مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان


۔ (۸۰۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَائَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ سَلَمَۃَ: اِنَّ ظِئْرَکَ سُلَیْمًا لَا یَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَیْمٍ وَقَالَ: أَْشْہَدُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا کَانَتْ تَشْہَدُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔ (مسند أحمد:۲۷۲۶۰)

محمد بن طحلاء کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ سے کہا: تمہارے رضاعی باپ سُلَیم آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں کرتے، یہ سن کر انھوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓپر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر شہادت دیتے ہوئے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کرتے تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۰۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۹۲۴ (انظر: ۲۶۷۲۴)