مسنداحمد

Musnad Ahmad

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی


۔ (۱۲۸۶۰)۔ وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًا حَتّٰییَطْلُعَ فَکُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَیْ ئٌ ذَھَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُہُ حَتّٰییُوْلَدَ فِی الْجَوْرِ مَنْ لَا یَعْرِفُ غَیْرَہُ، ثُمَّ یَاْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِالْعَدْلِ فَکُلَّمَا جَائَ مِنَ الْعَدْلِ شَیْئٌ ذَہَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُہٗحَتّٰییُوْلَدَ فِی الْعَدْلِ مَنْ لَّا یَعْرِفُ غَیْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۴)

سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۲۸۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف ، خالد بن طھمان ضعفہ ابن معین، وقال: خلط قبل موتہ بعشر سنین، وکان قبل ذالک ثقۃ، وأما نافع بن ابی نافع الراوی عن معقل، فان کان ھو نفیع بن الحارث ابا داود الاعمی، فھو متروک الحدیث، وان کان غیرہ فھو لایعرف، أخرجہ الترمذی: ۲۹۲۲ (انظر: ۲۰۳۰۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… لیکن عملی طور پر خلفائے راشدین کے بعد امت مسلمہ میں ظلم پھیلتا رہا اور عدل کم ہوتا رہا، اور آج تلک یہی سلسلہ جاری ہے۔