مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان

۔ (۱۲۳۷)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا غَلَبَتْہُ عَیْنُہُ أَوْ وَجِعَ فَلَمْ یُصَلِّ بِاللَّیْلِ صَلّٰی بِالنَّہَارِ اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۵۲۸۴)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آنکھ لگ جانے یا کوئی تکلیف ہونے کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دن کو بارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔

۔ (۱۲۳۸)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہُ فَلْیُوْتِرْ اِذَا ذَکَرَہُ أَوِاسْتَیْقَظَ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۲۸۴)

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نمازِ وتر سے سو جائے یا اس کو بھول جائے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو، وتر ادا کر لے۔

۔ (۱۲۳۹)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ عَمْروٍ ؓ أَنَّہُ خَرَجَ اِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ النَّبِیَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الصُّبْحِ وَلَمْ یَکُنْ رَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَصَلّٰی مَعَ االنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَامَ حِیْنَ فَرَغَ من الصُّبْحِ فرَکَعَ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا ہٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟)) فَأَخْبَرَہٗ، فَسَکَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۶۲)

سیدنا قیس بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ وہ نماز فجر کے لیے آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فجر کی نماز میں ہی پایا، جبکہ انھوں نے فجر کی دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی اور جب نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو فجر کی سنتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔

۔ (۱۲۴۰)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاتَتْہُ رَکْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلّٰاہُمَا بَعْدُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۶۹)

زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے عصر سے پہلے والی دو رکعتیں فوت ہو گئی تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو عصر کے بعد ادا کیا۔