TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

197 Hadith · 51 Chapters
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
۔ (۱۰۴۵۴)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ اِصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاھِیْمَ إِسْمَاعِیْلَ وَاِصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ إِسْمَاعِیْلَ کِنَانَۃَ وَ اصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ کِنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشٍ بِنَی ھَاشِمٍ وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۱۲)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۴) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: اصطفی من ولد ابراہیم اسماعیل ، أخرجہ مسلم: ۲۲۷۶ دون لفظۃ: اصطفی من ولد ابراہیم اسماعیل (انظر: ۱۶۹۸۷)
Explanation
فوائد:… شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
10454
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
۔ (۱۰۴۵۵)۔ عَنْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: أَتَی نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتّٰییَقُوْلَ الْقَائِلُ مِنْھُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَۃٍ نَبَتَتْ فِیْ کِبَائٍ، قَالَ حُسَیْنٌ: اَلْکِبَائُ اَلْکِنَاسَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟)) قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔)) قَالَ: فَمَا سَمِعْنَا ہُ قَطُّ یَنْتَمِیْ قَبْلَھَا ((أَلَا اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ خَلْقِہِ، ثُمَّّ فَرَّقَھُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّّ جَعَلَھُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْمِنْ خَیْرِھِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّّ جَعَلَھُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ بَیْتًا وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا))۔ (مسند احمد: ۱۷۶۵۸)
۔ سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو جھاڑو سے اکٹھا ہونے والے کوڑے سے پیداہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد جھاڑو سے اکٹھا ہونے والا کوڑا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۵۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۵۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۳۰ (انظر: ۱۷۵۱۷)
Explanation
فوائد:… جب لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حسب و نسب پر طعن کرتے ہوئے کہ کہا کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے…۔ تو جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فخریہ انداز میں اپنا نسب بیان کیا کہ بنی آدم میں سب سے زیادہ شرف و عظمت والا نسب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نصیبے میں آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
10455
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
۔ (۱۰۴۵۶)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ھَیْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَفْدٍ لَا یَرَوْنَ أَنِّیْ أَفْضَلُھُمْ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّنَا نَزْعُمُ أَنَّکُمْ مِنَّا، قال: ((نَحْنُ بَنُوْ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ لَا نَقْفُوْا أُمَّنَا وَلَانَنْتَفِیْ مِنْ أَبِیْنَا۔)) قَالَ: فَکَانَ الْأَشْعَثُ یَقُوْلُ: لَا أُوْتٰی بِرَجُلٍ نَفٰی قُرَیْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ اِلاَّ جَلَدْتُہُ الْحَدَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸۲)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگائوں گا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۱۲ (انظر: ۲۱۸۳۹)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کو سامنے رکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب پر غور کریں: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق حضرت اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔ آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔ اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔
10456
Sahih
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
۔ (۱۰۴۵۷)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ عِبْدُ اللّٰہِ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہِ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیْلِ ذٰلِکَ، دَعْوَۃِ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃِ عِیْسٰی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّیْ اَلَّتِیْ رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَائَ تْ لَہُ قُصُوْرُ الشَّامِ، وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّھَاتُ النَّبِیِّیْنَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۵)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں، میری ماں نے خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک ایسا نور نکلا، جس نے اس کے لیے شام کے محلات روشن کر دیئے اور نبیوں کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پررحمتیں ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۵۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: وکذالک تری امہات النبیین صلوات اللہ علیھم ، وھذا اسناد ضعیف، بین سعید بن سوید و العرباض بن ساریۃ عبدُ الاعلی بن ھلال السلمی ضعیف، أخرجہ الحاکم: ۲/۶۰۰، والبزار: ۲۳۶۵ (انظر: ۱۷۱۶۳)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں تقدیر کا مسئلہ بیان کیا گیا کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان صفات کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں ان الفاظ میں دعا کی: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ}… اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۲۹) عیسی علیہ السلام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں جو بشارت دی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ٰیبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰئۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓاَحْمَدُ } … اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کرآیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے ۔ (سورۂ صف: ۶)
10457
Sahih
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
۔ (۱۰۴۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ الْفَجْرِ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتّٰی کُنْتَ (وَفِیْ لَفْظٍ: جَعَلْتَ) نَبِیًّا؟ قَالَ: ((وَآدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷۲)
۔ سیدنا میسرہ فجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۵۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۸۳۴، والحاکم: ۲/ ۶۰۸ (انظر: ۲۰۵۹۶)
Explanation
فوائد:… یہ تقدیر کا مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت کا فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
10458
Sahih
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
۔ (۱۰۴۵۹)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَقَالَ: ((فِیْ أُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ مِنْھُمْ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ وَاِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب اور جھوٹے ہوں گے، ان میں سے چار خواتین ہوں گی، جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۴۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۰۲۶، والبزار: ۲۸۸۸ (انظر: ۲۳۳۵۸)
Explanation
فوائد:… بعض روایات میں تیس جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیسیا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہیہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔ ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔ جبیہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوںسے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
10459
Sahih
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
۔ (۱۰۴۶۰)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الَقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِوَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، میں وہ پہلا شخص ہوں گا کہ جس سے قیامت کے روزے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے اور میں بروز قیامت سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۰۸ (انظر: ۱۰۹۸۷)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اپنی امت کو بتلاتے ہوئے اپنے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، تواضع کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ میں بھی فخر کی نفی کر دی۔ شفاعتِ عظمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ ہے، یہ وہ سفارش ہے کہ جس کی بنا پر اللہ کی مخلوق میں حساب کتاب شروع ہو گا۔
10460
Sahih
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
۔ (۱۰۴۶۱)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ وَخَطِیْبَھُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ وَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور خطیب ہوں گا اور میں سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی باثر الحدیث: ۲۶۱۳ (انظر: ۲۱۲۵۶)
Explanation
فوائد:… جب انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف سے بات کریں گے، حدیث نمبر (۱۰۳۲۲) سے اس حدیث کی وضاحت ہو گی۔
10461
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۴۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِیْ أَسْمَائً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْیُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْیُمْحَی بِیَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الَعَاقِبُ وَالَعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۴)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۰۴۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۹۶، ومسلم: ۲۳۵۴ (انظر: ۱۶۷۳۴)
Explanation
فوائد:… مُحَمَّد: وہ شخصیت جس کی تعریف کی گئی ہو۔ اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔ اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔ اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔ اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
10462
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۴۶۳)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: سَمّٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفْسَہُ اَسْمَائً، مِنْھَا مَا حَفِظْنَا، فَقَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفّٰی وَالَحْاشِرُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ (وَقَالَ یَزِیْدُ: وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَنَبِیُّ الْمَلْحَمَۃِ)۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۵۵(انظر: ۱۹۶۲۱)
Explanation
فوائد:… َاَلْمُقَفَّی: لفظی معنییہ ہے: جس کو کسی کے پیچھے چلایا گیا ہو، مراد وہ ہستی جس کو انبیاء و رسل کے آخر میں لا کر آئندہ کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ یہ نامِ مبارک اَلْعَاقِب کے ہم معنی ہے۔ نَبِیُّ الرَّحْمَۃ: وہ نبی جو رحمت سے متصف ہو کر اور رحمت کو پھیلانے کے لیے تشریف لایا۔ نَبِیُّ التَّوْبَۃِ:وہ نبی جو اس پیغام کے ساتھ آیا کہ ہر نادم کی توبہ قبول ہو گی۔ نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃ:وہ نبی جس کو قتال کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔
10463
Sahih
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
۔ (۱۰۴۶۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ بَیْنَمَا أَنَا أَمْشِیْ فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِیْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَنَا مُحَمَّدُ وَأَنَا أَحْمَدُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَالَحَاشِرُ وَالْمُقَفّٰی وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۸)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی فی الشمائل : ۳۶۰، والبزار: ۲۸۸۷ (انظر: ۲۳۴۴۵)
Explanation
فوائد:… مزید بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صفاتی نام ثابت ہیں، جیسے رحیم، رسول اللہ، نبی اللہ، مدثر، مزمل، خلیل۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی کی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ننانوے اسمائے گرامی مرتّب کر دینا بے حقیقت بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان میں غلوّ کرتے ہوئے بعض نام ترتیب دیئے گئے، جیسے طٰہٰ، یٰسٓ، حٰمٓ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایسے الفاظ ہیں کہ ہم جن کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ قرآن و حدیث میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جن اسمائے گرامی ٔ قدر کا ذکر ہے، ان ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
10464
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
۔ (۱۰۴۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَاسْتُنْبِیئَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَتُوُفِّیَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَخَرَجَ مُھَاجِرًا مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ الطبرانی۱۲۸۹۴، والبیھقی فی دلائل النبوۃ : ۷/ ۲۳۳ (انظر: ۲۵۰۶)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں: ۱… ربیع الاول کی (۹) تاریخ ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔ ۲… ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔ پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
10465
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
۔ (۱۰۴۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مَا کَانَ أَوَّلُ بَدْئِ أَمْرِکَ؟ قَالَ: ((دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ،وَبُشْرٰی عِیْسٰی، وَرَأَتْ أُمِّیْ نُورًا أَضَائَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۴۰، والطبرانی فی الکبیر : ۷۷۲۹ (انظر: ۲۲۲۶۱)
Explanation
فوائد:… ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)
10466
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
۔ (۱۰۴۶۷)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، قَالَ: وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفِیْلِ فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۰)
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۷) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/۸۷۲، والحاکم: ۲/ ۶۰۳ (انظر: ۱۷۸۹۱)
10467
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
۔ (۱۰۴۶۸)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ أُخْتِیْ؟ قَالَ: ((فَاَصْنَعُ بِھَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَتُحِبِّیْنَ ذٰلِکِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ، وَاَحَقُّ مَنْ شَرِکَنِیْ فِیْ خَیْرٍ أُخْتِیْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّھَا لَاتَحِلُّ لِیْ)) فَقَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تَخْطُبُ دُرَّۃَ ابْنۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَتْ تَحِلُّ لِیْ لَمَا تَزَوَّجْتُھَا قَدْ أَرْضَعَتْنِیْ وَاِبَاھَا ثَوَیْبَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَـلَا تَعْرِضْنَ عَلَیَّ أَخَوَاتِکُنَّ وَلَا بَنَاتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔
Takhreej
(۱۰۴۶۸) تخریج: صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۰۵۶ (انظر: ۲۶۴۹۳)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلایا تھا۔
10468
Sahih
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
۔ (۱۰۴۶۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَیْفَ کَانَ أَوَّلُ شَأْنِکَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((کَانَتْ حَاضِنَتِیْ مِنْ بَنِیْ سَعْدِ بْنِ کَعْبٍ فَأنْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَھَا فِیْبَھْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا، فَقُلْتُ: یَا أَخِیْ! اذْھَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا، فَانْطَلَقَ اَخِیْ وَمَکَثْتُ عِنْدَ الْبُھْمِ فَاَقْبَلَ طَیْرَانِ أَبْیَضَانِ کَأَنَّھُمَا نَسْرَانِ، فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَھُوَھُوَ؟قَالَ: فَأَقْبَلَایَبْتَدِرَانِیْ فَأَخَذَانِیْ فَبَطَحَانِیْ اِلَی الْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِیْ ثُمَّّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِیْ، فَشَقَّاہُ، فَأَخْرَجَا مِنْہُ عَلَقَتَیْنِ سَوْدَاوَیْنِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ ثَلْجٍ فَغَسَلَا بِہٖجَوْفِیْ، ثُمَّّ قَالَ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ بَرَدٍ فَغَسَلَا بِہٖقَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ: ائْتِنِیْ بِالسَّکِیْنَۃِفَذَرَّاھَا فِیْ قَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: حُصْہُ،فَحَاصَہُوَخَتَمَعَلَیِْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ، (وَقَالَ حَیْوَۃُ فِیْ حَدِیْثِہِ: حِصْہُ، فَحَاصَہُ وَاخْتِمْ عَلَیْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ) فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اجْعَلْہُ فِیْ کِفَّۃٍ وَاجْعَلْ اَلْفًا مِنْ أُمَّتِہِ فِیْ کِفَّۃٍ، فَاِذَا أَنَا أَنْظُرُ اِلَی الْاَلْفِ فَوْقِیْ أُشْفِقُ أَنْ یَخِرَّ عَلَیَّ بَعْضُھُمْ فَقَالَ: لَوْ اَنَّ أُمَّتَہُ وُزِنَتْ بِہٖلَمَالَبِھِمْ،ثُمَّّانْطَلَقَاوَتَرَکَانِیْ، وَفَرِقْتُ فَرْقًا شَدِیْدًا، ثُمَّّ انْطَلَقْتُ اِلَی أُمِّیْ اَخْبَرْتُھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُہُ فَاشْفَقَتْ عَلَیَّ اَنْ یَّکُوْنَ اُلْبِسَ بِیْ قَالَتْ: اُعِیْذُکَ بِاللّٰہِ فَرَحَلَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَجَعَلَتْنِیْ (وَقَالَ یَزِیْدُ: فَحَمَلَتْنِیْ) عَلَی الرَّحْلِ وَرَکِبَتْ خَلْفِیْ حَتّٰی بَلَغْنَا اِلٰی أُمِّیْ، فَقَالَتْ: أَوَ أَدَّیْتُ أَمَانَتِیْ وَذِمَّتِیْ؟ وَحَدَّثَتْھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُ فَلَمْ یَرُعْھَا ذٰلِکَ فَقَالَتْ: إِنِّیْ رَأَیْتُ خَرَجَ مِنِّی نُوْرٌ أَضَاعَتْ مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۸)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے ، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔
Takhreej
(۱۰۴۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وقد عنعن، أخرجہ الدارمی: ۱۳، والحاکم: ۲/ ۶۱۶ (انظر: ۱۷۶۴۸)
Explanation
فوائد:… حلیمہ خود بنت ِ ابی ذویب عبد اللہ بن حارث تھیں، ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزی تھا، یہ دونوں قبیلہ سعد بن بکر بن ہوازن سے تعلق رکھتے تھے۔ جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھر موجود رہے، ان کا گھر برکتوں سے مالا مال رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تقریباً چار سال تک ان کے گھر رکھا گیا تھا۔
10469
Zaeef
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
۔ (۱۰۴۷۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَلْعَبُ مَعَ الْصِبْیَانِ فَأَتَاہُ آتٍ فَأَخَذَہُ فَشَقَّ بَطَنَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ عَلَقَۃً فَرَمٰی بِھَا وَقَالَ: ھٰذِہِ نَصِیْبُ الشَّیْطَانِ مِنْکَ، ثُمَّّ غَسَلَہُ فِیْ طَشْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ثُمَّّ لَأمَہُ، فَاَقْبَلَ الصِّبْیَانُ اِلٰی ظِئْرِہِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُہُ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ کُنَّا نَرٰی أَثْرَ الْمَخِیْطِ فِیْ صَدْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۴۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لینے آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۱۷، ومسلم: ۱۶۲ (انظر: ۱۲۲۲۱)
Explanation
فوائد:… خون کا یہ لوتھڑا من جملہ ان اجزاء میں سے تھا، جن کے ذریعے انسانی تخلیق کی تکمیل ہوتی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسد ِ اطہر سے اس لوتھڑے کو نکال دینا،یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رفعت کی دلیل ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کسی بڑے منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ظاہر کی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔
10470
Sahih
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
۔ (۱۰۴۷۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْتَنِی الْکَبَاثَ فَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ فَاِنَّہُ أَطْیَبُہُ)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرْعَی الْغَنَمَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((نَعَمْ وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا قَدْ رَعَا ھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۴۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۰۶، ومسلم: ۲۰۵۰ (انظر: ۱۴۴۹۷)
10471
Sahih
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
۔ (۱۰۴۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: إِفْتَخَرَ أَھْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۲) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۳۷۰ (انظر: ۱۱۹۱۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوںکی تدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
10472
Sahih
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
۔ (۱۰۴۷۳)۔ عَنْ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کَانَ جَرِیْئًا عَلَی أَنْ یَّسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَْشْیَائٍ لَا یَسْأَلُہُ عَنْھَا غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَوَّلُ مَا رَأَیْتَ فِی أَمْرِالنَّبُوَّۃِ؟ فَاسْتَوٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا وَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَ، أَبَا ھُرَیْرَۃَ! اِنِّیْ لَفِیْ صَحْرَائَ ابْنُ عَشَرَ سِنِیْنَ وَأَشْھُرٍ وَاِذَا بِکَلَامٍ فَوْقَ رَأَسِیْ وَإِذَا رَجُلٌ یَقُوْلُ لِرَجُلٍ: أَھُوَ ھُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاسْتَقْبَلَانِیْ بِوُجُوْہٍ لَمْ أَرْھَا لِخَلْقٍ قَطُّ وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْھَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ، وَثِیَابٍ لَمْ أَرَھَا عَلٰی أَحَدٍ قَطُّ، فَأَقْبَلَا اِلَیَّیَمْشِیَانِ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا بِعَضُدِیْ لَا أَجِدُ لِأَحَدِ ھِمَا مَسًّا، فَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَضْجِعْہُ فَأَضْجَعَانِیْ بِلَا قَصْرٍ وَلَا ھَصْرٍ وَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: افْلِقْصَدْرَہُفَھَوٰی أَحَدُ ھُمَا اِلَی صَدْرِیْ فَفَلَقَھَا فِیْمَا أَرٰی بِلَا دَمٍ وَلَا وَجْعٍ، فَقَالَ لَہُ: وأَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ، فَأَخْرَجَ شَیْئًا کَھَیْئَۃِ الْعَلَقَۃِ ثُمَّّ نَبَذَھَا فَطَرَحَھَا، فَقَالَ لَہُ: أَدْخَلِ الرَّأْفَۃَ وَالرَّحْمَۃَ، فَإِذَا مِثْلُ الَّذِیْ أَخْرَجَ یُشْبِہُ الْفِضَّۃَ، ثُمَّّ ھَزَّ إِبْھَامَ رِجْلِی الْیُمْنٰی، فَقَالَ: أغْدُ وَاسْلَمْ، فَرَجَعْتُ بِھِمَا أغْدُوْ رِقَّۃً عَلَی الصَّغِیْرِ وَرَحْمَۃً لِلْکَبِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسے امور کے بارے میں سوالا ت کرنے میں دلیر تھے، کہ کوئی اور اتنے سوالات نہیں کرتا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نبوت کے معاملے میںسب سے پہلی کون سی چیز دیکھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر ہو کر بیٹھے اور پھر فرمایا: ابو ہریرہ! تو نے سوال کیا ہے، میں صحراء میں تھا، میری عمر دس برس اور کچھ ماہ تھی، میں نے اپنے سر کے اوپر سے کلام سنا، پس وہ ایک آدمی تھا، جو دوسرے آدمی سے یہ کہہ رہا تھا؟ کیایہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اپنے چہروں کے ساتھ میرے سامنے آئے، میں نے اس قسم کی مخلوق نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی روحیں تھیں کہ میں نے کبھی بھی ایسی روحیں نہیں دیکھی تھیں، ان پر ایسے کپڑے تھے کہ میں نے ان کی طرح کے کپڑے نہیں دیکھے، وہ چل کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے ان کا چھونا تک محسوس نہیںکیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو لٹا دے، پس انھوں نے کسی قسم کے قہر اور زبردستی کے بغیر مجھے لٹا دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چاک کرو، پس ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور میرے خیال کے مطابق اس کو چاک کر دیا، نہ خون نکلا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی، پھر دوسرے فرشتے نے کہا: کینہ اور حسد نکال دے، پس اس نے خون کا لوتھڑا سا نکالا اور اس کو پھینک دیا، پھر اس نے کہا: دل میں رأفت و رحمت ڈال دے، جو چیز انھوں نے نکالی تھی، وہ چاندی کے مشابہ تھی، پھر اس نے میرے دائیں پائوں کا انگوٹھا ہلایا اور کہا: چلو اور سلامت رہو، پس میں ان دونوں کے ساتھ اس حال میں لوٹا کہ چھوٹے پر نرمی کر رہا تھا اور بڑے پررحمت۔
Takhreej
(۱۰۴۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن معاذ مجھول، وکذالک ابو معاذ، وأما ابنہ معاذ بن محمد فقد روی عنہ جمع، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ، أخرجہ ابن حبان:۷۱۵۵، والحاکم: ۳/۵۱۰ (انظر: ۲۱۲۶۱)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۷۰)
10473
Zaeef

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.