مسنداحمد

Musnad Ahmad

ایمان اور اسلام کی کتاب

عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا

۔ (۷۱)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)، قَالَ: فَأَیُّ الْاِیْمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْہِجْرَۃُ۔)) قَالَ: وَمَا الْہِجْرَۃُ؟ قَالَ: ((تَہْجُرُ السُّوْئَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ۔)) قَالَ: وَمَا الْجِہَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ إِذَا لَقِیْتَہُمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَ أُہْرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثُمَّ عَمَلَانِ ہُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِہِمَا، حَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ أَوْ عُمْرَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۵۲)

سیدنا عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان۔ ایک روایت میں ہے : اچھا اخلاق۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔ ایک روایت میںہے: اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر و سماحت۔ اس نے کہا: افضل ایمان کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہجرت۔ اس نے کہا: ہجرت کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: برائی کو ترک کر دینا۔ اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جہاد۔ اس نے کہا: جہاد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔ اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر دو عمل ہے، وہ افضل ترین ہیں اور(ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔

۔ (۷۲)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ؓ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِخَادِمِہِ: ((اُخْرُجِیْ إِلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُوْلِیْ لَہُ: فَلْیَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ! أَأَدْخُلُ؟)) قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذَالِکَ فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِیْ، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ اَتَیْتَنَا بِہِ؟ قَالَ: ((لَمْ آتِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ، أَتَیْتُکُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَأَحْسِبُہُ قَالَ: ((وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنْ تَدَعُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَأَنْ تُصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَ أَنْ تَصُوْمُوْا مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَیْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوْا مِنْ مَالِ أَغْنِیَائِکُمْ فَتَرُدُّوْہَا عَلٰی فُقَرَائِکُمْ۔))قَالَ: فَقَالَ: ہَلْ بَقِیَ مِنَ الْعِلْمِ شَیْئٌ لَا تَعْلَمُہُ؟ قَالَ: ((قَدْ عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۱۵)

ربعی بن حراش سے مروی ہے کہ بنوعامر کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔ اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: پس میں داخل ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا ویگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزی کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنی مالدار لوگوں سے زکوۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔ اس بندے نے کہا: کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہے کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)

۔ (۷۳)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ إذَا رَاکِبٌ یُوْضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کَأَنَّ ہَذَا الرَّاکِبَ إِیَّاکُمْ یُرِیْدُ۔)) قَالَ: فَانْتَہَی الرَّجُلُ إِلَیْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟)) قَالَ: مِنْ أَہْلِیْ وَوَلَدِی وَ عَشِیْرَتِیْ، قَالَ: ((فَأَیْنَ تُرِیْدُ؟)) قَالَ: أُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((فَقَدْ أَصَبْتَہُ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیْْ الزَّکَاۃَ وَ تَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) قَالَ: قَدْ أَقْرَرْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِیْرَہُ دَخَلَتْ یَدُہُ فِی شَبْکَۃِ جُرْذَانٍ فَہَوٰی بَعِیْرُُہُ وَہَوَی الرَّجُلُ فَوََقَعَ عَلٰی ہَامَتِہِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیَّ بِالرَّجُلِ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عَمَّارُبْنُ یَاسِرٍ وَحُذَیْفَۃُ فَأَقْعَدَاہُ فَقَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُبِضَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا رَأَیْتُمَا إِعْرَاضِیْ عَنِ الرَّجُلِ فَإِنِّی رَأَیْتُ مَلَکَیْنِِ یَدُسَّانِ فِیْ فِیْہِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ مَاتَ جَائِعًا۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَذَا وَاللّٰہِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ اللّٰہُ فِیْہِمْ: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((دُوْنَکُمْ أَخَاکُمْ۔)) قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاہُ إِلَی الْمَائِ فَغَسَّلْنَاہُ وَ حَنَّطْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ وَحَمَلْنَاہُ إِلَی الْقَبْرِ، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی جَلَسَ عَلٰی شَفِیْرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِلْحَدُوْا وَلَا تَشُقُّوْا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۰)

سیدناجریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف آنے کے لیے اپنی سواری کو جلدی چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سوار کا ارادہ تم لوگ ہو۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کہا اور ہم نے اس کا جواب دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا: جی اپنے اہل و اولاد اور رشتہ داروں کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی اللہ کے رسول کو ملنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایمان کی تعلیم دیں کہ وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ اس نے کہا: جی میں اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے بلوں میں گھس گئی، جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی اپنے سر کے بل گرا اور فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عمار اور سیدنا حذیفہؓجلدی سے گئے، اس آدمی کو بٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بندہ تو فوت ہو گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس بندے سے اعراض کر رہا تھا، پس بیشک میں نے دیکھا کہ دو فرشتے اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہے تھے، اس سے مجھے پتہ چلا کہ بھوکا مرا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ان لوگوں میں سے ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُوْنَ} (جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہِ راست پر چل رہے ہیں۔) (سورۂ انعام: ۸۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنے اس بھائی کو سنبھال لو۔ پس ہم اسے اٹھا کر پانی کی طرف لے گئے، اس کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور قبر کی طرف اٹھا کر لے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور قبرکے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: لحد بناؤ، شَق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے مذاہب والوں کے لیے ہے۔

۔ (۷۴) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا نَحْنُ نَسِیْرُ إِذْ رُفِعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: وَقَعَتْ یَدُ بَکْرِہِ فِی بَعْضِ تِلْکَ الَّتِیْ تَحْفُرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِیْہِ: ((ہَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۱)

۔ (دوسری سند) سیدنا جریرؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ابھرتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا…، پھر اسی قسم کی روایت کا ذکر کیا، البتہ یہ الفاظ بھی کہے: اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے کھودے ہوئے کسی بل میں گھس گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو عمل تو تھوڑا کرتے ہیں، لیکن اجر بہت زیادہ پاتے ہیں۔

۔ (۷۵) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الْاِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الْاِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) قَالَہَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا، ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۷۱)

۔ (تیسری سند) ایک آدمی آیا اور اسلام میں داخل ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ایک سفر میں اسے اسلام کی تعلیم دے رہے تھے، اتنے میں اس کے اونٹ کا پاؤں چوہے کے بل میں گھسا، (جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا ) اور اس نے اس آدمی کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن اجر بہت زیادہ پایا۔ تین دفعہ یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شَق دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔

۔ (۷۶)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ أَعْرَابِیًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُہُ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((تَعْبُدُاللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُ، فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلٍ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۸۴۹۶)

سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کر دیں کہ اگر میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نماز قائم کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی جان ہے! میں نہ ان عبادات پر زیادتی کروں گا اور نہ ان میںکمی ہونے دوں گا، جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کو یہ بات بھلی لگے کہ وہ اہلِ جنت میں کوئی سے آدمی دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔