳۶۱ (انظر: ۱۶۴۵۰)
Explanation
فوائد:… طہارت کے معاملے میں وسوسہ اور شک و شبہ ان لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، جو مذکورہ بالا احادیث میں پیش کیے گئے احکام سے غافل ہو جاتے ہیں، ہر انسان جانتا ہے کہ ہوا کے خارج ہونے کا تعلق صرف اس سوراخ اور اس کے ارد گرد کی جگہ سے نہیں ہے، جہاں سے گیس خارج ہوتی ہے، بلکہ انسان کا وجود اور طبیعت پہلے سے ہی آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان کو پورا شعور ہو جاتا ہے کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے والا ہے، اس لیے اگر کوئی آدمی اپنے سرینوںکے درمیان کوئی حرکت یا کوئی پھونک محسوس کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس سے ہوا خارج ہو گئی ہے، اگر شیطان اس کو اس قسم کے شبہ میں ڈالنے کی کوشش کرے تو وہ اپنے نفس سے آواز آنے یا بد بو آنے کی شرط لگا لے، وگرنہ اپنے احساس کو شیطانی وسوسے کا نتیجہ سمجھ کر دفع کر دے۔ جن لوگوں کو غسل، استنجا، پیشاب کے قطروں اور وضو کے بارے میں وسوسوںکی بیماری پڑ جاتی ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ شریعت کے پابند رہیں اور درج بالا احادیث پر غور کر کے شیطان کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں۔ میں بندۂ ناچیز میں وہمی اور وسوسی لوگوں کا علاج کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے، اس لیے جب تک میرے زندہ ہونے کا امکان ہو، اس قسم کے لوگ رابطہ کر سکتے ہیں، بلکہ ہر آدمی کو یہ مہارت حاصل ہونی چاہیے۔
768
Sahih