مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی

۔ (۱۲۸۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اَیُّوْبَ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنِ۔)) وَبِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ اَوْ قَالَ اِنَّ رَبِّیْ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ مُلْکَ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مَازَوٰی لِیْ مِنْہَا، وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالْاَبْیَضَ، وَاِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ لِاُمَّتِیْ اَنْ لَّا یُہْلَکُوْا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلَا یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ، وَاِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ اِذَا قَضَیْتُ قَضَائً فَاِنَّہُ لَا یُرَدُّ وَقَالَ یُوْنُسُ لَایُرَدُّ وَاِنِّیْ اَعْطَیْتُ لِاُمَّتِکَ اَنِّیْ لَااُھْلِکُہُمْ بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلاَ اَسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدَوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ اَقْطَارِھَا اَوْ قَالَ مَنْ بِاَقْطَارِھَاحَتّٰییَکُوْنَ بَعْضُہُمْ یُسْبِیْ بَعْضًا، وَاِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَۃَ الْمُضِلِّیْنَ وَاِذَا وُضِعَ فِیْ اُمَّتِی السَّیْفُ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیَ الْاَوْثَانَ، وَاِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَلَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلٰی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ لَایَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۱۶)

مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔

۔ (۱۲۸۵۶)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمُ الْاُمَمُ مِنْ کُلِّ اُفُقٍ کَمَا تَدَاعَی الْاَکَلَۃُ عَلٰی قَصْعَتِہَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ، وَلٰکِنْ تَکُوْنُوْنَ غُثَائً کَغُثَائِ السَّیْلِیُنْتَزَعُ الْمَہَابَۃُ مِنْ قُلُوْبِ عَدُوِّکُمْ وَیُجْعَلُ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَھْنُ؟ قَالَ: ((حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۰)

مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔

۔ (۱۲۸۵۷)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْبَخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَنْ یَّہْلِکَ النَّاسُ حَتّٰییُعْذِرُوْا مِنْ اَنْفُسِہِْمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۳)

ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔

۔ (۱۲۸۵۸)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِلَّا لِلْمَعْرِفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۸)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ ایک آدمی محض اپنی واقفیت اور تعارف کی وجہ سے دوسرے پر سلام کرے گا۔

۔ (۱۲۸۵۹)۔ وَعَنْ سَلَامَۃَ ابْنَۃِ الْحُرِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَوْ فِیْ شِرَارِالْخَلْقِ اَنْ یَتَدَافَعَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ لَا یَجِدُوْنَ اِمَامًا یُصَلِّیْ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۹)

سیدہ سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔

۔ (۱۲۸۶۰)۔ وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًا حَتّٰییَطْلُعَ فَکُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَیْ ئٌ ذَھَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُہُ حَتّٰییُوْلَدَ فِی الْجَوْرِ مَنْ لَا یَعْرِفُ غَیْرَہُ، ثُمَّ یَاْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِالْعَدْلِ فَکُلَّمَا جَائَ مِنَ الْعَدْلِ شَیْئٌ ذَہَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُہٗحَتّٰییُوْلَدَ فِی الْعَدْلِ مَنْ لَّا یَعْرِفُ غَیْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۴)

سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔

۔ (۱۲۸۶۱)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُہُ، فَقَالَ: ((غَیْرُ ذٰلِکَ اَخْوَفُ لِیْ عَلَیْکُمْ۔)) ذَکَرَ کَلِمَۃً۔ (مسند احمد: ۷۶۵)

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دجال کر ذکر رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بات ذکر کی۔

۔ (۱۲۸۶۲)۔ وَعَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ اَنَّہُ سَمِعَ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَذْکُرُ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مُدَّۃُ اُمَّتِکَ مِنَ الرَّخَائِ؟ فَلَمْ یَرُدُّ عَلَیْہِ شَیْئًا حَتّٰی سَاَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، کُلَّ ذٰلِکَ لَا یُجِیْبُہُ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، ثُمَّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ؟)) فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ سَاَلْتَنِیْ عَنْ شَیْ ئٍ مَا سَاَلَنِیْ عَنْہُ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِیْ، مُدَّۃُ اُمَّتِیْ مِنَ الرَّخَائِ مِائَۃُ سَنَۃٍ۔)) قَالَھَا مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، فَقََالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! فَہَلْ لِذٰلِکَ مِنْ اَمَارَۃٍ اَوْ عَلَامَۃٍ اَوْ آیَۃٍ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ، اَلْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَاِرْسَالُ الشَّیَاطِیْنِ الْمُجْلَبَۃِ عَلٰی النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۱)

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔

۔ (۱۲۸۶۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَایُدْرِکُنِیْ زَمَانٌ اَوْلَاتُدْرِکُوْا زَمَانًا لَایُتْبَعُ فِیْہِ الْعَلِیْمُ وَلَا یُسْتَحْیٰ فِیْہِ مِنَ الْحَلِیْمِ، قُلُوْبُہُمْ قُلُوْبُ الْاَعَاجِمِ وَاَلْسِنَتُہُمْ اَلْسِنَۃُ الْعَرَبِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۷)

سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔

۔ (۱۲۸۶۴)۔ وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَافُتِحَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْخَزَائِنِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَااُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ یُوْقِظُ صَوِاحِبَ الْحُجَرِ، یَارُبَّ کَاسِیَاتٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَاتٍ فِی الآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۰)

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔

۔ (۱۲۸۶۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِیْہِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

۔ (۱۲۸۶۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْـلَاھَا فِی النَّارِ، اَللِّسَانُ فِیْہَا اَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّیِفِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۸۰)

سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔

۔ (۱۲۸۶۹)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِیْنَ خَدَّاعَۃً۔))فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ قِیْلَ: وَمَا الرُّوَیْبِضَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْفُوَیْسِقُیَتَکَلَّمُ فِیْ اَمْرِ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۱)

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔

۔ (۱۲۸۷۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِیْ الْمَرْئُ بِمَا اَخَذَ مِنَ الْمَالِ، بِحَلَالٍ اَوْبِحَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔

۔ (۱۲۸۷۱)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِي آخِرِ اُمَّتِي رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی سُرُوْجٍ کَاَشْبَاہِ الرِّحَالِ، یَنْزِلُوْنَ عَلٰی اَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ، عَلٰی رُؤُوْسِھِنَّ کَاَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوْھُنَّ فَاِنَّھُنَّ مَلْعُوْنَاتٌ، لَوْکَانَتْ وَرَائَکُمْ اُمَّۃٌ مِنَ الْاُمَمِ لَخَدَمَھُنَّ نِسَاوُکُمْ ، کَمَاخَدَمَکُمْ نِسَائُ اْلاُمَمِ قَبْلَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۸۳)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔

۔ (۱۲۸۷۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْیُحَدِّثُوْنَکُمْ مَالَمْ تَسْمَعُوْا بِہِ اَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُکُمْ فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۲۵۰)

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔

۔ (۱۲۸۷۳)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اِخْوَانُ الْعَلَانِیَۃِ اَعْدَائُ السَّرِیْرَۃِ۔)) فَقِیْلَ: یَارََسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَیَکُوْنُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((ذٰلِکَ بِرَغْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ وَرَھْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۵)

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوںگے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔