مسنداحمد

Musnad Ahmad

ایمان اور اسلام کی کتاب

اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان

۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)

ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔

۔ (۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: بُنِیَ الْاِسُلَامُ عَلٰی خَمْسٍ، شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: وَالْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْجِہَادُ حَسَنٌ، ہَکَذَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۴۷۹۸)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ ایک آدمی نے کہا: اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد؟ انھوں نے کہا: جہاد اچھی چیز ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں یہ حدیث ایسے بیان کی تھی۔

۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)

سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

۔ (۸۰)۔عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمِ نِ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ فَرَضَہُنَّ اللّٰہُ فِی الْاِسْلَامِ فَمَنْ جَائَ بِثَلَاثٍ لَمْ یُغْنِیْنَ عَنْہُ شَیْئًا حَتَّی یَأْتِیَ بِہِنَّ جَمِیْعًا، اَلصَّلَاۃُ وَ الزَّکَاۃُ وَ صِیَامُ رَمَضَانَ وَ حَجُّ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۴۲)

زیاد بن نعیم حضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ اِن سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔

۔ (۸۱)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّی یَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۸)

سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔

۔ (۸۲) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ أَنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ یُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۲)

۔ (دوسری روایت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔

۔ (۸۳)۔عَنِ السَّدُوْسِیِّ یَعْنِی ابْنَ الخَصَاصِیَّۃِ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُبَایِعَہُ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ شَہَادَۃَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ وَ أَنْ أُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ أَنْ أُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ وَ أَنْ أَحُجَّ حَجَّۃَ الْاِسُلَامِ وَ أَنْ أَصُوْمَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَ أَنْ أُجَاہِدَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللّٰہِ مَا أُطِیْقُہُمَا الْجِہَادُ وَ الصَّدَقَۃُ، فَإِنَّہُمْ زَعَمُوْا أَنَّ مَنْ وَلَّی الدُّبُرَ فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنَ اللّٰہِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتُ تِلْکَ جَشِعَتْ نَفْسِیْ وَ کَرِہَتِ الْمَوْتَ، وَ الصَّدَقَۃُ فَوَاللّٰہِ مَا لِیْ إِلَّا غُنَیْمَۃٌ وَ عَشْرُ ذَوْدٍ، ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحُمُوْلَتُہُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَ یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((فَـلَا جِہَادَ وَلَا صَدَقَۃَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِذًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا أُبَایِعُکَ، قَالَ: فَبَایَعْتُ عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۹۸)

سیدنا ابن خصاصیہ سدوسیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میںجہاد کرنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوۃ ہیں نا، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کرتا ہوں، پھر میں نے ان سب امور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیعت کی۔

۔ (۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ: ((إِنَّکَ تَأْتِیْ قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّ اللّٰہَ اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً فِی أَمْوَالِہِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ وَ تُرَدُّ فِیْ فُقَرَائِہِمْ، فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوْکَ لِذَالِکَ فَإِیَّاکَ وَ کَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۱)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جب سیدنا معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کِتَابُ لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کویہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پرزکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی،ا گر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔