سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو کیا کرو۔
محمد بن طحلاء کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ سے کہا: تمہارے رضاعی باپ سُلَیم آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں کرتے، یہ سن کر انھوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓپر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دیتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کرتے تھے۔
ابو سفیان بن سعید بن مغیرہ، زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، جو کہ ان کی خالَہُ تھیں، انھوں نے ان کو ستو کا پیالَہ پلایا، پھر انھوں نے پانی منگوا کر کلی کی، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! کیا تم وضو نہیں کرو گے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس سے وضو کیا کرو۔
۔ (دوسری سند) ابو سفیان، سیدہ ام حبیبہؓ کے پاس گئے، انھوں نے اس کو ستو پلائے، وہ ستو پی کر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن سیدہ نے کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس چیز کو آگ نے چھوا ہے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدہ نے کہا: پیارے بیٹے! اس وقت تک ہر گز نماز نہ پڑھو، جب تک وضو نہ کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس کھانے کو آگ پر پکایا جائے، ہم ا سے کھا کر وضو کریں۔