مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کی کتاب

علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں

۔ (۱۰۲۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: مَا ہَجَّرْتُ اِلَّا وَجَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ، قَالَ: فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ: أَشْکَنْبْ دَرْدْ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((قُمْ فَصَلِّ فَاِنَّ فِی الصَّلَاۃِ شِفَائً۔)) (مسند أحمد: ۹۰۵۴)

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب بھی نماز کے اول میں جاتا تھا کہ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر کھڑا ہو جا اور نماز پڑھ، کیونکہ نماز میں شفا ہے۔

۔ (۱۰۲۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَاِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، قَالَ: ((اِنَّہُ سَیَنْہَاہُ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۷۷)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب یہ نماز والا عمل اس کو ایسا کرنے سے روک دے گا۔

۔ (۱۰۲۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ أَیِسَ أَنْ یَعْبُدَہُ الْمُصَلُّوْنَ وَلَکِنْ فِی التَّحْرِیْشِ بَیْنَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۰۲)

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک شیطان اس بات سے نا امید ہو چکا ہے (کہ جزیرۂ عرب میں) نمازی اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انھیں آپس میں لڑائی اور فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔

۔ (۱۰۲۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلَاۃُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ)) (مسند أحمد: ۱۴۷۱۶)

سیدنا جابربن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی وضو ہے۔

۔ (۱۰۲۷)۔عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ)ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلٰوۃَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) (مسند أحمد: ۴۲۳)

سیدنا عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے یہ جان لیا کہ نماز حق اور واجب ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

۔ (۱۰۲۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۹)

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرا محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کے اندر رکھی گئی ہے۔

۔ (۱۰۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُُؑ: اِنَّہُ قَدْ حُبِّبَ اِلَیْکَ الصَّلٰوۃُ، فَخُذْ مِنْہَا مَا شِئْتَ)) (مسند أحمد: ۲۲۰۵)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ نے مجھے کہا: بیشک نماز کو آپ کو محبوب قرار دیا گیا ہے، پس اس میں سے جتنی چاہیں، پڑھیں۔

۔ (۱۰۳۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذٰلِکَ أَ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۷)

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ کہ سیدنا نعمان بن قوقلؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کرتا رہوں اور اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔

۔ (۱۰۳۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِیْ عَلَی صِہْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ، فَقَالَ: یَاجَارِیَۃُ! ائْتِیْنِیْ بِوَضُوْئٍ لَعَلِّیْ أُصَلِّیْ فَأَسْتَرِیْحَ فَرَآنَا أَنْکَرْنَا ذَاکَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قُمْ یَا بِلَالُ! فَأَرِحْنَا بِالصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۴۱)

عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اپنے انصاری سسرال کے پاس گیا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا، میرے باپ نے کہا: او بچی! وضو کا پانی لاؤ، تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ہم ان راحت والے الفاظ کا انکار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلال! اٹھو اور نماز کے ساتھ مجھے راحت پہنچاؤ۔

۔ (۱۰۳۲)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۸۸)

سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غمزدہ کر دیتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز پڑھتے۔

۔ (۱۰۳۳)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ مِنْ آخِرِ وَصِیَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلٰوۃَ الصَّّلٰوۃَ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) حَتّٰی جَعَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَجْلِجُہَا فِیْ صَدْرِہِ وَمَا یَفِیْضُ بِہَا لِسَانُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۱۶)

سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی آخری وصیت کے یہ الفاظ تھے: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ احسان کرنا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان الفاظ کو سینے میں دوہرانا شروع کر دیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی زبان کو اظہار کرنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔

۔ (۱۰۳۴)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کَانَ آخِرُ کَلَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ، اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِیْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۵۸۵)

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا آخری کلام یہ تھا: نماز کو لازم پکڑنا، نماز کو لازم پکڑنا اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہنا۔