TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان - تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان - تیمم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of تیمم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 6 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۹۸۱)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجُتُہُؓ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا وَذٰلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیْدِ الطَّیِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبُوْا بِأَیْدِیْہِمُ الْاََرْضَ ثُمَّ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوْا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا فَمَسَحُوْا بِہَا وُجُوْہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ اِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُوْنِ أَیْدِیْہِمْ اِلَی الْآبَاطِ، وَلَا یَغْتَرُّ بِھٰذَا النَّاسُ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ اِنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۲)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے رات کے آخری حصے میں اولات الجیش کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ آپ کی بیوی سیدہ عائشہؓ بھی تھیں، ان کا ظفار کے موتیوں کا ہاتھ گم ہو گیا اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش کے لیے روک لیا گیا، اُدھر فجر روشن ہو رہی تھی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل کر دی، پس مسلمان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو اٹھایا اور مٹی ہاتھوں کے ساتھ بالکل نہیں اٹھائی۔ پھر ان کو اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے سے کندھوں تک اور باطنی حصے سے بغلوں تک، ان حصوںپر بھی ہاتھ پھیرے۔ لیکن لوگوں کو اس کیفیت سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ تو بہت برکت والی ہے۔
Takhreej
(۹۸۱) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۰، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۵۶۶(انظر: ۱۸۳۲۲)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: امام شافعی نے کہا: اگر تیمم کی یہ کیفیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کی بنا پر تھی توبعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہونے والی کیفیت اس کے لیے ناسخ ہو گی اور اگر یہ صورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کے بغیر تھی تو حجت تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا حکم ہی ہوتا ہے۔ (میں ابن حجر کہتا ہوں:) صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی جس روایت میں صرف ہاتھوں اور چہرے کا ذکر ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عمار ؓآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات کے بعد اسی کیفیت کا فتوی دیتے تھے، جبکہ وہ اس حدیث کے راوی بھی ہے اور راوی اپنے روایت کو زیادہ سمجھتا ہے، بالخصوص جب وہ مجتہد بھی ہو۔ (فتح الباری: ۱/ ۴۴۵)
981
Sahih
۔ (۹۸۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ ثَنَا سُلَیْمَانُ الْأَعْمَشُ ثَنَا شَقِیْقٌ قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ مَسْعُوْدٍ) وَأَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ فَقَالَ أبو مُوْسٰی لِعَبْدِ اللّٰہِ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ یَجِدِ الْمَائَ لَمْ یُصَلِّ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَا، فَقَالَ أَبُوْ مُوْسٰی: أَمَا تَذْکُرُ اِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ: أَلَا تَذْکُرُ اِذْ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِیَّاکَ فِیْ اِبِلٍ فَأَصَابَتْنِیْ جَنَابَۃٌ فَتَمَرَّغْتُ بِالتُّرَابِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرْتُہُ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ أَنْ تَقُوْلَ ہٰکَذَا۔)) وَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ اِلَی الْاََرْضِ ثُمَّ مَسَحَ کَفَّیْہِ جَمِیْعًا وَمَسَحَ وَجْہَہُ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً بِضَرْبَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَاجَرَمَ مَا رَأَیْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ أَبُوْ مُوْسٰی: فَکَیْفَ بہٰذِہِ الْآیَۃِ فِیْ سُوْرَۃِ النِّسَائِ {فَلَمْ تَجِدُوْا مَائً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا}؟ قَالَ: فَمَا دَرٰی عَبْدُ اللّٰہِ مَایَقُوْلُ، وَقَالَ: لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی التَّیَمُّمِ لَأَوْشَکَ أَحَدُہُمْ اِنْ بَرَدَ الْمَائُ عَلَی جِلْدِہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَأَنْکَرَہُ یَحْیٰی یَعْنِی ابْنَ سَعِیْدٍ، فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غَیَاثٍ فَقَالَ: کَانَ الْأَعْمَشُ یُحَدِّثُنَا بِہِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ وَذَکَرَ أَبَا وَائِلٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۹)
شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسی اشعری ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر کسی آدمی کو پانی نہ ملے تو وہ نماز نہیں پڑھے گا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: کیا تمہیں یاد نہیں ہے کہ سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمر ؓ سے کہا: کیا تم کو یاد نہیں رہا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اور آپ کو اونٹوں کے ساتھ بھیجا تھا، مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، پس میں مٹی میں لیٹا تھا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف واپس لوٹا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلایا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرائے اور فرمایا: صرف تجھے یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کر لیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ہتھیلیوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا اور ان کو اپنی ہتھیلیوں ( کی پشتوں) پر اور چہرے پر ایک ایک دفعہ پھیر دیا۔ لیکن سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: یقینا، میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر ؓ نے اس پر قناعت کی ہو، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: تو پھر آپ سورۂ نساء والی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ اس مقام پر سیدنا عبد اللہ ؓ کو کوئی جواب نہ آیا، البتہ انھوں نے یہ کہا: اگر ہم ان کو تیمم کی رخصت دیں تو قریب ہے کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ تیمم کرے گا۔
Takhreej
(۹۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۴، ومسلم: ۳۶۸(انظر: ۱۸۳۲۹)
982
Sahih
۔ (۹۸۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُوْمُعَاوِیَۃَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِیْ مُوْسٰی وَعَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْمُوْسٰی: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَانِ! أرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ یَجِدِ الْمَائَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَہْرًا أَمَا کَانَ یَتَیَمَّمُ؟ قَالَ: لَا، وَلَوْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) قَالَ لَہُ أَبُوْ مُوْسٰی: أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ؟ بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَاجَۃٍ فَأجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِی الصَّعِیْدِ کَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَۃُ، ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ أَنْ تَقُوْلَ وَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْأَرْضِ، ثُمَّ مَسَحَ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بِصَاحِبَتِہَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ (وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُالرَّحْمَانِ: قَالَ أَبِیْ: وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃِ مَرَّۃً: قَالَ: فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الْاََرْضِ ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِہِ عَلٰی یَمِیْنِہِ وَیَمِیْنِہِ عَلٰی شِمَالِہِ عَلَی الْکَفَّیْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۸)
۔ (دوسری سند) شقیق کہتے ہیں: میں سیدنا ابو موسی ؓاور سیدنا عبد اللہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی کو (غسل کے لیے) پانی نہیں ملتا، جبکہ وہ ایک مہینہ سے جنبی ہے، کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ انھوںنے کہا: جی نہیں، اگرچہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ پھر سابق حدیث کی مانند حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو موسی ؓ نے کہا: کیا آپ نے سیدنا عمار ؓکی بات نہیں سنی؟ وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک کام کے لیے بھیجا، پس میں جنبی ہو گیا اور غسل کے لیے پانی نہ ملا، پس میں جانور کی طرح مٹی میں لیٹا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تجھے تو یہ کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ہر ہاتھ کو دوسرے پر پھیرا اور دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: ایک دفعہ ابو معاویہ نے یہ طریقہ یوں بیان کیا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور دائیں کو بائیں پر ہتھیلیوں پر پھیرا اور پھر اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
Takhreej
(۹۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
983
Sahih
۔ (۹۸۴)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ أبومُوْسٰی لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: اِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَائَ لَا نُصَلِّیْ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: نَعَمْ، اِنْ لَمْ نَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا لَمْ نُصَلِّ، وَلَوْ رَخَّصْتُ لَہُمْ فِیْ ھٰذَا کَانَ اِذَا وَجَدَ أَحَدُہُمُ الْبَرَدَ، قَالَ ہٰکذا یَعْنِیْ تَیَمَّمَ وَصَلّٰی، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَیْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ؟ قَالَ: اِنِّیْ لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۲۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو موسی ؓ نے سیدنا عبد اللہ ؓ سے کہا: اگر ہمیں پانی نہ ملے (جبکہ ہم جنبی ہوں) تو کیا نماز نہیں پڑھیں گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اگر ایک ماہ تک بھی پانی نہ ملے تو ہم نماز نہیں پڑھیں گے، اگر میں اس معاملے میں لوگوں کو رخصت دے دوں تو جو کوئی آدمی سردی محسوس کرے گا، وہ تیمم کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے گا۔ سیدنا ابو موسیؓ نے کہا: تو پھر وہ بات کہاں جائے گی جو سیدنا عمار ؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ تو سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمارؓ کے قول پر قناعت ہی نہیں کی تھی۔
Takhreej
(۹۸۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
984
Sahih
۔ (۹۸۵)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّا نَمْکُثُ الشَّہْرَ وَالشَّہْرَیْنِ لَا نَجِدُ الْمَائَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ لِأُصَلِّیَ حَتّٰی أَجِدَ الْمَائَ، فَقَالَ عَمَّارٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! تَذْکُرُ حَیْثُ کُنَّا بِمَکَانِ کَذَا کَذَا وَنَحْنُ نَرْعَی الْاِبِلَ فَتَعْلَمُ أَنَّنَا أَجْنَبْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّیْ تَمَرَّغْتُ بِالتُّرَابِ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثْتُہُ فَضَحِکَ وَقَالَ: ((کَانَ الصَّعِیْدُ کَافِیَکَ۔)) وَضَرَبَ بِکَفَّیْہِ الْاََرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِیْہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَبَعْضَ ذِرَاعَیْہِ۔ قَالَ: اِتَّقِ اللّٰہَ، یَا عَمَّارُ! قَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْکُرْہُ مَا عِشْتُ أَوْ مَا حَیِیْتُ، قَالَ: کَلَّا وَاللّٰہِ، وَلٰکِنْ نُوَلِّیْکَ مِنْ ذٰلِکَ مَا تَوَلَّیْتَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۸۸)
عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ؓ کے پاس تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم ایک ایک اور دو دو ماہ ٹھہرتے ہیں اور پانی نہیں پاتے؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: رہا مسئلہ میرا، تو میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھوں گا، جب تک مجھے پانی نہیں ملے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمار ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کو یاد ہو گا کہ جب ہم فلاں جگہ پر اونٹ چرا رہے تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی تھی۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمار ؓ نے کہا: پس میں مٹی میں لیٹا تھا اور جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آکر یہ بات ذکر کی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہنس پڑے تھے اور فرمایا تھا: تجھے مٹی ہی کافی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور ان کو اپنے چہرے اور بازوؤں کے بعض حصوں پر پھیر دیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے عمار! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: اے امیرے المؤمنین! اگر آپ چاہتے ہیں تو میں زندگی بھر یہ چیز بیان نہیں کروں گا، سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! تم جس چیز کی ذمہ داری خودلینا چاہتے ہو، ہم تم کو اس کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں۔
Takhreej
(۹۸۵) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: وبعض ذراعیہ وقد جاء فی الروایۃ الصحیحۃ: ومسح بھا وجھہ وکفیہ أخرجہ ابوداود: ۳۲۳، والنسائی: ۱/ ۱۶۸(انظر: ۱۸۸۸۲)
985
Sahih
۔ (۹۸۶)۔عَنْ عَمَّارِبْنِ یَاسِرٍؓ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّیَمُّمِ، فَقَالَ: ((ضَرْبَۃٌ لِلْکَفَّیْنِ وَالْوَجْہِ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ) اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِیْ التَّیَمُّمِ: ((ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَالْکَفَّیْنِ)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۹)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے تیمم کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہتھیلیوں اور چہرے کے لیے ایک ضرب ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تیمم کے بارے میں فرمایا: چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ایک ضرب ہے۔
Takhreej
(۹۸۶) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۷، والترمذی: ۱۴۴ (انظر: ۱۸۳۱۹)
986
Sahih
۔ (۹۸۷)۔عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَسَارٍ مَوْلَی مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی دَخَلْنَا عَلَی أَبِیْ جُہَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ الْأَنْصَارِیِّؓ، قَالَ أَبُوْجُہَیْمٍ: أَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِجَمَلٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أقَبْلَ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْہِہِ وَیَدَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۲۷۷)
مولائے ابن عباس عمیر کہتے ہیں: میں اور مولائے میمونہ عبد اللہ بن یسار گئے اور سیدنا ابو جہیم بن حارث انصاری پر داخل ہوئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بئرِ جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
Takhreej
(۹۸۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری: ۳۳۷، وعلقہ مسلم: ۳۶۹ (انظر: ۰۰۰/۶۱)
987
Sahih