۔ (۱۳۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا یَسْمَعُ بِیْ أَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ وَمَاتَ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۸۸)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۳ (انظر: ۸۲۰۳)
Explanation
فوائد: …چونکہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب تھے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لانا، یہ بڑا جرم ہے، اس وجہ سے حدیث ِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ جو غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، وہ آخرت میں ناکام و نامراد ہو گا۔
133
Sahih