۔ (۸۳۳)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِذَا جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِاللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوْہُ بِذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۴۵۸)
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔
Takhreej
(۸۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۹، ومسلم: ۳۴۷ (انظر: ۴۵۸)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث منسوخ ہو گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
833
Sahih