TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 845 - ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۵)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۶)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔
845
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۲۶۷۵ (انظر: ۲۲۰۴۶)

Related Chapters

35
1
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
Musnad Ahmad
2
مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے
Sunnan Ibn e Maja
4
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
5
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
Musnad Ahmad
6
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
Sahih Muslim
7
Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl)
عزل (انزال کے وقت علیحدہ ہو جانے کےبارے میں)شریعت کاحکم
Sahih Muslim
8
CHAPTER: Intercourse Without Ejaculation.
باب: دخول سے انزال کے بغیر غسل کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
تصویروں کو پامال اور روندی جانے والی جگہوں میں رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
(109)Chapter: What Has Been Related About Wudu Due To What One Has Walked In
باب: گندی جگہوں پر سے ننگے پاؤں گزرنے سے پاؤں دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
15
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
16
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
Musnad Ahmad
17
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
Musnad Ahmad
18
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
Musnad Ahmad
19
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
Musnad Ahmad
20
رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
Musnad Ahmad
21
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
22
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
Musnad Ahmad
23
جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
Musnad Ahmad
24
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
25
یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
Musnad Ahmad
26
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
(53) CHAPTER. (What is said about) offering Salat (prayer) at the places where the earth had sunk down and Allah's punishment had fallen.
دھنسی ہوئی جگہوں میں یا جہاں کوئی اور عذاب اترا ہو وہاں نماز ( پڑھنا کیسا ہے ؟ )
Sahih Bukhari
30
(7) CHAPTER. To offer the optional non-obligatory Salat (Nawafil) on the back of animals (Rahila) in whatever direction the animal goes.
نفل نماز سواری پر ، اگرچہ سواری کا رخ کسی طرف ہو
Sahih Bukhari
31
(10)CHAPTER. The Statement of Allah: “…And (they) give them (emigrants) preference over themselves, even though they were in need of that...” (V.59:9)
اس آیت کی تفسیر میں ” اور اپنے نفسوں پر وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں ، اگرچہ خود وہ فاقہ ہی میں مبتلاہوں “
Sahih Bukhari
32
CHAPTER: The Places Where It Is Prohibited To Urinate.
باب: ان جگہوں کا بیان جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے سے روکا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Places In Which Prayer Is Not Allowed.
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
Chapter: Places Where it Is Disliked To Perform Prayer
جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
Chapter: Swearing An Oath At The Time Of Usurping People's Rights
حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

21
Musnad Ahmad
844
۔ (۸۴۴)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی (الْأَشْعَرِیِّ) ؓ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: اِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ مِنْکِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْیِیْ، فَاِنَّمَا أَنَا أُمُّکِ، فَسَأَلَہَا عَنِ الرَّجُلِ یَغْشٰی وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۶۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Musnad Ahmad
840
۔ (۸۴۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُہَیْرٌوَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحٰقَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیبَۃَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ وَکَانَ عَقَبِیًّا بَدَرِیًّا، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِیْلَ لَہُ: اِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یُفْتِی النَّاسَ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ: یُفْتِی النَّاسَ بِرَأْیِہِ فِی الَّذِیْ یُجَامِعُ وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِہِ، فَأَتٰی بِہِ فَقَالَ: یَا عَدُوَّ نَفْسِہِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِیَ النَّاسَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَأْیِکَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِیْ عُمُومَتِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَیُّ عُمُومَتِکَ؟ قَالَ: أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ زُہَیْرٌ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ وَرِفَاعَۃُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ اِلَیَّ وَقَالَ: مَا یَقُوْلُ ھٰذَا الْفَتٰی؟ وَقَالَ زُہَیْرٌ: مَا یَقُولُ ھٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: کُنَّا نَفْعَلُہُ فِی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِہِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلٰی أَنَّ الْمَائَ لَا یَکُونُ الِاَّ مِنَ الْمَائِ اِلَّا رَجُلَیْنِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِھٰذَا أَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَرْسَلَ اِلٰی حَفْصَۃَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِیْ، فَأَرْسَلَ اِلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ یَعْنِی تَغَیَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا یَبْلُغُنِیْ أَنَّ أَحَدًا فَعَلَہُ وَلَا یَغْتَسِلُ اِلَّا أَنْہَکْتُہُ عُقُوْبَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۳)
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوے دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓکی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔
Jam e Tirmazi
108
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
Aishah narrated: When the circumcised meets the circumcised, then indeed Ghusl is required. Myself and Allah's Messenger did that, so we performed Ghusl.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
109
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ.
Aishah narrated that : the Prophet said: When the circumcised meets the circumcised then Ghusl is required.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مرفوع حدیث مروی ہے کہ ”جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے“ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہو گیا۔
Mishkat
442
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، میں اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے کیا تو ہم نے غسل کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی وابن ماجہ ۔
Sahih Muslim
785
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ: لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ أَوْ مِنَ الْمَاءِ. وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّاهْ - أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، قُلْتُ: فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ»
Abu Musa reported: There cropped up a difference of opinion between a group of Muhajirs (Emigrants and a group of Ansar (Helpers) (and the point of dispute was) that the Ansar said: The bath (because of sexual intercourse) becomes obligatory only-when the semen spurts out or ejaculates. But the Muhajirs said: When a man has sexual intercourse (with the woman), a bath becomes obligatory (no matter whether or not there is seminal emission or ejaculation). Abu Musa said: Well, I satisfy you on this (issue). He (Abu Musa, the narrator) said: I got up (and went) to 'A'isha and sought her permission and it was granted, and I said to her: 0 Mother, or Mother of the Faithful, I want to ask you about a matter on which I feel shy. She said: Don't feel shy of asking me about a thing which you can ask your mother, who gave you birth, for I am too your mother. Upon this I said: What makes a bath obligatory for a person? She replied: You have come across one well informed! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When anyone sits amidst four parts (of the woman) and the circumcised parts touch each other a bath becomes obligatory.
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابو بردہ کے حوالے سے ( ان کے والد ) حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا ۔ انصار نے کہا : غسل صرف ( منی کے ) زور سے نکلنے یا پانی ( کے انزال ) سے فرض ہوتا ہے او رمہاجرین نے کہا : بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ( ابو بردہ نے ) کہا : حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں ، میں اٹھا اور حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی ، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا : میری ماں ، یا کہا : ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ھوں او رمجھے آپ سے شرم ( بھی ) آر ہی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے ( اپنے پیٹ سے ) تمہیں جنم دیا ، پوچھ سکتے تھے ، وہ مجھ سے پوچھناے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔ میں نے کہا : تو کون سا ( کام ) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا : تم ( اس مسئلے کے متعلق ) اس سے ملے ہو جو ( اس سے ) اچھی طرح باخبر ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا رشاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مَس ہوئی تمو غسل واجب ہو گیا ۔ ‘ ‘
Jam e Tirmazi
2756
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ:‏‏‏‏ الِاسْتِحْدَادُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخِتَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَصُّ الشَّارِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَتْفُ الْإِبْطِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Five are from the Fitrah: Cutting the pubic hair, circumcision, paring the mustache, plucking the under arm hair and trimming the fingernails.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ۱؎، ( ۱ ) شرمگاہ کے بال مونڈنا، ( ۲ ) ختنہ کرنا، ( ۳ ) مونچھیں کترنا، ( ۴ ) بغل کے بال اکھیڑنا، ( ۵ ) ناخن تراشنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
379
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ) يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ - قَالَ الرَّاوِي: ونسيت الْعَاشِرَة إِلَّا أَن تكون الْمَضْمَضَة. رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَةٍ «الْخِتَانُ» بَدَلَ «إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي «الصَّحِيحَيْنِ» وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ «الْجَامِعِ» وَكَذَا الْخطابِيّ فِي «معالم السّنَن» :
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Mishkat
382
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں تمام رسولوں کی سنت ہیں : حیا ، کسی روایت میں ختنے کا ذکر ہے ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔‘‘ ضعیف ۔