اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۴) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: اصطفی من ولد ابراہیم اسماعیل ، أخرجہ مسلم: ۲۲۷۶ دون لفظۃ: اصطفی من ولد ابراہیم اسماعیل (انظر: ۱۶۹۸۷)
Explanation
فوائد:… شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
۔ سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو جھاڑو سے اکٹھا ہونے والے کوڑے سے پیداہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد جھاڑو سے اکٹھا ہونے والا کوڑا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۵۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۵۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۳۰ (انظر: ۱۷۵۱۷)
Explanation
فوائد:… جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب و نسب پر طعن کرتے ہوئے کہ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے…۔ تو جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فخریہ انداز میں اپنا نسب بیان کیا کہ بنی آدم میں سب سے زیادہ شرف و عظمت والا نسب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصیبے میں آیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگائوں گا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۱۲ (انظر: ۲۱۸۳۹)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کو سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب پر غور کریں:
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق حضرت اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں، میری ماں نے خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک ایسا نور نکلا، جس نے اس کے لیے شام کے محلات روشن کر دیئے اور نبیوں کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پررحمتیں ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۵۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: وکذالک تری امہات النبیین صلوات اللہ علیھم ، وھذا اسناد ضعیف، بین سعید بن سوید و العرباض بن ساریۃ عبدُ الاعلی بن ھلال السلمی ضعیف، أخرجہ الحاکم: ۲/۶۰۰، والبزار: ۲۳۶۵ (انظر: ۱۷۱۶۳)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں تقدیر کا مسئلہ بیان کیا گیا کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان صفات کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ان الفاظ میں دعا کی: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ}… اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۲۹)
عیسی علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جو بشارت دی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ٰیبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰئۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓاَحْمَدُ } … اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کرآیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے ۔ (سورۂ صف: ۶)
۔ سیدنا میسرہ فجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب اور جھوٹے ہوں گے، ان میں سے چار خواتین ہوں گی، جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
فوائد:… بعض روایات میں تیس جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔
ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیسیا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہیہ ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جبیہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوںسے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، میں وہ پہلا شخص ہوں گا کہ جس سے قیامت کے روزے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے اور میں بروز قیامت سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اپنی امت کو بتلاتے ہوئے اپنے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، تواضع کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ میں بھی فخر کی نفی کر دی۔
شفاعتِ عظمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، یہ وہ سفارش ہے کہ جس کی بنا پر اللہ کی مخلوق میں حساب کتاب شروع ہو گا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور خطیب ہوں گا اور میں سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
فوائد:… جب انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف سے بات کریں گے، حدیث نمبر (۱۰۳۲۲) سے اس حدیث کی وضاحت ہو گی۔
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔
فوائد:… مُحَمَّد: وہ شخصیت جس کی تعریف کی گئی ہو۔
اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔
اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔
اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۵۵(انظر: ۱۹۶۲۱)
Explanation
فوائد:… َاَلْمُقَفَّی: لفظی معنییہ ہے: جس کو کسی کے پیچھے چلایا گیا ہو، مراد وہ ہستی جس کو انبیاء و رسل کے آخر میں لا کر آئندہ کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ یہ نامِ مبارک اَلْعَاقِب کے ہم معنی ہے۔
نَبِیُّ الرَّحْمَۃ: وہ نبی جو رحمت سے متصف ہو کر اور رحمت کو پھیلانے کے لیے تشریف لایا۔
نَبِیُّ التَّوْبَۃِ:وہ نبی جو اس پیغام کے ساتھ آیا کہ ہر نادم کی توبہ قبول ہو گی۔
نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃ:وہ نبی جس کو قتال کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔
فوائد:… مزید بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صفاتی نام ثابت ہیں، جیسے رحیم، رسول اللہ، نبی اللہ، مدثر، مزمل، خلیل۔
لیکن اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننانوے اسمائے گرامی مرتّب کر دینا بے حقیقت بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں غلوّ کرتے ہوئے بعض نام ترتیب دیئے گئے، جیسے طٰہٰ، یٰسٓ، حٰمٓ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایسے الفاظ ہیں کہ ہم جن کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
قرآن و حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن اسمائے گرامی ٔ قدر کا ذکر ہے، ان ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں:
۱… ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
۲… ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے ، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وقد عنعن، أخرجہ الدارمی: ۱۳، والحاکم: ۲/ ۶۱۶ (انظر: ۱۷۶۴۸)
Explanation
فوائد:… حلیمہ خود بنت ِ ابی ذویب عبد اللہ بن حارث تھیں، ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزی تھا، یہ دونوں قبیلہ سعد بن بکر بن ہوازن سے تعلق رکھتے تھے۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر موجود رہے، ان کا گھر برکتوں سے مالا مال رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تقریباً چار سال تک ان کے گھر رکھا گیا تھا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
فوائد:… خون کا یہ لوتھڑا من جملہ ان اجزاء میں سے تھا، جن کے ذریعے انسانی تخلیق کی تکمیل ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر سے اس لوتھڑے کو نکال دینا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بڑے منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
فوائد:… اس حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوںکی تدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے امور کے بارے میں سوالا ت کرنے میں دلیر تھے، کہ کوئی اور اتنے سوالات نہیں کرتا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نبوت کے معاملے میںسب سے پہلی کون سی چیز دیکھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر ہو کر بیٹھے اور پھر فرمایا: ابو ہریرہ! تو نے سوال کیا ہے، میں صحراء میں تھا، میری عمر دس برس اور کچھ ماہ تھی، میں نے اپنے سر کے اوپر سے کلام سنا، پس وہ ایک آدمی تھا، جو دوسرے آدمی سے یہ کہہ رہا تھا؟ کیایہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اپنے چہروں کے ساتھ میرے سامنے آئے، میں نے اس قسم کی مخلوق نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی روحیں تھیں کہ میں نے کبھی بھی ایسی روحیں نہیں دیکھی تھیں، ان پر ایسے کپڑے تھے کہ میں نے ان کی طرح کے کپڑے نہیں دیکھے، وہ چل کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے ان کا چھونا تک محسوس نہیںکیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو لٹا دے، پس انھوں نے کسی قسم کے قہر اور زبردستی کے بغیر مجھے لٹا دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چاک کرو، پس ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور میرے خیال کے مطابق اس کو چاک کر دیا، نہ خون نکلا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی، پھر دوسرے فرشتے نے کہا: کینہ اور حسد نکال دے، پس اس نے خون کا لوتھڑا سا نکالا اور اس کو پھینک دیا، پھر اس نے کہا: دل میں رأفت و رحمت ڈال دے، جو چیز انھوں نے نکالی تھی، وہ چاندی کے مشابہ تھی، پھر اس نے میرے دائیں پائوں کا انگوٹھا ہلایا اور کہا: چلو اور سلامت رہو، پس میں ان دونوں کے ساتھ اس حال میں لوٹا کہ چھوٹے پر نرمی کر رہا تھا اور بڑے پررحمت۔
Takhreej
(۱۰۴۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن معاذ مجھول، وکذالک ابو معاذ، وأما ابنہ معاذ بن محمد فقد روی عنہ جمع، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ، أخرجہ ابن حبان:۷۱۵۵، والحاکم: ۳/۵۱۰ (انظر: ۲۱۲۶۱)