مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو

۔ (۸۴۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۷۱۰)

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

۔ (۸۴۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (مسند أحمد: ۶۶۷۰)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والے دو مقامات مل جاتے ہیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

۔ (۸۴۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ وَأَجْہَدَ نَفْسَہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جَہَدَہَا) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ۔)) (مسند أحمد: ۸۵۵۷)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں میں بیٹھ جائے اور پھر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے (ایک روایت کے مطابق پھر اسے (بیوی کو) مشقت میں ڈالے) تو غسل واجب ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔

۔ (۸۴۴)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی (الْأَشْعَرِیِّ) ؓ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: اِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ مِنْکِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْیِیْ، فَاِنَّمَا أَنَا أُمُّکِ، فَسَأَلَہَا عَنِ الرَّجُلِ یَغْشٰی وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۶۲)

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔

۔ (۸۴۵)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۶)

سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔

۔ (۸۴۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا یُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَائِ یَکُونُ بَعْدَ الْمَائِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْبَیْتِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاکَلَۃِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اَمَّا أَنَا فَاِذَا فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا، فَذَکَرَ الْغُسْلَ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ وُضُوئِیْ لِلصَّلَاۃِ أَغْسِلُ فَرْجِیْ ثُمَّ ذَکَرَ الْغُسْلَ، وَأَمَّا الْمَائُ یَکُوْنُ بَعْدَ الْمَائِ فَذَالِکَ الْمَذْیُ وَکُلُّ فَحْلٍ یُمْذِیْ فَأَغْسِلُ مِنْ ذَالِکَ فَرْجِیْ وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلٰوۃُ فِی الْمَسْجِدِ وَالصَّلٰوۃُ فِیْ بَیْتِیْ فَقَدْ تَرٰی مَا أَقْرَبَ بَیْتِیْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِی أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّیَ فِی الْمَسْجِدِ اِلَّا أَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً، وَأَمَّا مُؤَاکَلَۃُ الْحَائِضِ فَآکُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۱۶)

سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوالات کیے: کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے، پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم، گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، رہا مسئلہ میرا تو جب میں ایسے ایسے کرتا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں، اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا، تو یہ مذی ہے اور ہر نر کو مذی آ جاتی ہے، میں اس کی وجہ سے اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں، جہاں تک مسجد اور گھر میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر میری مسجد کے بالکل قریب ہے، لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، الا یہ کہ فرضی نماز ہو، اور رہا مسئلہ حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں۔