مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان

۔ (۸۳۳)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِذَا جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِاللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوْہُ بِذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۴۵۸)

زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔

۔ (۸۳۴)۔عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنَا أَبِیْ أَخْبَرَنَا أَبُوْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیُّ ؓ) أَنَّ أُبَیًّا حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قُلْتُ: الرَّجُلُ یُجَامِعُ أَہْلَہُ فَلَا یُنْزِلُ؟ قَالَ: ((یَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَۃَ مِنْہُ وَیَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۰۳)

سیدنا ابیؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنے بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کا جو حصہ عورت کو لگا ہے، وہ اس کو دھو لے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔

۔ (۸۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ، فَقَالَ لَہُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ؟) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِذَا أُعْجِلْتَ أَو أُقْحِطتَّ فَلَا غُسْلَ عَلَیکَ، عَلَیْکَ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۷۹)

سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔

۔ (۸۳۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قُبَائَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَمَرَرْنَا فِی بَنِیْ سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ بَنِیْ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلٰی بَطْنِ امْرَأَتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ اِزَارَہُ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ۔)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ اِذَا أَتٰی امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ عَلَیْہَا مَاذَا عَلَیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۴۵۴)

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

۔ (۸۳۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیِّ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۷۲)

سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے استعمال کیا جاتا ہے۔