مسنداحمد

Musnad Ahmad

ایمان اور اسلام کی کتاب

عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا


۔ (۷۴) (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا نَحْنُ نَسِیْرُ إِذْ رُفِعَ لَنَا شَخْصٌ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: وَقَعَتْ یَدُ بَکْرِہِ فِی بَعْضِ تِلْکَ الَّتِیْ تَحْفُرُ الْجُرْذَانُ، وَقَالَ فِیْہِ: ((ہَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِیْلاً وَأُجِرَ کَثِیْرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۹۱)

۔ (دوسری سند) سیدنا جریرؓ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ابھرتا ہوا ایک شخص دکھائی دیا…، پھر اسی قسم کی روایت کا ذکر کیا، البتہ یہ الفاظ بھی کہے: اس کے اونٹ کی اگلی ٹانگ چوہوں کے کھودے ہوئے کسی بل میں گھس گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو عمل تو تھوڑا کرتے ہیں، لیکن اجر بہت زیادہ پاتے ہیں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۷۴) تخریج: حدیث حسن بطرقہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳۲۸، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۸۲۹(انظر: ۱۹۱۷۷)