TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10554 - ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 9 in this chapter
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
۔ (۱۰۵۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ اُبَشِّرَ خَدِیْجَۃَ بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔
10554
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۵۵۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۸۵، وابویعلی: ۶۷۹۷، وابن حبان: ۷۰۰۵ (انظر: ۱۷۵۸)

Related Chapters

764
1
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The Virtues Of Khadijah, The Mother Of The Believers (RA)
ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل:۔
Sahih Muslim
3
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
Musnad Ahmad
8
(18) CHAPTER. Whoever says that faith is action (good deeds).
اس شخص کے قول کی تصدیق میں جس نے کہا ہے کہ ایمان عمل ( کا نام ) ہے
Sahih Bukhari
9
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
10
(20) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Khadija ا and her superiority.
حضرت خدیجہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
11
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
12
۔ ایمان کی شاخوں کا بیان ، اعلیٰ کو ن سی ہے اور ادنیٰ کون سی ؟ حیا کی فضیلت اور وہ ایمان کا حصہ ہے
Sahih Muslim
13
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related Mentioning The Virtues Of 'Umrah
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Ramadan
باب: رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

30
Musnad Ahmad
123
۔ (۱۲۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْہَا عَصَمُوْا دِمَائَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا وَ حِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَتِ الرَّدَّۃُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِیْ بَکْرٍؓ: تُقَاتِلُہُمْ وَ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ کَذَا وَ کَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍؓ: نُقَاتِلُہُمْ وَ اللّٰہِ، لَا أُفَرِّقُ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَ الزَّّکَاۃِ وَ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَہُ فَرَأَیْنَا ذَالِکَ رَشَدًا۔ (مسند أحمد: ۶۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابو بکر ؓ کے زمانے میں زکاۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر ؓ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر ؓ نے ان سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)، لیکن سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: پھر ہم نے سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔
Musnad Ahmad
126
۔ (۱۲۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَیْسًا (یَعْنِی بْنَ أَبِی أُوَیْسٍ الثَّقَفِیِّؓ) یَقُوْلُ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِی وَفْدِ ثَقِیْفٍ فَکُنَّا فِی قُبَّۃٍ فَقَامَ مَنْ کَانَ فِیْہَا غَیْرِیْ وَ غَیْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَارَّہُ فَقَالَ: اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: بَلٰی! وَلٰکِنَّہُ یَقُوْلُہَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: اذْہَبُوْا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُو ا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّّٰہُ، فَاِذَا قَالُوْہَا حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، فَقُلْتُ لِشُعْبَۃَ: أَلَیْسَ فِی الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ شُعبَۃُ: أَظُنُّہَا مَعَہَا وَلَا أَدْرِیْ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۰)
سیدنا اویس بن ابو ایس ثقفی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، ہم ایک قبّہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ایک روایت میں ہے: جاؤ اور اس کو جانے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ دیتے، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں تو ان کے خون اورمال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا کہ کیا وہ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَ نِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
10564
۔ (۱۰۵۶۴)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا ھَمَّامُ بْنُ یَحْیٰی قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَۃَیُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَالِکَ بْنَ صَعْصَعَۃَ، أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَھُمْ عَنْ لَیْلَۃٍ أُسْرِیَ بِہٖقَالَ: ((بَیْنَا أَنَا فِی الْحَطِیْمِ (وَرُبَمَا قَالَ قَتَادَۃُ: فِی الْحِجْرِ) مُضْطَجِعٌ اِذْ أَتَانِیْ آتٍ فَجَعَلَ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: الْأَوْسَطُبَیْنَ الثَّلَاثَۃِ، قَالَ: فَأَتَانِیْ فَقَدَّ (وَسِمْعُت قَتَادَۃَیَقُوْلُ: فَشَقَّ) مَا بَیْنَ ھٰذِہِ اِلٰی ھٰذِہِ، (قَالَ قَتَادَۃُ: فَقُلْتُ لِلْجَارُوْدِ وَھُوَ اِلٰی جَنْبِیْ: مَا یَعْنِیْ؟ قَالَ: مِنْ ثُغْرِۃِ نَحْرِہِ اِلٰی شِعْرَتِہِ، وَقَدْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: مِنْ قُصَّتِہِ اِلٰی شِعَرَتِہِ) قَالَ: فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِیْ فَأُتِیْتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مَمَلُوْئَۃٍ اِیْمَانًا وَحِکْمَۃً فَغُسِلَ قَلْبِیْ، ثُمَّّ حُشِیَ ثُمَّّ أُعِیْدَ، ثُمَّّ أُتِیْتُ بِدَابَّۃٍ دُوْنَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْیَضَ (قَالَ: فَقَالَ الْجَارُوْدُ: ھُوَ الْبُرَاقُ؟ یَا أَبَا حَمْزَۃَ! قَالَ: نَعَمْ) یَقَعُ خَطْوُہُ عِنْدَ اَقْصٰی طَرْفِہِ، قَالَ: فَحُمِلْتُ عَلَیْہِ، فَانْطَلَقَ بِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی أَتٰی بِیَ السَّمَائَ الدُّنْیَا فَاسْتَفْتَحَ فَقِیْلَ مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ، قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، فَقَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا فِیْھَا آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: ھٰذَا أَبُوْکَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتٰی اِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَّۃِ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَ مَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا یَحْیٰی وَعِیْسٰی وَھُمَا اِبْنَا الْخَالَۃِ، فَقَالَ: ھٰذَا یَحْیٰی وَعِیْسٰی، فَسَلِّمْ عَلَیْھِمَا، قَالَ: فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ الثَّالِثَۃِ فَاسْتَفْتَحِ، فَقِیْلَ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا یُوْسُفُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا یُوْسُفُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ وَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ الرَّابِعَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ، قَالَ: نَعَمْ، فَقِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ قَالَ: فَاِذَا اِدْرِیْسُ عَلَیْہِ السِّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا اِدْرِیْسُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّّمَائَ الْخَامِسَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا ھٰرُوْنُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا ھٰرُوْنُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ السَّّادِسَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا أَنَا بِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا مُوْسٰی فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السِّلَامَ ثُمّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَکٰی، قِیْلَ لَہُ: مَا یُبْکِیْکَ؟ قَالَ: أَبْکِیْ لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِیْ ثُمَّّ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِہِ أَکْثَرُ مِمَّا یَدْخُلُھَا مِنْ أُمَّتِیْ، قَالَ: ثُمّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ السَّابِعَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدُ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: ھٰذَا اِبْرَاھِیْمُ فَسَلِّمَ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْإِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَتْ اِلَیَّ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، فَاِذَا نَبْقُھَا مِثْلُ قِلَالِ ھَجَرَ، وَاِذَا وَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ، فقَالَ: ھٰذِہِ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، قَالَ: وَاِذَا أَرْبَعَۃُ أَنْھَارٍ، نَھْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَھْرَانِ ظَاھِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا یَاجِبْرِیْلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَھْرَانِ فِیْ الْجَنَّۃِ وَأَمَّا الظَّاھِرَانِ فَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ، قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَ اِلٰی الْبَیْتُ الْمَعْمُوْرُ، (قَالَ قَتَادَۃُ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَأَی الْبَیْتَ الْمَعْمُوْرَ یَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَک ثُمَّّ لَا یَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ، ثُمَّّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ أَنَسٍ) قَالَ: ثُمَّّ أُتِیْتُ بِاِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَاِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ وَاِنَائٍ مِنْ عَسَلٍ، قَالَ: فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، قَالَ: ھٰذِہِ الْفِطْرَۃُ، أَنْتَ عَلَیْھَا وَأُمَّتُکَ، قَالَ: ثُمَّّ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: فَرَجَعْتُ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ، فَقَالَ: بِمَاِذَا أُمِرْتَ؟ قِیْلَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِأَرْبَعِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ أَرْبَعِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا أَخَرَ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ لِیْ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: اُمِرْتُ بِثَلَاثِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ لِثَلَاثِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمَعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا أَخَرَ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ لِیْ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِعِشْرِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ الْعِشْرِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ لِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ فَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسَ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَرَجَعْتُ اِلٰیمُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ سَأَلْتُ رَبِّیْ حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ وَلٰکِنْ اَرْضٰی وَاُسَلِّمُ، فَلَمَّا نَفَذْتُ نَادٰی مُنَادٍ قَدْ اَمْضَیْتُ فَرِیْضَتِیْ وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۸۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا مالک بن صعصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا، میرے پاس ایک آنے والا یعنی جبریل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آیا اور اس نے اپنے ساتھی سے کہا: ان تینوں میں درمیان میں لیٹے ہوئے (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں، پس وہ میرے پاس آیا اور اس جگہ سے اس جگہ تک لمبائی میں چاک کردیا، قتادہ کہتے ہیں: میں نے اپنے پہلو میں بیٹھنے والے جارود سے پوچھا: اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد کیا تھی؟ انھوں نے کہا: ہنسلی کیہڈیوں کے درمیان والی پست جگہ سے لے کر شرمگاہ کے بال اگنے والی جگہ تک پیٹ کو چاک کر دیا، پھر میرا دل نکالا گیا، ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا سونے کا تھال میرے پاس لایا گیا، پھر میرے دل کو دھو کر ایمان اور حکمت سے بھر دیا گیا اور پھر اصل حالت میںلوٹا دیا گیا، بعد ازاں میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا لگ رہا تھا۔ جارود راوی نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ جانور براق تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس جانور کا قدم اس کی منتہائے نگاہ تک جاتا تھا، میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو اس پر سوار کر لیا گیا اور حضرت جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ مجھے آسمانِ دنیا تک لے آئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آنا بہترین آمد ہے، پس آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آدم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ آپ کے باپ آدم ہیں، ان کو سلام کہو، میں نے ان پر سلام کہا، انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا،پھر جبریل آگے بڑھے اور دوسرے آسمان تک پہنچ گئے، وہاں دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: اور تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیm تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہیحییٰ اور عیسی ہیں، ان کو سلام کہو، پس میں سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ مجھے لے کر تیسرے آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ کا آنا بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھا وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تشریف فرما تھے، جبریل نے کہا: یہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ چوتھے آسمان تک پہنچ گئے اور کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: مرحبا، ان کاآنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، پھر جب میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ادریس ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اورصالح نبی کو مرحبا۔بعد ازاں جبریل علیہ السلام پانچویں آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے، اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ہارون علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انھوں نے کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، پھر انھوں نے چڑھنا شروع کیا،یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے داخل ہوا تو دیکھا موسی علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ موسی ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، جب میں ان سے آگے بڑھا تو انھوں نے رونا شروع کر دیا، ان سے کہا گیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک آدمی میرے بعد مبعوث کیا گیا، لیکن میری امت کی بہ نسبت اس کی امت کی اکثریت جنت میں داخل ہو گی، پھر وہ آگے کو بڑھے اور ساتویں آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل، کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آنا آئے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا، پھر میرے لیے سدرۃالمنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھوں کے کانوں کی طرح تھے، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ سدرۃ المنتہی ہے، وہاں چار نہریں تھیں، دو نہریں مخفی تھیں اور دو ظاہری، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا۔ امام حسن بصری نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت ِ معمور کو دیکھا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر وہ دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر راوی سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا، ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا، میں نے دودھ پکڑ لیا، اس نے کہا: یہ فطرت ہے، آپ اور آپ کی امت فطرت پر ہیں، پھر مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، لیکن جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک تیری امت پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں بنی بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں، پھر جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں چالیس نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں چالیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کے ساتھ معاملات کو بڑی سختی سے نمٹایا ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، سو میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، پھر میں موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے کہا: آپ کو کس عمل کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو پرکھ چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی سے معاملات انجام دیئے ہیں، لہٰذا آپ لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس لوٹا تو انھوں نے وہی سوال کیا کہ آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے، میں نے کہا: جی ایک دن میں بیس نمازوں کا، انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ آپ کی امت ایک دن میں بیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنواسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا اپنے ربّ کی طرف لو جاؤ اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کرو، پس میں لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں دس نمازوں کا حکم دیا گیا، لیکن جب میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے تو میں نے کہا: جی ایک دن میں دس نمازوں کا، انھوں نے اب کی بار پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں دس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کی جانچ پڑتال کر چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل بڑی سختی کے ساتھ آزمایا ہے، لہٰذا تو اپنے ربّ کی طرف لوٹ جا اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کر، پس میں پھر لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا، میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا؟ میں نے کہا: مجھے ایک دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میںپانچ نمازیں ادا نہیں کر سکتی اور میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی کے ساتھ مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، اب کی بار میں نے کہا: میں نے اپنے ربّ سے اتنی بار سوال کر لیا ہے کہ میں اس سے شرماتا ہوں، اب میں اسی پر راضی ہوتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں، پس جب میں آگے کو گزرا تو آواز دینے والے نے آواز لگائی: تحقیق میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کی ہے۔‘‘
Musnad Ahmad
124
۔ (۱۲۴)۔وَ عَنْہُ فِی أُخْرَی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُوا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَ یُؤْتُواالزَّکَاۃَ ثُمَّ قَدْ حَرُمَ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ وَ حِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۸۳۴)
۔ (دوسری روایت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں، جب تک ایسا نہ ہوجائے کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ کہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اس طرح سے ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جائیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہوگا۔
Musnad Ahmad
125
۔ (۱۲۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَإِذَا شَہِدُوْا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَ أَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَ صَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ وَ عَلَیْہِمْ مَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۳۸۱)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں، جب وہ یہ گواہی دیں گے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں گے اور ہمارا ذبیحہ کھائیں گے اور ہمارے والی نماز پڑھیں گے تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہو جائیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کو وہی حقوق ہوں گے، جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی، جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔
Musnad Ahmad
553
۔ (۵۵۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَیَنْزِلُ فِیْہِ قُرْآنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۲۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیاگیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔
Musnad Ahmad
555
۔ (۵۵۵)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۰۳)
سیدنا واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔
Musnad Ahmad
718
۔ (۷۱۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَؓأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَہُ بِکُوْزٍ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا یَا عُمَرُ؟)) قَالَ: مَائٌ تَوَضَّأْ بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((مَا أُمِرْتُ کُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَالِکَ کَانَتْ سُنَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۵۰)
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کر رہے تھے، سیدنا عمرؓ برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: عمر! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی ہے، آپ اس کے ساتھ وضو کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں، اور اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قابلِ پیروی طریقہ بن جائے گا۔
Musnad Ahmad
1455
۔ (۱۴۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰییَشْہَدُوْا أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مَحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَإِذَا شَہِدُوْا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَأَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَأَمْوَ الُھُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، لَھُمْ مَالِلْمُسْلِمِیْنَ وَعَلَیْہِمْ مَاعَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۸۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ گواہی دے دیں گے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں گے، ہمارا ذبیحہ کھائیں گے او رہماری نماز پڑھیں گے تو ان کے خون و مال ہم پر حرام ہو جائیں گے،مگر حق کے ساتھ اوران کے لیے وہی ہو گا جو دوسرے عام مسلمانوں کے لیے ہے او ران پر بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔