TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 16 · 10 Hadith
۔ (۱۳۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا یَسْمَعُ بِیْ أَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ وَمَاتَ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۸۸)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۳ (انظر: ۸۲۰۳)
Explanation
فوائد: …چونکہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب تھے اور وہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعثت سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی معرفت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان نہ لانا، یہ بڑا جرم ہے، اس وجہ سے حدیث ِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ جو غیر مسلم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان نہیں لائے گا، وہ آخرت میں ناکام و نامراد ہو گا۔
133
Sahih
۔ (۱۳۴)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَ فِیْہِ ((لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((اِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۵)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وہ جہنمیوں میں سے ہو گا کی بجائے یہ الفاظ ہیں: وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الطیالسی: ۵۰۹، والنسائی فی الکبری : ۱۱۲۴۱، وابن حبان: ۴۸۸۰ (انظر: ۱۹۵۳۶)
134
Sahih
۔ (۱۳۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَو آمَنَ بِیْ عَشَرَۃٌ مَنْ أَحْبَارِ الْیَہُوْدِ لَآمَنَ بِیْ کُلُّ یَہُودِیٍّ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ۔)) قَالَ کَعْبٌ: اِثْنَا عَشَرَ مِصْدَاقُہُمْ فِی سُوْرَۃِ الْمَائِدَۃِ۔ (مسند أحمد: ۹۳۷۷)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہودیوں کے دس علماء مجھ پر ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر موجود ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے گا۔ سیدنا کعب ؓ نے کہا: بارہ کا مصداق سورۂ مائدہ میں ہے۔
Takhreej
(۱۳۵)تخریج:أخرجہ البخاری: ۳۹۴۱، ومسلم: ۲۷۹۳ (انظر: ۹۳۸۸)
135
Sahih
۔ (۱۳۶)۔عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص مجھ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
Takhreej
(۱۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی ثقال المری۔ أخرجہ الترمذی: ۲۵ مختصرا (انظر: ۲۷۱۴۷)
136
Zaeef
۔ (۱۳۷)۔عَنْ أَبِیْ مُحَیْرِیْزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ جُمْعَۃَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ ؓحَدِّثْنَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ؛ نَعَمْ أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا جَیِّدًا، تَغَدَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ أَحَدٌ خَیْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ وَجَاہَدْنَا مَعَکَ، قَالَ: ((نَعَمْ قَوْمٌ یَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ یُؤْمِنُوْنَ بِیْ وَلَمْ یَرَوْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۰۲)
ابو محیریز کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی ابو جمعہ ؓ سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں تم لوگوں کو بڑی عمدہ حدیث بیان کرتا ہوں، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ صبح کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح بھی تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے ؟ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مشرف باسلام ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مل کر جہاد کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ بہتر ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے اور بِن دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔
Takhreej
(۱۳۷) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الدارمی: ۲۷۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۳۵۳۸ (انظر: ۱۶۹۷۷)
137
Sahih
۔ (۱۳۸)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓقَال: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَدِدْتُّ أَنِّیْ لَقِیْتُ اِخْوَانِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : نَحْنُ اِخْوَانُکَ، قَالَ: (( أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ وَلٰکِنْ اِخْوَانِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِیْ وَلَمْ یَرَوْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۰۷)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔ صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ نے کہا: ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہے، جو بِن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۸) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۳۹۰(انظر: ۱۲۵۷۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قیامت والے دن ان لوگوں کو ملیں، جو بِن دیکھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان لائے، نیز اس حدیث میں صحابہ کرام کی زائد خوبی بھی بیان کی جا رہی ہے کہ اُن کو تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔
138
Sahih
۔ (۱۳۹)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُوْبٰی لِمَنْ رَأنِیْ وَ آمَنَ بِیْ وَ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۳۳)
سیدناابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور جو آدمی مجھ پر ایمان لایا، جب کہ اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔
Takhreej
(۱۳۹) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۲۲۷۷)
139
Sahih
۔ (۱۴۰)۔عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُوْبٗی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَ رَآنِیْ مَرَّۃً وَ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِی وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۰۶)
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس شخص کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے، جو مجھ پر ایمان لایا اور میرا دیدار کیا، لیکن جو آدمی بِن دیکھے مجھ پر ایمان لایا، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔
Takhreej
(۱۴۰) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۳۹۱ (انظر: ۱۲۵۷۸)
140
Sahih
۔ (۱۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَعَ رَاکِبَانِ فَلَمَّا رَآہُمَا قَالَ: ((کِنْدِیَّانِ مَذْحِجِیَّانِ۔)) حَتَّی أَتَیَاہُ فَاِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ۔ قَالَ: فَدَنَا اِلَیْہِ أَحَدُہُمَا لِیُبَایِعَہُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِیَدِہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ رَآکَ فَآمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ مَا ذَا لَہُ؟ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہٖ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّی أَخَذَ بِیَدِہِ لِیُبَایِعَہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ وَلَمْ یَرَکَ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہِ فَانْصَرَفَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۳)
سیدنا ابو عبد الرحمن جہنیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتاہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھراس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔
Takhreej
(۱۴۱) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۷۴۲، والبزار: ۲۷۶۹ (انظر: ۱۷۳۸۸)
141
Sahih
۔ (۱۴۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍبْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: جَلَسْنَا اِلَی الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ؓ یَوْمًا، فَمَرَّ بِیْ رَجُلٌ فَقَالَ: طُوْبٰی لِہَاتَیْنِ الْعَیْنَیْنِ الَّلتَیْنِ رَأَتَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہِ! لَوَدِدْنَا أَنَّنَا رَأَیْنَا مَا رَأَیْتَ وَ شَہِدْنَا مَا شَہِدْتَّ فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ، مَا قَالَ اِلَّا خَیْرًا،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: مَا یَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلٰی أَنْ یَّتَمَنّٰی مَحْضَرًا غَیَّبَہُ اللّٰہُ عَنْہُ لَا یَدْرِی لَوْ شَہِدَہُ کَیْفَ یَکُوْنُ فِیْہِ، وَاللّٰہِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْوَامٌ أَکَبَّہُمُ اللّٰہُ عَلٰی مَنَاخِرِہِمْ فِیْ جَہَنَّمَ لَمْ یُجِیْبُوْہُ وَلَمْ یُصَدِّقُوْہُ، أَوَلَا تَحْمَدُوْنَ اللّٰہَ اِذْ أَخْرَجَکُمْ لَا تَعْرِفُوْنَ اِلَّا رَبَّکُمْ مُصَدِّقِیْنَ لِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ قَدْ کُفِیْتُمُ الْبَلَائَ بِغَیْرِکُمْ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ بَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَشَدِّ حَالٍ بَعَثَ عَلَیْہَا نَبِیًّا مِنَ الْأَنْبِیَائِ فِی فَتْرَۃٍ وَجَاہِلِیَّۃٍ مَا یَرَوْنَ أَنَّ دِیْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ فَجَائَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِہِ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَ فَرَّقَ بَیْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِہِ حَتَّی اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَرٰی وَالِدَہُ وَوَلَدَہُ وَأَخَاہُ کَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللّٰہُ قُفْلَ قَلْبِہِ لِلْاِیْمَانِ یَعْلَمُ أَنَّہُ اِنْ ہَلَکَ دَخَلَ النَّارَ فَـلَا تَقِرُّ عَیْنُہُ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّ حَبِیْبَہُ فِی النَّارِ وَ أَنَّہَا الَّتِیْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ}۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۱۱)
جبیر بن نفیر کہتے ہے: ہم ایک دن سیدنا مقداد بن اسودؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی کا گزر ہوا اور اس نے سیدنا مقداد ؓ کو دیکھ کر کہا: خوشخبری ہے ان دو آنکھوں کے لیے، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا دیدار کیا، اللہ کی قسم! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی وہ کچھ دیکھا ہوتا جو تم نے دیکھا اور ہم نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوتا، جن کا تم نے مشاہدہ کیا۔ یہ سن کر سیدنا مقداد ؓغصے میں آگئے، مجھے بڑا تعجب ہونے لگا کہ اس بندے نے بات تو خیر والی ہی کی تھی، اتنے میں وہ اس پر متوجہ ہو کر کہنے لگے: کون سی چیز بندے کو اس خیال پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ ایسی جگہ پر حاضر ہوا ہوتا، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غائب رکھا، وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مقام پر موجود ہوتا تو اس کی کیفیت کیا ہوتی، اللہ کی قسم ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیا، ان لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بات کو قبول نہیں کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تصدیق نہیں کی تھی، کیا تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کرتے کہ جب اس نے تم کو پیدا کیا تو تمہاری حالت یہ تھی کہ صرف اپنے ربّ کو پہچانتے تھے اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے تھے، تم سے پہلے والے لوگوں نے تمہیں آزمائشوں سے کفایت کیا۔ اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو مبعوث کیا تھا تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے، فترت اور جاہلیت کا ایسا دور تھا کہ جس میں مشرک لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بت پرستی والا دین سب سے بہتر ہے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایسا فرقان لے کر آئے، جس نے حق و باطل کے مابین فرق کیا اور باپ اور اس کی اولاد میں اس طرح فرق کیا کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہوتا کہ اس کے والدین، اولاد اور بھائی کافر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا تالہ ایمان کے لیے کھول دیا ہے، اس کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ اگر وہ اس دین کو قبول کیے بغیر مر گیا تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا اور اس طرح اس کی آنکھ کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب کہ اسے یہ سمجھ ہوتی تھی کہ اس کا پیارا جہنم میں جا رہا ہے، یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ} … اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ (سورۂ فرقان: ۷۴)
Takhreej
(۱۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۸۷، وابن حبان: ۶۵۵۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۰۰ (انظر: ۲۳۸۱۰)
Explanation
فوائد: … طُوْبٰی کے مزید معانی: جنت، جنت کی ہر خوشگوار چیز، بقائے لازوال، ابدی عزت، سرمدی دولت، جنت کا ایک درخت، سعادت، خیر و بھلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر معنی دوسرے تمام معانی کو مستلزم ہے۔ذہن نشین کر لیں کہ اس امت میں کلی اعتبار سے صحابۂ کرام ہی افضل ہیں، جو شرف اور سعاد ت ان کے نصیبے میں آئی، وہ اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس مقام پر اس موضوع سے متعلقہ شرعی نصوص کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھے بغیر آپ پرایمان لاناایسی جزوی فضیلت ہے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کودیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والوں کی ان لوگوں پر برتری بیان کی گئی ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ کر ایمان لائے، لیکن یہ فضیلت جزوی ہے، کلی نہیں ہے۔درج ذیل حدیث میں اس خصوصیت کی وجہ بیان کی گئی ہے: ایک مقام پر دس صحابہ کرام جمع تھے، انھوں نے کہا: ((یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ مِنْ قَوْمٍ ھُمْ اَعْظَمُ مِنَّا اَجْرًا، آمَنَّا بِکَ وَاتَّبَعْنَاکَ؟ قَالَ: ((مَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذَالِکَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ یَأْتِیْکُمْ بِالْوَحْیِ مِنَ السَّمَائِ؟ بَلْ قَوْمٌ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَأْتِیْھِمْ کِتَابٌ بَیْنَ لَوْحَیْنِ، یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَعْمَلُوْنَ بِمَا فِیْہِ، اُولٰئِکَ اَعْظَمُ مِنْکُمْ اَجْرًا)) … اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں، ہم تو آپ پر (براہِ راست) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بھلا (تم ایمان کیوں نہ لاتے) کون سی چیز تمھارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تمھارے اندر موجود ہیں، (تمھارے سامنے) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے؟ (اجر و ثواب میں افضل لوگ ) وہ ہیں جو تمھارے بعد آئیں گے ، انھیں (یہ قرآن مجید) دو گتوں میں موصول ہو گا، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے (حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے)، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلی ہوں گے۔ (معجم طبرانی کبیر: ۱/ ۱۷۴/ ۱، مسند ابو یعلی: ۳/ ۱۲۸، صحیحہ: ۳۳۱۰) صحابہ کرام کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حقانیت کی کئی علامتیں موجود تھیں، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے معجزات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر نزولِ وحی کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی برکات کا عملی ظہور ان کے سامنے تھا، علی ہذا القیاس، اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان لایا جائے، جبکہ بعد میں ایمان لانے والوں کی بنیاد کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ تھے یا لوگوں سے سنے ہوئے۔ ان احادیث میں صحابہ کے بعد والے مسلمانوں کی افضلیت کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لوگ اس حدیث کا مصداق بنتے ہیں کہ ہمارے پاس قبولیت ِ ایمان کے لیے کوئی ایسی نشانی موجود نہ تھی، جو انبیا ورسل اور ان کے براہِ راست پیروکاروں کے پاس ہوتی تھی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس اعزاز کی وجہ سے ہمیں ثابت قدمی اختیار کرتے ہوئے اعمال صالحہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت پا سکیں۔
142
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.