TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 833 - غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۳)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِذَا جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِاللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوْہُ بِذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۴۵۸)
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔
833
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۹، ومسلم: ۳۴۷ (انظر: ۴۵۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ حدیث منسوخ ہو گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔

Related Chapters

207
1
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
Musnad Ahmad
3
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
Musnad Ahmad
4
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
6
مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
(76)Chapter: What Has Been Related About Ghusl For Janabah
باب: غسل جنابت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Obligation Of Hajj While One Has The Provisions And The Means Of Conveyance
باب: سفر کے خرچ اور سواری ہونے سے حج کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
11
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
Musnad Ahmad
12
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
13
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
14
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
15
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
17
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
18
خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
Musnad Ahmad
19
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
20
(18) CHAPTER. The removing of water from one's body with one's hands after taking the bath of Janaba.
اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا ( سنت نبوی ہے )
Sahih Bukhari
21
(22) CHAPTER. If a woman has a wet dream (nocturnal sexual discharge).
اس بیان میں کہ جب عورت کو احتلام ہو تو اس پر بھی غسل واجب ہے
Sahih Bukhari
22
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
23
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
Sahih Muslim
24
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
25
Chapter: Ghusl on Friday is obligatory for all adult men, and clarifying what they were ordered regarding it
ہر بالغ مرد کےلیے جمعے کا غسل واجب ہے اور انھیں جو حکم دیا گیا اس کا بیان
Sahih Muslim
26
Chapter: The Obligation To Follow Him (SAW)
شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں )
Sahih Muslim
27
CHAPTER: Water Does Not Become Junub (Impure).
باب: غسل جنابت کا بچا ہوا پانی نجس نہیں ہوتا ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Regarding The Ghusl For Janabah.
باب: غسل جنابت کے طریقے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Performing Wudu’ After Ghusl.
باب: غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
32
غسل جنابت کا طریقہ
Sunnan Ibn e Maja
33
غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
34
کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
35
غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
36
عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ
Sunnan Ibn e Maja
37
انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
38
غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
39
غسل جنابت کے وقت عورت کا اپنی چوٹیاں نہ کھولنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
غسل جنابت میں پہلے وضو کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح نہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
غسل جنابت میں سر کی پوری جلد تک پانی پہنچانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
جمعہ کے دن غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
(78)Chapter: What Has Been Related About Under Each Hair Is Sexual Impurity.
باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Umrah: Is It Required Or Not?
باب: کیا عمرہ واجب ہے یا واجب نہیں ہے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Those From Whom Punishment Is Not Required
باب: جن پر حد واجب نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے
Jam e Tirmazi
49
ایمان کے ابواب
Mishkat
50
بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ
کن کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

64
Musnad Ahmad
715
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
836
۔ (۸۳۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قُبَائَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَمَرَرْنَا فِی بَنِیْ سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ بَنِیْ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلٰی بَطْنِ امْرَأَتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ اِزَارَہُ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ۔)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ اِذَا أَتٰی امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ عَلَیْہَا مَاذَا عَلَیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۴۵۴)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
3
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
Musnad Ahmad
13
۔ (۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی،لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ سَحَّائُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) وَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَغِضْ مَا فِی یَمِیْنِہِ۔)) قَالَ: ((وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ، بِیَدِہِ الْأُخْرَی الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۰۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
121
۔ (۱۲۱)۔عَنْ حَکِیْمٍ بْنِ حِزَامٍؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ أُمُوْرًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ عَتَاقَۃٍ وَ صِلَۃِ رَحِمٍ ہَلْ لِیْ فِیْہَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۹۲)
سیدنا حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔
Musnad Ahmad
132
۔ (۱۳۲)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِؓأَنَّہٗ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ اِنْ لَقِیْتُ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِیْ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ فَضَرَبَ اِحْدٰی یَدَیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَہَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّیْ بِشَجَرَۃٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلّٰہِ، أُقَاتِلُہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَقْتُلُہٗ أَمْ أَدَعُہٗ بَعْدَ أَنْ قَالَہَا) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقْتُلْہُ فَاِنْ قَتَلْتَہٗ فَاِنَّہٗ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَہٗ وَ أَنْتَ بِمَنْزِلَتِہٖ قَبْلَ أَنْ یَقُوْلَ کَلِمَتَہٗ الَّتِیْ قَالَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۳۲)
سیدنا مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک کافر آدمی سے میرا ٹاکرا ہو جائے، وہ مجھ سے لڑ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو ایک ایک ضرب لگائیں، لیکن وہ میرے ہاتھ کو تلوار سے ایسی ضرب لگائے کہ اس کو کاٹ دیے اور پھر مجھ سے پناہ طلب کرنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں جا کر یہ کہنے لگ جائے: میں اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں، اے اللہ کے رسول! اب کیا میں اس سے لڑائی کروں؟ ایک روایت میں ہے: یہ بات کہنے کے بعد کیا میں اس کو قتل کر دوں یا چھوڑ دوں۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اس کو قتل نہ کر، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو اِس قتل سے پہلے اسلام والی جو تیری حالت تھی، وہ اس میں آ جائے گا اور اِس قبولیت ِ اسلام والی بات سے پہلے جو اُس کی حالت تھی، تو اُس میں چلا جائے گا۔
Musnad Ahmad
141
۔ (۱۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَعَ رَاکِبَانِ فَلَمَّا رَآہُمَا قَالَ: ((کِنْدِیَّانِ مَذْحِجِیَّانِ۔)) حَتَّی أَتَیَاہُ فَاِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ۔ قَالَ: فَدَنَا اِلَیْہِ أَحَدُہُمَا لِیُبَایِعَہُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِیَدِہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ رَآکَ فَآمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ مَا ذَا لَہُ؟ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہٖ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّی أَخَذَ بِیَدِہِ لِیُبَایِعَہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ وَلَمْ یَرَکَ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہِ فَانْصَرَفَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۳)
سیدنا ابو عبد الرحمن جہنیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتاہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھراس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔
Musnad Ahmad
190
۔ (۱۹۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ ابْنِ أَبِیْ خُزَامَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَأَیْتَ دَوَائً نَتَدَاوٰی بِہِ وَرُقًی نَسْتَرْقِیْ بِہَا وَ تُقًی نَتَّقِیْہَا تَرُدُّ مِنْ قَدْرِاللّٰہِ شَیْئًا؟ قَالَ: ((اِنَّہَا مِنْ قَدْرِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۵۱)
سیدنا ابو خزامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔
Musnad Ahmad
217
۔ (۲۱۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ فِیْہِ، أَفِیْ أَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ((فِیْمَا قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ، فَاعْمَلْ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَاِنَّ کُلًّا مُیَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلسَّعَادَۃِ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشَّقَائِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلشَّقَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ اس (تقدیر)کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بد بختوںمیں سے ہو، وہ بد بختی کے لیے عمل کرتا ہے۔