TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 899 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
۔ (۸۹۹)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَطُوْفُ عَلٰی جَمِیْعِ نِسَائِہِ فِیْ لَیْلَۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْ لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ) بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۱۳۳۸۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (ہم بستری کرتے تھے اور آخر میں) ایک غسل کر لیتے تھے۔
899
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۹ (انظر: ۱۳۳۵۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت میں ہے: قتادہ نے سیدنا انس ؓسے پوچھا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اتنی طاقت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تیس افراد کی قوت دی گئی ہے۔ فوائد:… پہلی حدیث استحباب اور افضلیت پر اور دوسری جواز پر دلالت کرتی ہے، اور اس امر سے متعلقہ تیسرا عمل درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو درمیان میں وضو کر لے۔ (صحیح مسلم) اور ابن حبان اور حاکم کی روایت میں ہیں: کیونکہ اس وضو سے دوبارہ آنے کے لیے زیادہ نشاط اور مستعدی پیدا ہو گی۔

Related Chapters

53
1
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
Musnad Ahmad
2
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
3
(12) CHAPTER. Having sexual intercourse and repeating it. And engaging with one's own wives and taking a single bath (after doing so).
جس نے جماع کیا اور پھر دوبارہ کیا اور جس نے اپنی کئی بیویوں سے ہمبستر ہو کر ایک ہی غسل کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
4
(103) CHAPTER. Whoever had sexual intercourse with all his wives and then took one bath only.
مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
5
ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
6
(106)Chapter: What Has Been Related About A Man Going To All Of His Women With One Ghusl
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
Mishkat
8
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
12
بیویوں کے درمیان تقسیم اور کنواری اور بیوہ بیوی کے پاس خاوند کے قیام کی مدت کا بیان
Musnad Ahmad
13
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
14
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
Sahih Bukhari
15
(120) CHAPTER. The saying of a man: “I will go round (i.e., have sexual relations with) all my wives tonight.”
کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ۔
Sahih Bukhari
16
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
Sahih Muslim
17
CHAPTER: Regarding A Man Who Was Married To More Than Four Women, Or To Two Sisters, And Then He Accepts Islam.
باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: زائد بالوں کا گچھا اپنے بال میں جوڑنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
22
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
24
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
25
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
26
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
Musnad Ahmad
27
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
29
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
30
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
32
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
Musnad Ahmad
33
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
34
سورۂ شعراء سورۂ شعراء کا ان سورتوں میں سے ہونا، جن کی آیات دو سو سے زائد ہیں
Musnad Ahmad
35
عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
Musnad Ahmad
36
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
37
(61) CHAPTER. As-Sadaqa (alms) for the freed slave-girls of the wives of the Prophet (do they accept things given in charity)?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی لونڈیوں اور غلاموں کو صدقہ دینا درست ہے
Sahih Bukhari
38
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
39
(4) CHAPTER. What has been said regarding the houses of the wives of the Prophet (p.b.u.h) and that which were named after them of the houses (e.g., Aishah's house).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں کا ان کی طرف منسوب کرنا
Sahih Bukhari
40
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
Sahih Bukhari
41
(26) CHAPTER. (The Statement of Allah:) '...your step-daughters under your guardianship, born of your wives. To whom you have gone in (consummated your marriage)...” (V.4:23)
اللہ کے اس فرمان کا بیان اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی لڑکیاں ۔
Sahih Bukhari
42
(98) CHAPTER. To draw lots among one's wives when one intends to go on a journey (in order to take one of them with).
سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لئے قرعہ ڈالنا ۔
Sahih Bukhari
43
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
44
Chapter: The prohibition of selling surplus water which is in the wilderness and is needed to take care of the pasture. The prohibition of not allowing others to use it. The prohibition of Stud fees
ایسا زائد پانی بیچنا حرام ہے جو بیابان میں ہو اور گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو‘اسے استعمال کرنے سے روکنا (بھی)حرام ہے ‘اور نرکی جفتی کی اجرت لینا حرام ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: It is recommended to mix provisions if they are few, and to share them out
زائد از ضرورت مال سے کسی کی دلداری کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
46
Chapter: Additional rewards, and ransoming muslims in return for prisoners
زائد عطیہ دینا اور قیدیوں کے ذریعے سے مسلمانوں کا فدیہ دینا
Sahih Muslim
47
Chapter: The First Group To Enter Paradise Will Look Like The Moon When It Is Full; Their Attributes And Their Spouses
پہلے زمرے میں جنت میں داخل ہونے والے چودھویں کی رات کے چاند جیسے ہوں گے،ان کے احوال اور ان کی بیویوں کابیان
Sahih Muslim
48
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
Silsila Sahih
49
CHAPTER: Regarding Selling Food When There Is Surplus For The People In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding One Who Manumits Slaves Of His That Exceed One Third Of His Property.
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

43
Musnad Ahmad
45
۔ (۴۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: لَا یُشْرِکُ بِہِ) دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: (( لَا، إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَتَّکِلُوْاعَلَیْہَا۔)) أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۳۳)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سیدنا معاذ ؓ سے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو ا س حال میں ملے کہ وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکّل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔
Musnad Ahmad
97
۔ (۹۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۶۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ جو خیر و بھلائی وہ اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے۔
Musnad Ahmad
453
۔ (۴۵۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ نَاسًا أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عُکْلٍ فَاجْتَوَوُا الْمَدِیْنَۃَ فَأَمَرَ لَہُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ، فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَشْرَبُوْا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۷)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور مدینہ کی آب و فضا کو نا موافق پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کیلئے دودھ والی اونٹنیوں کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔
Musnad Ahmad
1222
۔ (۱۲۲۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ نَسِیَ صَلَاۃً أَوْ نَامَ عَنْہَا فَاِنَّمَا کَفَّارَتُہَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَکَفَّارَتُہَا) أَنْ یُصَلِّیَہَا اِذَا ذَکَرَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۹۵)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نماز کو بھول گیا یا اس سے سو گیا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس کو یاد آئے وہ اس کو ادا کرے۔
Musnad Ahmad
3
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
Musnad Ahmad
59
۔ (۵۹)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْإِسْلَامُ عَلَانِیَۃٌ وَالْإِیْمَانُ فِی الْقَلْبِ۔)) قَالَ: ثُمَّ یُشِیْرُ بِیَدِہِ إِلٰی صَدْرِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((التَّقْوَی ہٰہُنَا۔)) (مسند أحمد:۱۲۴۰۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام (اعضاء سے متعلقہ) علانیہ چیز ہے اور ایمان دل سے متعلقہ مخفی چیز ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ کیا اور پھر فرمایا: تقوی یہاں ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
60
۔ (۶۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا قَدْ نُہِیْنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ،فَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَجِیْئَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُوْلُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ أَرْسَلَکَ، قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِیْہَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَ خَلَقَ الْأَرْضَ وَ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ! آللّٰہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَ لَیْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکُ أَنَّ عَلَیْنَا زَکٰوۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَ زَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرِ رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ۔)) قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))،قَالَ: ثُمَّ وَلّٰی فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
131
۔ (۱۳۱)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓأَنَّ عِتْبَانَ اشْتَکٰی عَیْنُہٗ فَبَعَثَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہٗ مَا أَصَابَہٗ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَعَالَ صَلِّ فِیْ بَیْتِیَ حَتّٰی أَتَّخِذَہٗ مُصَلًّی، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَنْ شَائَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَ أَصْحَابُہٗ یَتَحَدَّثُوْنَ بَیْنَہُمْ فَجَعَلُوْا یَذْکُرُوْنَ مَا یَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ فَأَسْنَدُوْا عُظْمَ ذٰلِکَ اِلٰی مَالِکِ بْنِ دُخَیْشِمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ قَائِلٌ: بَلٰی وَمَا ہُوَ فِیْ قَلْبِہٖ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَلَنْ تَطْعَمَہُ النَّارُ، أَوْ قَالَ: لَنْ یَّدْخُلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۱۱)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدناعتبان ؓکی آنکھ میں تکلیف ہو گئی، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لاحق ہونے والی تکلیف کا پیغام بھیجا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائیں، میرے گھر میں ایک مقام پرنماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو جائے نماز بنا سکوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق چند صحابہ تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور صحابہ گفتگو میں مصروف ہو گئے، پھر وہ منافقوں کی طرف سے ہونے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے اور اس کا بڑا سبب مالک بن دخیشم کو قرار دیا، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے اور فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ ایک آدمی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں، وہ یہ گواہی تو دیتا ہے، لیکن اس کے دل میں اس کے مطابق عقیدہ نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس بندے نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، تو ہرگز آگ اس کو نہیں کھائے گی یا (فرمایا) وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔
Musnad Ahmad
138
۔ (۱۳۸)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓقَال: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَدِدْتُّ أَنِّیْ لَقِیْتُ اِخْوَانِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : نَحْنُ اِخْوَانُکَ، قَالَ: (( أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ وَلٰکِنْ اِخْوَانِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِیْ وَلَمْ یَرَوْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۰۷)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔ صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ نے کہا: ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہے، جو بِن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔