TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ - اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 33 · 5 Hadith
۔ (۱۳۲۳۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْرِفَ آخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِّنَ النَّارِ، رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا فَیُقَالُ لَہُ: اِنْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَذْھَبُیَدْخُلُ فَیَجِدُ النَّاسَ، قَدْ اَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیَرْجِعُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّّ! قَدْ اَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: اَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِیْ کُنْتَ فِیْہِ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: تَمَنَّہْ، فَیَتَمَنّٰی فَیُقَالُ: اِنَّ لَکَ الَّذِیْ تَمَنَّیْتَ وَعَشَرَۃَ اَضْعَافِ الدُّنْیَا قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَسْخَرُ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سب سے آخر میں جہنم سے رہا ہو کر آئے گا، میں اسے پہچانتا ہوں، وہ آدمی گھسٹ کر وہاں سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے مقامات میں سکونت پذیر ہیں (اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی)، اس لیے وہ واپس آ جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! جنت میں تو لوگ اپنی اپنی منزلوں میں رہ رہے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے دنیا والا زمانہ یاد ہے، جس میں تو رہتا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو تمنا کر، چنانچہ وہ تمنا کرے گا پھراسے کہا جائے گا:تو نے جو تمنا کی ہے، وہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا کا دس گنا بھی تجھے ملے گا۔ وہ کہے گا: اے اللہ! تو توبادشاہ ہے، پھر بھی مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں۔
Takhreej
(۱۳۲۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷۱، ۷۵۱۱، ومسلم: ۱۸۶(انظر: ۳۵۹۵)
13238
Sahih
۔ (۱۳۲۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ آخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ وَآخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! قَدْ وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، ثَلَاثًا، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْیَا وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِھَا اَوْ وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَتَضْحَکُ مِنِّیْ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔ قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ: ہٰذَا اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً۔)) (مسند احمد: ۴۳۹۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں جانے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا آدمی وہ ہے جو گھسٹتا ہوا جہنم سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں چلا جا۔ وہ وہاں آکر یوں محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! یہ تو ساری بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا جنت میں داخل ہوجا، وہ اسے پہلے کی طرح بھری ہوئی سمجھ کر واپس آجائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! وہ تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن وہ آکر پھر یہی محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے رب! جنت تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا، تیرے لیے جنت میں پوری دنیا بلکہ اس سے دس گنا زیادہ جگہ موجود ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو تو بادشاہ ہے۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم تر جنتی ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13239
Sahih
۔ (۱۳۲۴۰)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ آخِرَ مَنْ یَدُخُلُ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ یَمْشِیْ عَلٰی الصِّرَاطِ فَیَنْکِبُ مَرَّۃً وَیَمْشِیْ مَرَّۃً وَتَسْفَعُہُ النَّارُ مَرَّۃً فَاِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ اِلْتَفَتَ اِلَیْہَا فَقَالَ: تَبَارَکَ الَّذِیْ نَجَّانِیْ مِنْکَ لَقَدْ اَعْطَانِی اللّٰہُ مَالَمْ یُعْطِ اَحَدًا مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ قَالَ: فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ فَیَنْظُرُ اِلَیْہَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! فَلَعَلِّیْ اِنْ اَدْنَیْتُکَ مِنْہُمَا سَاَلْتَنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: لَا، یَارَبِّ وَیُعَاھِدُ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَسْاَلَہُ غَیْرَھَا وَالرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَاصَبَرْ لَہُ یَعْنِیْ عَلَیْہِ فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ وَھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِھَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْیَعْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ہٰذِہِ، لَا اَسْاَلُکَ غَیْْرَھَا وَیُعَاہِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ ھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا، فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اَسْتَظِلُّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبُ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُ غَیْرَھَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! ہٰذِہِ الشَّجَرَۃُ، لَااَسْاَلُکَ غَیْرَھَا وَیُعَاھِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَا صَبَرْلَہُ عَلَیْہَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَیَسْمَعُ اَصْوَاتَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! الْجَنَّۃَ اَلْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُ: عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لاَ تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ عَزَّوَجَلَّ: مَا یَصْرِیْنِیْ مِنْکَ اَیْ عَبْدِیْ، اَیُرْضِیْکَ اَنْ اُعْطِیَکَ مِنَ الْجَنَّۃِ الدُّنْیَا وَمِثْلَہَا مَعَہَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَہْزَأُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) قَالَ: فَضِحَک عَبْدُاللّٰہِ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، ثُمَّ قَالَ: اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتُ؟ قَالُوْا لَہُ: لِمَ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: لِضِحْکِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لِضِحْکِ الرَّبِّ حِیْنَ قَالَ: اَتَہْزَاُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں جانے والا پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، وہ کبھی گرے گا اور کبھی چلے گا اور کبھی آگ اسے جھلسائے گی، بالآخر جب وہ پل صراط کو پار کر جائے گا تو جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا: وہ اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے، جس نے مجھے تجھ سے نجات دلائی، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا کرم کیا ہے کہ اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی پر بھی ایسا کرم نہیں کیا، پھر اسے ایک درخت دکھائی دے گا، چنانچہ وہ اسے دیکھ کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ میں بیٹھ سکوں اور اس کا پانی پی سکوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے! اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو مجھ سے اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ! میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اس کے علاوہ مزید کوئی چیز نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ ہر صورت میں اس سے مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ وہاں پہنچنے کے بعد ایسی چیزیں دیکھے گا کہ وہ صبر نہیں کر سکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے ایک اور درخت دکھائی دے گا، جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور وہاں کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز طلب نہیں کرے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! بس میری یہی گزارش ہے، اسے پورا کر دے، میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس بات کا پختہ عہد کرے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے جنت کے دروازے کے قریب پہلے درختوںسے زیادہ حسین درخت دکھائی دے گا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کے سائے میں آرام کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا تو نے مجھے سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت تک جانے کی اجازت دے دے، میں پختہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کے بعد تجھ سے مزید کچھ نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو علم ہے کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھے گا کہ اس سے صبر نہیں ہو سکے گا، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، جب وہ وہاں پہنچ کر اہل ِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے ربّ!مجھے جنت میں داخل کر دے، جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! بس تو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: میرے بندے ! کون سی چیز مجھے تجھ سے روک سکتی ہے،کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے جنت میں پوری دنیا، بلکہ اس کی مثل ایک اور دنیا بھی دے دوں؟ وہ کہے گا: اے اللہ!تو تو ربّ العزت ہے، میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ یہ بات بیان کر کے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر زور سے ہنسے کہ ان کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر انھوں نے پوچھا: تم مجھ سے میرے اس قدر زور سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ان کے شاگردوں نے کہا: جی بتلائیں کہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ حدیث بیان کر کے ہنسے تھے اور پھر ہم سے فرمایا تھا: تم مجھ سے میرے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بندے نے جب کہا کہ اے اللہ ! تو تو ربّ العزت ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ تو اس کی بات سن کر اللہ تعالیٰ مسکرا دیئے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۷ (انظر: ۳۷۱۴)
13240
Sahih
۔ (۱۳۲۴۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ اَرْبَعَۃٌ،یُعْرَضُوْنَ عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَاْمُرُ بِہِمْ اِلَی النَّارِ، فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ قَدْ کُنْتُ اَرْجُوْ اِنْ اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ لَّا تُعِیْدَنِیْ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: فَلَا نُعِیْدُکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۴۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں کو جہنم سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پھر ان کو جہنم کی طرف واپس لے جانے کا حکم دے گا۔ ان میں سے ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ ! مجھے توا مید تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال دے گا تو دوبارہ اس میں نہیں لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ٹھیک ہے، ہم تجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجتے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۲ (انظر: ۱۳۳۱۳)
13241
Sahih
۔ (۱۳۲۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عَبْدًا فِیْ جَہَنَّمَ لَیُنَادِیْ اَلْفَ سَنَۃٍ: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ! قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِجِبْرِیْلَ: اِذْھَبْ فَائْتِنِیْ بِعَبْدِیْ ہٰذَا، فَیَنْطَلِقُ جِبْرِیْلُ فَیَجِدُ اَھْلَ النَّارِ مُکِبِّیْنَیَبْکُوْنَ، فَیَرْجِعُ اِلٰی رَبِّہِ فَیُخْبِرُہُ فَیَقُوْلُ: اِئْتِنِیْ بِہٖفِیْ مَکَانِ کَذَا وَکَذَا، فَیَجِیْئُ بِہٖفَیُوْقِفُہُ عَلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا عَبْدِیْ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَکَانَکَ وَمَقِیْلَکَ، فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ شَرَّ مَکَانٍ وَشَرَّ مَقِیْلٍ فَیَقُوْلُ: رُدُّوْا عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ مَا کُنْتُ اَرْجُوْا اِذَا اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ تَرُدَّنِیْ فِیْہَا فَیَقُوْلُ: دَعُوْا عَبْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک بندہ جہنم میںایک ہزار سال تک ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ!، بالآخراللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ اورمیرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ، جب وہ وہاں جا کر دیکھیں گے کہ جہنمی تو منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے، وہ واپس آجائیں گے اور آ کر اللہ تعالیٰ کو یہ صورتحال بتائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں جگہ میں پڑے ہوئے میرے بندے کو لے آؤ، پس وہ اسے لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! بہت بری جگہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتو! میرے بندے کو وہیں واپس لے جاؤ، وہ عرض کرے گا : اے میرے ربّ! مجھے تو یہ امید نہیں تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال لے گا تو دوبارہ اس میں بھیج دے گا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو چھوڑ دو۔
Takhreej
(۱۳۲۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابو ظلال ھلال بن ابی ھلال القسملی مجمع علی ضعفہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۱۰، والبیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۸۴، وابن خزیمۃ فی التوحید : ۲/ ۷۴۹ (انظر: ۱۳۴۱۱)
13242
Zaeef

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.