TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 981 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان
۔ (۹۸۱)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَیْشِ وَمَعَہُ عَائِشَۃُ زَوْجُتُہُؓ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَہَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَائَ عِقْدِہَا وَذٰلِکَ حِیْنَ أَضَائَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ النَّاسِ مَائٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ رُخْصَۃَ التَّطَہُّرِ بِالصَّعِیْدِ الطَّیِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبُوْا بِأَیْدِیْہِمُ الْاََرْضَ ثُمَّ رَفَعُوْا أَیْدِیَہُمْ وَلَمْ یَقْبِضُوْا مِنَ التُّرَابِ شَیْئًا فَمَسَحُوْا بِہَا وُجُوْہَہُمْ وَأَیْدِیَہُمْ اِلَی الْمَنَاکِبِ وَمِنْ بُطُوْنِ أَیْدِیْہِمْ اِلَی الْآبَاطِ، وَلَا یَغْتَرُّ بِھٰذَا النَّاسُ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ اِنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۱۲)
سیدنا عمار بن یاسرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے رات کے آخری حصے میں اولات الجیش کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ آپ کی بیوی سیدہ عائشہؓ بھی تھیں، ان کا ظفار کے موتیوں کا ہاتھ گم ہو گیا اور لوگوں کو اس ہار کی تلاش کے لیے روک لیا گیا، اُدھر فجر روشن ہو رہی تھی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل کر دی، پس مسلمان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو اٹھایا اور مٹی ہاتھوں کے ساتھ بالکل نہیں اٹھائی۔ پھر ان کو اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں کے ظاہری حصے سے کندھوں تک اور باطنی حصے سے بغلوں تک، ان حصوںپر بھی ہاتھ پھیرے۔ لیکن لوگوں کو اس کیفیت سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ تو بہت برکت والی ہے۔
981
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۸۱) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۰، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۵۶۶(انظر: ۱۸۳۲۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: امام شافعی نے کہا: اگر تیمم کی یہ کیفیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کی بنا پر تھی توبعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہونے والی کیفیت اس کے لیے ناسخ ہو گی اور اگر یہ صورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کے بغیر تھی تو حجت تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا حکم ہی ہوتا ہے۔ (میں ابن حجر کہتا ہوں:) صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی جس روایت میں صرف ہاتھوں اور چہرے کا ذکر ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عمار ؓآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات کے بعد اسی کیفیت کا فتوی دیتے تھے، جبکہ وہ اس حدیث کے راوی بھی ہے اور راوی اپنے روایت کو زیادہ سمجھتا ہے، بالخصوص جب وہ مجتہد بھی ہو۔ (فتح الباری: ۱/ ۴۴۵)

Related Chapters

93
1
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
3
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
4
تیمم کے مشروع ہونے کا سبب
Sunnan Ibn e Maja
5
تیمم کے ایک دوسرے طریقے کا اور دونوں ہاتھوں پر پھونک مارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
(92)Chapter: [What has Been Related] About Tayammum For The Junub Person When He Does Not Find Water
باب: پانی نہ پانے پر جنبی تیمم کر لے
Jam e Tirmazi
7
(110)Chapter: What Has Been Related About Tayammum
باب: تیمم کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Salat
باب: نماز کے طریقے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
10
بَاب التَّيَمُّم
تیمم کا بیان
Mishkat
11
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
12
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
Musnad Ahmad
13
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
14
پانی کی موجودگی میں زخم یا سردی کے ڈر کی وجہ سے تیمم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
پانی کی عدم موجودگی میں جماع اور تیمم کی رخصت اور پانی کے موجود ہونے کی صورت میں تیمم کے باطل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
17
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
18
نماز کے جامع طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
19
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
Musnad Ahmad
21
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
22
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
23
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
24
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
25
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
26
وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
27
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
28
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
29
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
30
لوگوں سے بارش کے رک جانے کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
31
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Musnad Ahmad
32
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
33
اجارہ کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
34
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
35
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
Musnad Ahmad
36
ظہار کے لفظ اور سبب کا بیان
Musnad Ahmad
37
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
38
تیمم کا بیان
Musnad Ahmad
39
غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
40
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
41
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
42
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
43
اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
45
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
46
لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
Musnad Ahmad
47
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
Musnad Ahmad
48
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
Musnad Ahmad
49
(17) CHAPTER. If someone while in the mosque remembers that he is Junub , he should leave (the mosque to take a bath) and should not perform Tayammum.
جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم کرے
Sahih Bukhari
50
(3) CHAPTER. The performance of Tayammun by a non-traveller (is permissible).
اقامت کی حالت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

34
Mishkat
3983
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خطْبَة: «أَوْفوا بِحلف الْجَاهِلِيَّة فَإِنَّهُ لَا يزِيد يَعْنِي الْإِسْلَامَ إِلَّا شِدَّةً وَلَا تُحْدِثُوا حَلِفًا فِي الإِسلامِ» . رَوَاهُ الترمذيُّ من طريقِ ابنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرٍو وَقَالَ: حَسَنٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ عليٍّ: «المسلمونَ تَتَكَافَأ» فِي «كتاب الْقصاص»
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا :’’ جاہلیت کے عہد پورے کرو ، کیونکہ اسلام اسے مضبوط کرتا ہے لیکن اسلام میں کوئی اور نیا عہد نہ کرو ۔‘‘ (اسے امام ترمذی نے حسین بن ذکوان عن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے) اور علی ؓ سے مروی حدیث :’’ مسلمان برابر ہیں .....‘‘ کتاب القصاص میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Musnad Ahmad
71
۔ (۷۱)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)، قَالَ: فَأَیُّ الْاِیْمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْہِجْرَۃُ۔)) قَالَ: وَمَا الْہِجْرَۃُ؟ قَالَ: ((تَہْجُرُ السُّوْئَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ۔)) قَالَ: وَمَا الْجِہَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ إِذَا لَقِیْتَہُمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَ أُہْرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثُمَّ عَمَلَانِ ہُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِہِمَا، حَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ أَوْ عُمْرَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۵۲)
سیدنا عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان۔ ایک روایت میں ہے : اچھا اخلاق۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔ ایک روایت میںہے: اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر و سماحت۔ اس نے کہا: افضل ایمان کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہجرت۔ اس نے کہا: ہجرت کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: برائی کو ترک کر دینا۔ اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جہاد۔ اس نے کہا: جہاد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔ اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر دو عمل ہے، وہ افضل ترین ہیں اور(ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔
Musnad Ahmad
98
۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔
Musnad Ahmad
151
۔ (۱۵۱)۔عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ، وَالْمُجَاہِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَہُ فِی طَاعَۃِاللّٰہِ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ الْخَطَایَا وَ الذُّنُوْبَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۸)
سیدنا فضالہ بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تم کو مؤمن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مؤمن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں ،مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔
Musnad Ahmad
152
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مؤمن کون ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن وہ ہے کہ دوسرے مؤمن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میںجس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔
Musnad Ahmad
153
۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)
اور اس سے ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔
Musnad Ahmad
1265
۔ (۱۲۶۵) عَنْ نَافِع أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیَنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَیَجْتَمِعُوْنَ فَیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلَاۃَ وَلَیْسَیُنَادِیْ بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ بَعَضُہُمْ: اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثلَ قَرْنَ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَاتَبْعَثُونَ رَجُلَا یُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))(مسند احمد: ۶۳۵۷)
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیںبھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔
Musnad Ahmad
2174
۔ (۲۱۷۴) عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ اِبْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ فَقَالَ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ۔ (مسند احمد: ۵۲۱۶)
جنابِ نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا کہ کیایہ نماز واجب ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور مسلمانوں نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔
Musnad Ahmad
2508
۔ (۲۵۰۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ ذَوِی حَاجَۃٍ یَأْتَزِرُوْنَ بِھٰذِہِ النَّمِرَۃِ فَکَانَتْ اِنَّمَا تَبْلُغُ أَنْصَافَ سُوْقِہِمْ أَوْ نَحْوَ ذَالِکَ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یَعْنِی النِّسَائِ فَـلَا تَرْفَعْ رَأْسَہَا حَتّٰی نَرْفَعَ رُؤُوْسَنَا کَرَاھِیَۃَ أَنْ تَنْظُرَ اِلٰی عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ صِغَرِ أُزُرِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۸۷)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ چونکہ مسلمان حاجت مند تھے، اس لیے وہ اس قسم کی (چھوٹی سی) دھاری دار چادر کا ازار باندھ لیتے تھے، جو تقریبا ان کی نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھی، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، وہ اس وقت تک (سجدے سے) سر نہ اٹھائے جب تک ہم مرد لوگ اپنے سر نہ اٹھا لیں، (اس حکم کی یہ وجہ تھی کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ناپسند تھا کہ عورتوں کی نگاہ مردوں کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں پر پڑھ جائے گی۔