سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (اے اللہ! تیرے لئے ہی میں نے رکوع کیا،تجھ پر ہی میں ایمان لایا اور تیرے لئے ہی میں مطیع ہوا ، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈی، میرا پٹھا اور جس کے ساتھ میرا قدم ٹھہرا ہو اہے، سب اللہ رب العالمین کے لئے جھکے ہیں۔)
سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے رکوع میں اپنا لو۔ جب {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} نازل ہوئی تو فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے سجدے میں اپنا لو۔
سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعَلٰی کہتے تھے، نیز جب آپ رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو ٹھہرتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت کے پاس سے گزرتے تواس سے پناہ مانگتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں یہ دعا پڑھتے تھے: سُبُّوْحٌ قُدُّ وْسٌرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ (وہ پاک اور مقدس ذات، جو فرشتوں اور روح (یعنی جبریل) کا ربّ ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اِغْفِرْلِیْ (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ،تو مجھے بخش دے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے۔
سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (اے ہمارے رب! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے)۔ پھر جب یہ سورت {إِذَاجَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو آپ یہ دعا کرتے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحَیْمُ۔ (اے ہمارے ربّ!تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاوت کرتے تو زیادہ تر اس کے بعد والے رکوع میں تین دفعہ یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیانیہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)