TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 79 - اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان - ایمان اور اسلام کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 8 in this chapter
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
79
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۵۰۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳۶۴(انظر: ۱۹۲۲۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …اس حدیث کا متن مشہور ہے اور تقریباً ہر خاص و عام کو یاد بھی ہے، کاش! ہمارے اندر عملی رجحان بھی پیدا ہو جاتا اور ہم اسلام کے ان پانچ ستونوں کو تعمیر کر کے اپنے سروں پر اسلام کی چھت کا سایہ کر لیتے۔

Related Chapters

176
1
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
Sahih Muslim
2
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
Sahih Muslim
3
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Forming Rows Between Columns
باب: ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Mentioned) About A Man Performing Ghusl When He Accepts Islam
باب: قبول اسلام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About A Married Couple Who Are Idolaters, Then One Of Them Accepted Islam
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Swear By A Religion Other Than Islam
باب: اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کے قسم کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Disobeying Parents
باب: ماں باپ کی نافرمانی اور ان سے قطع تعلق بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے
Jam e Tirmazi
12
باب: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Islam Is Based Upon Five.
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Islam Began As Something Strange And It Will Return To Being Something Strange
باب: اسلام اجنبی بن کر آیا پھر اجنبی بن جائے گا
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Write Down Knowledge
باب: (ابتدائے اسلام میں) احادیث لکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
18
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
20
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
Musnad Ahmad
22
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
23
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
26
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
28
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
30
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے
Musnad Ahmad
31
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
Musnad Ahmad
32
اسلام سے مرتد ہونے والے کی حد اور زنادقہ کا بیان
Musnad Ahmad
33
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
Musnad Ahmad
35
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
Musnad Ahmad
36
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
37
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
Musnad Ahmad
38
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
40
سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
41
سر یہ عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ عہدِ اسلام میں بنائے جانے والے اولین امیرِ لشکرہیں
Musnad Ahmad
42
نجد کی جانب سیدنا محمد بن مسلمہ کی مہم، ثمامہ بن اثال کی گرفتاری اور اس کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
43
سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے قبول اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
44
فتح مکہ کے دن سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ ابو قحافہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
45
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
Musnad Ahmad
46
عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد اور قبولِ اسلام
Musnad Ahmad
47
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
49
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

486
Musnad Ahmad
77
۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Musnad Ahmad
13059
۔ (۱۳۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ کَتَبْتُ اِلَیْکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَدْ عَرَضْتُہُ وَجَمَعْتُہُ عَلٰی مَا کَتَبْتُ بِہٖاِلَیْکَ، فَحَدِّثْ بِذٰلِکَ عَنِّیْ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ الْحِزَامِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَیَّاشٍ السَّمْعِیُّ الْاَنْصَارِیُّ الْقِبَائِیُّ مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ دَلْھَمِ بْنِ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَمِّہِ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ دَلْھَمٌ: وَحَدَّثَنِیْہِ اَبُوْ الْاَسْوَدِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیْطٍ اَنَّ لَقِیْطًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَرَجَ وَافِدًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ نُہَیْکُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِکِ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ، قَالَ لَقِیْطٌ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاِنْسِلَاخِ رَجَبَ، فَاَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْنَاہُ حِیْنَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَقَامَ فِی النَّاسِ خَطِیْبًا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا اِنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکُمْ صَوْتِیْ مُنْذُ اَرْبَعَۃَ اَیَّامٍ اَلَا لَاَسْمَعَنَّکُمْ ، اَلَا فَہَلْ مِنَ امْرِیئٍ، بَعَثَہُ قَوْمُہُ۔)) فَقَالُوْا: اِعْلَمْ لَنَا مَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ اَلَا ثُمَّ لَعَلَّہُ اَنْ یُّلْہِیَہُ حَدِیْثُ نَفْسِہِ اَوْ حَدِیْثُ صَاحِبِہٖاَوْیُلْہِیْہِ الضَّلاَلُ، اِنِّی مَسْؤُلٌ ھَلْ بَلَّغْتُ، اَلَا اِسْمَعُوْا تَعِیْشُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا۔)) قَالَ: فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُہُ وَبَصَرُہُ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاعِنْدَکَ مِنْ عِلْمِ الْغَیْبِ فَضَحِکَ لَعَمْرُ اللّٰہِ وَھَزَّ رَاْسَہُ وَعَلِمَ اَنِّیْ اَبْتَغِیْ لِسَقَطِہٖفَقَالَ: ((ضَنَّرَبُّکَعَزَّوَجَلَّمَفَاتِیْحَ خَمْسٍ مِّنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ وَاَشَارَ بِیَدِہٖ۔)) قُلْتُ: وَمَا ھِیَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عِلْمُ الْمَنِیَّۃِ قَدْ عَلِمَ مَنِیَّۃَ اَحَدِکُمْ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ الْمَنِیَّ حِیْنَیَکُوْنُ فِی الرَّحْمِ قَدْ عَلِمَہُ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ مَا فِی غَدٍ وَمَا اَنْتَ طَاعِمٍ غَدًا وَلَاتَعْلَمُہُ، وَعَلِمَ الْیَوْمَ الْغَیْثَیُشْرِفُ عَلَیْکُمْ آزِلِیْنَ آدِلِیْنَ مُشْفِقِیْنَ فَیَظِلُّیَضْحَکُ، قَدْ اَعْلَمُ اَنَّ نَمِیْرَکُمْ اِلٰی قُرْبٍ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا ، وَعَلِمَ یَوْمَ السَّاعَۃِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنَا مِمَّا تُعْلِّمُ النَّاسُ وَمَا تَعْلَمُ فَاَنَا مِنْ قَبِیْلٍ لَایُصَدِّقُوْنَ تَصْدِیْقِنَا اَحَدٌ مِنْ مَذْجَحِ الَّتِیْ تَرْبُوْ عَلَیْنَا وَخَثْعَمَ الَّتِیْ تُوَالِیْنَا وَعَشِیْرَتُنَا الَّتِیْ نَحْنُ مِنْہَا ، قَالَ: ((تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ یُتَوَفّٰی نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَۃُ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ شَیْئٍ اِلَّا مَاتَ وَالْمَلَائِکَۃُ الَّذِیْنَ مَعَ رَبِّکَ عَزَّوَجَلَّ، فَاَصْبَحَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ یَطِیْفُ فِی الْاَرْضِ وَخَلَتْ عَلَیْہِ الْبِلَادُ، فَاَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلََّ السَّمَائَ، تَہْضِبُ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِیْلٍ وَلَا مَدْفَنِ َمیِّتٍ اِلَّاشَقَّتِ الْقَبْرُ عَنْہُ حَتّٰی تَجْعَلَہُ مِنْ عِنْدِ رَاْسِہِ فَیَسْتَوِیْ جَالِسًا فَیَقُوْلُ رَبُّکَ: مَہْیَمْ لِمَا کَانَ فِیْہِ،یَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَمْسٰی الْیَوْمُ وَلِعَہْدِہِ بِالْحَیَاۃِیَحْسِبُہُ حَدِیْثًا بِاَھْلِہٖ۔))فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیَجْمَعُنَا بَعْدَ مَاتَمَزَّقَنَا الرِّیَاحُ وَالْبِلٰی وَالسِّبَاعُ؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ، اَلْاَرْضُ اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ مَدَرَۃٌ بَالِیَۃٌ، فَقُلْتَ لَاتَحْیَا اَبَدًا، ثُمَّ اَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا السَّمَائَ، فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَیْکَ اِلَّا اَیَّامًا حَتّٰی اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ شَرْبَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُعَلٰی اَنْ یَجْمَعَہُمْ مِنَ الْمَائِ عَلٰی اَنْ یَجْمَعَ نَبَاتَ الْاَرْضِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَصْوَائِ اَوْ مِنْ مَصَارِعِہِمْ فَتَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْکُمْ۔))قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نَحْنُ مِلْأُ الْاَرْضِ وَھُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْنَا؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَۃٌ مِنْہُ صَغِیْرَۃٌ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ سَاعَۃً وَاحِدَۃً لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِمَا، وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُ عَلٰی اَنْ یَّراکُمْ وَتَرَوْنَہُ مِنْ اَنْ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُوْیَتِہِمَا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا یَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ اِذَا لَقِیْنَاہُ قَالَ: ((تُعْرَضُوْنَ عَلَیْہِ بَادِیَۃٌ لَہُ صَفَحَاتُکُمْ، لاَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ فَیَاْخُذُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ بِیَدِہٖ غُرْفَۃً مِّنَ الْمَائِ فَیَنْضَحُ قَبِیْلَکُمْ بِہَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتُخْطِیُٔ وَجْہَ اَحَدِکُمْ مِنْہَا قَطْرَۃٌ، فَاَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْہَہُ مِثْلَ الرَّیْطَۃِ الْبَیْضَائِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَتَخْطِمُہُ مِثْلَ الْحَمِیْمِ الْاَسْوَدِ، اَلَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْتَرِقُ عَلٰی اِثْرِہِ الصَّالِحُوْنَ فَیَسْلُکُوْنَ جَسْرًا مِّنَ النَّارِ، فَیَطَاُ اَحَدُکُمُ الْجَمْرَ فَیَقُوْلُ: حَسٍّ، یَقُوْلُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ: اَوَاَنُہُ، اَلَا فَتَطْلُعُوْنَ عَلٰی حَوْضِ الرَّسُوْلِ عَلٰی اَظْمَاِ وَاللّٰہِ نَاھِلَۃٍ عَلَیْھَا قَطُّ مَا رَأَیْتُھَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَا یَبْسُطُ وَاحِدٌ مِنْکُمْ یَدَہُ اِلَّا وُضِعَ عَلَیْھَا قَدْحٌ یُطَھِّرُہُ مِنَ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْاَذٰی وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَلَاتَرَوْنَ مِنْہُمَا وَاحِدًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَبِمَا نَبْصُرُ قَالَ: ((بِمِثْلِ بَصَرِکَ سَاعَتَکَ ہٰذِہٖوَذٰلِکَقَبْلَطُلُوْعِالشَّمْسِفِییَوْمٍاَشْرَقَتْہُ الْاَرْضُ وَاجَہَتْ بِہِ الْجِبَالُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نُجْزٰی مِنْ سَیِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا قَالَ: ((اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَالسَّیِّئَۃُ بِمِثْلِہَا اِلَّا اَنْ یَّعْفُوَ۔)) قَالَ:قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَمَّا الْجَنَّۃُوَاَمَّا النَّارُ؟ قَالَ: ((لَعَمْرُ اِلٰہِکَ اِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَۃَ اَبْوَابٍ ، مَا مِنْہُنَّ بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا، وَاِنَّ لِلْجَنَّۃِ لَثَمَانِیَۃَ اَبْوَابٍ، مَا مِنْہُمَا بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((عَلٰی اَنْہَارٍ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفّٰی وَاَنْہَارٍ مِّنْ کَاْسٍ مَا بِہَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَانَدَامَۃٍ، وَاَنْہَارٍ مِّنْ لَبَنٍ لَمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ، وَمَائٍ غَیْرِ آسِنٍ، وَبِفَاکِہَۃٍ لَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَا تَعْلَمُوْنَ وَخَیْرٌ مِنْ مِثْلِہِ مَعَہُ وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَنَا فِیْہَا اَزْوَاجٌ اَوْ مِنْہُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ: ((اَلصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِیْنَ تَلَذُّوْا بِہِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِکُمْ فِی الدُّنْیَا وَیَلْذَذْنَ بِکُمْ غَیْرَ اَنْ لَاتَوَالُدَ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: فَقُلْتُ: اَقْصٰی مَا نَحْنُ بَالِغُوْنَ مُنْتَہُوْنَ اِلَیْہِ، فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلٰیمَا اُبَایِعُکَ قَالَ: فَبَسَطَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَقَالَ: ((عَلٰی اِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَزِیَالِ الْمُشْرِکِ وَاَنْ لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اٰلِھًا غَیْرَہُ۔)) قُلْتُ: وَاِنَّ لَنَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَقَبَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَظَنَّ اَنِّیْ مُشْتَرِطُ شَیْئًا لَایُعْطِیْنِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْہَا حَیْثُ شِئْنَا وَلَایَجْنِیْ امْرِئٌ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہِ، فَبَسَطَ یَدَہُ وَقَالَ: ((ذٰلِکَ لَکَ تَحِلُّ حَیْثُ شِئْتَ وَلَایَجْنِیْ عَلَیْکَ اِلَّا نَفْسُکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَیْنِ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مِنْ اَتْقٰی النَّاسِ فِی الْاُوْلٰی وَالْآخِرَۃِ۔)) فَقَالَ لَہُ کَعْبُ بْنُ الْخُدْرِیَّۃِ اَحَدُ بَنِیْ بَکْرٍ مِنْ کِلَابٍ: مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بَنُوْ الْمُنْتَفِقِ اَھْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا وَاَقْبَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لِاَحَدٍ مِّمَنْ مَضٰی مِنْ خَیْرٍ فِیْ جَاھِلِیَّتِہِمْ قَالَ: ((قَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَیْشٍ وَاللّٰہِ اِنَّ اَبَاکَ الْمُنْتَفِقَ لَفِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَکَاَنَّہُ وَقَعَ حَرٌّ بَیْنَ جِلْدِیْ وَوَجْہِیْ وَلَحْمِیْ مِمَّا قَالَ لِاَبِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ النَّاسِ، فَہَمَمْتُ اَنْ اَقُوْلَ وَاَبُوْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ اِذَا الْاُخْرٰی اَجْہَلُ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَھْلُکَ قَالَ: ((وَاَھْلِیْ لَعَمْرُ اللّٰہِ مَا اَتَیْتَ عَلَیْہِ مِنْ قَبْرِعَامِرِیٍّ اَوْ قُرَشِیِّ مِنْ مُشْرِکٍ فَقُلْ اَرْسَلَنِیْ اِلَیْکَ مُحَمَّدٌ فَاُبَشِّرُکَ بِمَا یَسُوْئُ کَ تُجَرُّ عَلٰی وَجْہِکَ وَبَطْنِکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَافَعَلَ بِہِمْ ذٰلِکَ وَقَدْکَانُوْا عَلٰی عَمَلٍ لَایُحْسِنُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ وَکَانُوْا یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُصْلِحُوْنَ، قَالَ: ((ذٰلِکَ لِاَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ فِی آخِرِ کُلِّ سَبْعِ اُمَمٍ یَعْنِیْ نَبِیًّا فَمَنْ عَصٰی نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ وَمَنْ اَطَاعَ نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۷)
عاصم بن لقیط کہتے ہیں: بیشک سیدنا لقیط، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا، اس کا نام نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق تھا، سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںاور میرا ساتھی رجب کا مہینہ گزرنے کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم جب وہاں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: لوگو! خبردار! میں چار دنوں سے اپنی آواز تم لوگوں سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھا، اب میں ضرور تم سے کچھ باتیں کروں گا۔ خبر دار! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی بھی ہے، جسے اس کی قوم نے یہاں بھیجا ہو؟اور کہا ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو کچھ بیان کریں اسے یاد کر لینا؟ خبردار ممکن ہے کہ اس آدمی کو اس کے خیالات یا اس کے ساتھی کی کوئی بات یا گمراہی غافل کر دے۔ خبردار! مجھ سے اس بات کی پوچھ گچھ ہوگی کہ میں نے یہ باتیں تم لوگوں تک پہنچا دی ہیں یا نہیں؟ خبردار! غور سے سنو! تم میرے بعد عرصہ تک زندگی گزار و گے۔ خبردار! بیٹھ جاؤ، خبردار! بیٹھ جاؤ۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر لوگ بیٹھ گئے، میں اور میرا ساتھی کھڑے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل اور نگاہ ہمارے لیے فارغ ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر طرف سے فارغ ہو کر مکمل طور پر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو میںنے کہا: اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس علم غیب میں سے کیا کچھ ہے؟ اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بات سن کر مسکرا دئیے، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو حرکت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جان گئے کہ میں آپ سے کوئی ایسی بات پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے غیب کی پانچ چیزوں کے علم کی چابیاں اپنے پاس رکھی ہیں، ان پانچ چیزوں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے پانچ کا اشارہ کیا، میں نے کہا: وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) موت کا علم، وہ تمہاری موت کے وقت کو جانتا ہے اور تم اسے نہیں جانتے، (۲) منی کا علم، جب وہ ماں کے رحم میں ہوتی ہے، وہ اس کے مستقبل کے بارے میں ہر بات جانتا ہے، لیکن اسے تم نہیں جانتے، (۳)کل یعنی مستقبل کا علم کہ تم آئندہ کیا کچھ کھاؤ گے، اس کے متعلق تم کچھ نہیں جانتے، (۴) وہ بارش کا علم رکھتا ہے، جب وہ تم پر جھانکتا ہے، جبکہ تم (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) محبوس، بوجھ والے اور ڈرنے والے ہوتے ہو، وہ تمہاری یہ حالت دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے اور جانتا ہوتا ہے کہ تمہاری سیرابی قریب ہے۔ یہ سن کر سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو رب ہنستا ہے، ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہیں رہیں گئے۔ اور(۵) قیامت کا علم۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگوں کو جو تعلیم دیتے ہیں اور خود جو علم رکھتے ہیں، اس میں سے ہمیں بھی سکھائیں، میں ایسے لوگوں میں سے آیا ہوں، جو ہماری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق نہیں کرتے، ایک تو قبیلہ مذ حج ہے، وہ ہم سے بالائی جانب رہتا ہے اور دوسرا قبیلہ خثعم کا ہے، وہ ہمارا حلیف ہے اور اسی طرح ہمارا قبیلہ ہے، جس سے ہم ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو جب تک منظور ہوگا، تم دنیا میں رہو گے، پھر تمہارے نبی کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعد تم یہاں اس وقت تک رہو گے، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، اس کے بعد ایک زبردست قسم کی چیخ کی آواز آئے گی، جس کی شدت سے روئے زمین پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی، حتیٰ کہ جو فرشتے تمہارے رب کے ساتھ ہیں، وہ بھی مرجائیں گے، تمہارا رب زمین پر گھومے گا، سارے علاقے روح والی اشیاء سے خالی ہوچکے ہوں گے، پھر تمہارا رب آسمان کو ڈھیلا چھوڑ دے گا اور عرش کے قریب سے بارش برسے گی، اس کے نتیجے میں زمین پر جہاں بھی کوئی مقتول گرا ہوگا یا کوئی میت مدفون ہوگی، ان کی قبریں پھٹ جائیں گی، یہاں تک کہ وہ سر کی جانب سے اٹھ کر سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں گے، تمہارا رب ان سے پوچھے گا: کیا ہوا؟ وہ پہلے جس کیفیت میں تھا، اس سے موجودہ حالت میں آنے پر وہ کہے گا:اے میرے رب ! آج میرے لیے یہ دن آیا ہے، وہ چونکہ اس سے پہلے زندگی گزار چکا ہوگا، اس لیے وہ اسے اپنے اہل و عیال کی ملاقات کا ذریعہ سمجھے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! ہمارے مرنے کے بعد جب کہ ہوائیں، بوسیدگی اور درندے ہمیں ریزہ ریزہ کر چکے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے دوبارہ جمع کر ے گا؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں، تم زمین کو دیکھتے ہو، یہ سخت اور بنجرہوچکی ہوتی ہے، تم یہ سمجھ رہے ہوتے ہو کہ اب یہ کبھی بھی آباد نہیں ہو سکے گی، پھر تمہارا رب بارش برسا دیتا ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تم دیکھتے ہو کہ وہ پودوں کے اگنے سے سر سبزہو چکی ہوتی ہے، تمہارے اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے لیے زمین کی نباتات کو اگانے اور پیدا کرنے کے مقابلے میں ان لوگوں کو پانی سے پیدا کرنا آسان تر ہے، یہ لوگ ہواؤں اور قبروں کے درمیان سے نکل رہے ہوں گے اور تم اللہ تعالیٰ کو اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! انسانوں سے تو پوری زمین بھری ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ایک مقام پر ایک وجود ہوگا،اس لیے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بیک وقت ہم اسے دیکھ لیں اور وہ ہمیں دیکھ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مثال کے ذریعے بتلاتا ہوں، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی نشانیاں ہیں، تم انہیں اور وہ تمہیں بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ان کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت بھی پیش نہیں آتی، تمہارے اللہ کی قسم ! جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے اور سورج چاند کے تمہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آتی، اس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اور تم اس کو اس سے بھی زیادہ آسانی سے دیکھنے پر قادر ہو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم سب کو اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور تم میں سے کسی کا بھی چہرہ اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکے گا، تب تمہارا رب پانی کا ایک چلو لے کر اسے تمہاری طرف پھینکے گا، تمہارے اللہ کی قسم! اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہارے چہروں سے ادھر اُدھر نہیں جائے گا، جس قدرمسلمان ہوں گے، اس پانی کی برکت سے ان کے چہرے نرم ، ملائم اور چمکدار ہوجائیں گے اور وہ پانی کافروں کی ناک کو سیاہ کوئلے کی مانند کر دے گا، اس کے بعد تمہارا نبی ایک طرف کو جائے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے آگ کے ایک پل پر چلیں گے، پھر تم میں سے کوئی آگ کے انگاروں کو روندے گا اور ہائے ہائے کی آواز نکالے گا،اس کے بعد تمہیں شدید پیاس لگی ہوگی اور تم اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض ِ کوثر پر پہنچو گے، اللہ کی قسم وہاں پینے کے لیے اس قدر وافر پانی ہوگا کہ میںنے آج تک اتنا پانی نہیں دیکھا۔ تمہارے اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی آدمی پانی کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، اس پر پانی سے بھر اہوا ایک پیالہ رکھ دیا جائے گا۔ وہ پانی اسے پاخانے، پیشاب ، اور دیگر نجاستوں سے پاک کردے گا، سورج اور چاند کو محبوس کر دیاجائے گا اور تم ان میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھ سکو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم دیکھیں گے کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ا س وقت اسی طرح دیکھو گے، جیسے اب دیکھ رہے ہو، و ہ اس قسم کی کیفیت ہوگی جیسے سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر قبل سورج کی روشنی پہاڑوں پر پڑے تو زمین جس طرح روشن ہوتی ہے۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں :میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے گناہوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا اور ہر گناہ کا اس کے برابر بدلہ ملے گا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جنت اور جہنم کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! جہنم کے سات دروازے ہیں، ہر دو دروازوں کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں وہ فاصلہ طے کرتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اس کے بھی دو دروازوں کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں اس مسافت کر طے کرتا ہے۔ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ہم جنت میں کیا کچھ دیکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں صاف شفاف شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ایسی عمدہ شراب کی نہریں ہوںگی کہ جس کے پینے کے بعد نہ تو سر درد ہوگا اور نہ ندامت اور وہاں صاف دودھ کی نہریں ہوں گی، وہ ایسا دودھ ہوگا کہ اس کا ذائقہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا اور پانی کی نہریں ہوں گی، وہ پانی ایسا ہوگا کہ جو کبھی بھی باسی نہیں ہوگا اور تمہارے اللہ کی قسم! وہاں ایسے پھل ہوں گے جنہیں تم (نام سے) جانتے ہو اور ان کے علاوہ ان سے بھی عمدہ پھل ہوں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ میںنے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا جنت میں ہماری بیویاں ہوں گی یا ان میں سے نیک ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صالحین کے لیے صالحات ہوگی، تم ان سے وہاں اس طرح لطف اندوز ہوگے، جیسے تم ان سے اس دنیا میں لطف اندوز ہوتے ہو اور وہ بھی تم سے لطف اندوز ہوں گی، البتہ ولادت کا کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: تب تو وہ سب کچھ ہوگا جس کی ہم زیادہ سے زیادہ تمنا کرسکتے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ جواب نہیں دیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کن باتوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا کر فرمایا: باقاعدگی سے نماز ادا کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، مشرک سے جدا رہنے اور اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، ان سب امور پر بیعت کرو۔ میں نے کہا: اس کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کا سارا علاقہ یعنی روئے زمین ہماری ہوگی۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط لگانے والا ہوں، جس کا آپ مجھ سے وعدہ نہیں کرسکیں گے، میں نے کہا: ہم پوری زمین پر جہاں چاہیں گے جائیں گے، لیکن ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آدمی جوکچھ کرتا ہے، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہہ کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: تمہیں اجازت ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو جاؤ اور کسی کے عمل کی تم پر ذمہ داری نہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس آگئے، پھر آپ نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! یہ دونوں افراد دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ متقی ہیں۔ یہ سن کر بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص کعب بن خدریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو منتفق ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں پھر واپس آ گئے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہم سے پہلے دور جاہلیت میں گزر چکے ہیں، کیا ان میں سے کسی کا انجام بہتر بھی ہوگا؟میری اس بات پر ایک عام قریشی آدمی بولا: اللہ کی قسم ، تیرا باپ منتفق تو جہنمی ہی ہے۔ یہ سن کر میرے تن بدن کو آگ لگ گئی کہ اس نے بر سرِ عام میرے والد کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں کہ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والد کا کیا بنے گا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ اس شخص کے بدلے میں کہی گئی یہ بات اس سے بڑی جہالت ہوگی، پھرمیںنے یو ں کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاندان والے کہاںـ ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے خاندان والے، اللہ کی قسم! تم جس قریشی یا بنو عامر کے مشرک آدمی کی قبر کے پاس سے گزرو تو یوں کہنا کہ مجھے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیری طرف بھیجا ہے، میں تجھے ایسی خبر دیتا ہوں کہ جسے سن کر تجھے افسوس اور دکھ ہوگا، تجھے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان کا یہ انجام کیوں ہوگا، وہ تو جو کچھ کرتے رہے اچھا ہی سمجھ کرکرتے رہے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی، وہ گمراہوں میں سے ہوا اور جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا۔
Musnad Ahmad
62
۔ (۶۲)۔عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ: ((لَا۔)) وَسَأَلَہُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صِیَامُ رَمَضَانَ۔)) قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَذَکَرَ الزَّکَاۃَ، قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ: ((لَا۔))قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ وَلَا اَنْقُصُ مِنْہُنَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۰)
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا ور کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رمضان کے روزے۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر زکوۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں۔ بالآخر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔
Musnad Ahmad
201
۔ (۲۰۱)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ(ؓ): اِنَّا نُسَافِرُ فِی الْآفَاقِ فَنَلْقٰی قَوْمًا یَقُوْلُوْنَ لَا قَدَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اِذَا لَقِیْتُمُوْہُمْ فَأَخْبِرُوْہُمْ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مِنْہُمْ بِرِیْئٌ وَأَنَّہُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَـلَاثًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رَجُلٌ، فَذَکَرَ مِنْ ہَیْئَتِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا حَتَّی کَادَ رُکْبَتَاہُ تَمَسَّانِ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ أَوْ عَنِ الْاِیْمَانِ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَرَاہُ قَالَ: ((بِخَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((اِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَحَجُّ الْبَیْتِ وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ وَ غُسْلٌ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ قََالَ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، کَأَنَّہُ یُعْلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ۔)) أَوْ ((تَعْبُدُہُ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَا تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ نَقُوْلُ: مَا رَاَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرُسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، فَیَقُوْلُ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ،قَالَ: أَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ بِہَامِنَ السَّائِلِ۔))، قَالَ: فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ ذَاکَ مِرَارًا، مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، ثُمَّ وَلّٰی، قَالَ سُفْیَانُ: فَبَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْتَمِسُوْہُ۔)) فَلَمْ یَجِدُوْہُ،قَالَ: ((ہٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ، مَا أَتَانِیْ فِیْ صُوْرَۃٍ اِلَّا عَرَفْتُہُ غَیْرَ ہٰذِہِ الصُّوْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۴)
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے کہا: ہم لوگ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اب جب تم ان کو ملو تو ان کو یہ بتلا دینا کہ عبد اللہ بن عمر ان سے اور وہ اِن سے بری ہیں، انھوں نے تین دفعہ یہ بات کہی، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، پھر اس کی حالت بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: مزید قریب ہو جا۔ وہ اور قریب ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور قریب ہو جاؤ۔ پس وہ اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں کو مسّ کرنے لگے، پھر اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شرّ والی، پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔ ہر دفعہ اس نے جواب میں کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تعلیم دے رہا ہے، بہرحال اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ہر دفعہ ہم کہتے: ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، پھر اس نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں، اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ اس نے کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، اس نے کئی دفعہ یہ بات کہی، ہم نے اس شخص کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا پایا، پھر وہ چلا گیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی موصول ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو۔ لیکن صحابہ اس کو تلاش نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے، پہلے تو جس صورت میں آتے تھے، میں اِن کو پہچان لیتا تھا، ما سوائے اس صورت کے، (آج میں اِن کو نہیں پہچان سکا)۔
Musnad Ahmad
768
۔ (۷۶۸)۔عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ) ؓ، أَنَّہُ شَکَا اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ الشَّیئَ فِی الصَّلَاۃِ یُخَیَّلُ اِلَیہِ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((لَا یَنْفَتِلُ حَتَّی یَجِدَ رِیحًا أَو یَسْمَعَ صَوتًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔
Musnad Ahmad
1078
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Musnad Ahmad
1101
۔ (۱۱۰۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبَ مَا لَمْ یَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ اِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرَنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے سے آدمی کو سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
1160
۔ (۱۱۶۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یَعْنِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَیْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ)) (مسند أحمد: ۳۶۰۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
Musnad Ahmad
1266
۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔