TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1697 - رکوع میں ذکر کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 8 in this chapter
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَاَلَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ، قَالَ: فَانْتَبَہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ قَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ مَاشَائَ أَنْ یَحْمَدَہُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ قَالَ: فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیانیہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
1697
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۹۷) تخریج: حسن۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۷۹، وأخرجہ ابوداود: ۸۵۰، وابن ماجہ: ۸۹۸، والترمذی: ۲۸۴ بذکر الدعاء بین السجدتین فقط (انظر: ۲۸۹۵، ۳۵۱۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔

Related Chapters

511
1
Chapter: Those Who Say That He Prayed With Eight Bowings And Four Prostrations
اس کا ذکر جس نے کہا آپ نےچار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے
Sahih Muslim
2
رکوع کی دعا (ذکر) کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For The Bowing And Prostration Positions
باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih While Bowing And Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What A Man Is To Say When Raising His Head From the Bowing Position
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Bowing And Prostrating Before The Imam
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجدہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Battles Of The Prophet (saws) And How Many There Were
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر اور ان کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About the (Age) Of Adulthood For A Man And When He Is To Recieve A Salary
باب: حد بلوغت کا ذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Hospitality And What Is The Limit Of Hospitality
باب: مہمان نوازی کا ذکر اور اس کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Calmness And Haste
باب: سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: The Fitnah That Spreads Like The Waves Of The Sea
باب: سمندر کی موج کی طرح کے فتنے کا ذکر
Jam e Tirmazi
24
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related Regarding The Virtue Of Remembrance
باب: ذکر الٰہی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Something Else Concerning ‘The One Who Remembers Allah Often Is Superior To The Fighter In The Cause of Allah
باب: ذکر الٰہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Something Else: Regarding The Virtue Of At-Tasbih, At-Tahmud, And At-Takbir At The End Of The Prayers And When Going To Sleep
باب: سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
31
Chapter: The Supplication That He Taught Abu Bakr..
باب: صبح و شام کے ذکر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
32
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
Mishkat
33
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
Mishkat
34
بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالتَّقَرُّبِ إِلَيْهِ
اللہ عزوجل کے ذکر اور اس کے تقرب کا بیان
Mishkat
35
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
36
(بَاب بدءالخلق وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)
مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان
Mishkat
37
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
Mishkat
38
بَاب تَسْمِيَة من سمي من أهل الْبَدْر فِي «الْجَامِعِ لِلْبُخَارِيِّ»
یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب
Mishkat
39
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
40
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
41
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
42
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
Musnad Ahmad
43
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
45
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
47
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
50
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
1753
۔ (۱۷۵۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ فِیْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۵)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیانیہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
Musnad Ahmad
1755
۔ (۱۷۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ فَصَلّٰی صَلاَۃً کَصَلاَۃِ شَیْخِنَا ھٰذَا یَعْنِیْ عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَ الْجَرْمِیَّ، وَکَانَ یَؤُمُّ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَیُّوْبُ فَرَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَیَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَہُ، کَانَ إِذَا رَفَعَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ اسْتَوٰی قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأُولٰی وَالثَّالِثَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۳)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: ابو قلابہ نے کہتے ہیں: پس انہوں نے ہمارے اس شیخ سیدنا عمرو بن سلمہ جرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عہدِ نبوی میں امامت کرواتے تھے، کی نماز کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کہتے ہیں: میںنے عمر وبن سلمہ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا جو تم لوگوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، جب وہ دو سجدوں سے اٹھتے تو بیٹھ کر برا بر ہو جاتے پھر پہلی اور تیسری رکعت سے کھڑے ہوتے۔
Musnad Ahmad
1974
۔ (۱۹۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا یَزِیْدُ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَیْنَا بَعْدَ صَلَاتِہٖفَقَالَ: إِنِّیْ صَلَّیْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَ کَرَ مِثْلَہُ أَوْنَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۱)
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
Musnad Ahmad
2004
۔ (۲۰۰۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَھُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّۃَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَ السَّجْدَتَیْنِ فِی السَّہْوِ بَعْدَ السَّلَامِ۔ (مسند احمد: ۳۵۷۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کے بعد سجدے کیے اور ایک مرتبہ فرمایا: یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سہو میں سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
Musnad Ahmad
2070
۔ (۲۰۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ ثَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحَیٰی قَالَ زَعَمَ لِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَرْسَلَ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یَسْأَلُھَا ھَلْ صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الْعَصْرِ شَیْئًا؟ قَالَتْ: أَمَّا عِنْدِی فَلَا، وَلٰکِنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ أَخْبَرتْنِیْ أَنَّہُ فَعَلَ ذٰلِکَ فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا فَاسْئَلْھَا، فَأَرْسَلَ إِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَیَّ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلّٰی سَجْدَتَیْنِ، قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أُنْزِلَ عَلَیْکَ فِیْ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتَیْنِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنْ صَلَّیْتُ الظُّہْرَ فَشُغِلْتُ فَاسَتَدْرَکْتُہَا بَعْدَ الْعَصْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۶۸)
عبید اللہ بن عبد اللہ نے کہا کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تو ایسے نہیں ہوا، البتہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں، لہٰذا تم ان کی طرف پیغام بھیج کر ان سے پوچھ لو، پس انھوں نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کے بعد میرے پاس آئے اور یہ دورکعتیںپڑھیں، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ان دو رکعتوںکے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر مصروف ہو گیاتھا، اس لیے اب عصر کے بعد ان کو ادا کیا ہے۔
Musnad Ahmad
2128
۔ (۲۱۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ ثُمَّ رَکَعَ وَکَانَ رُکُوْعُہٗنَحْوًامِنْقِیَامِہِ وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ َرَأَسَہُ فَکَانَ قِیَامُہُ نَحْوًا مِنْ رُکُوْعِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لِرَبِّیَ اَلْحَمْدُ، لِرَبِّیَ الْحَمْدُ)) ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ سُجُوْدُہٗ نَحْوًا مِنَ قِیَامِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَانَ مَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنَ نَحْوًا مِنَ السُّجُوْدِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ)) قَالَ حَتّٰی قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَائَ وَالْمَائِدَۃَ أَوِ الْأَنْعَامَ شُعْبَۃُ الَّذِییَشُکُّ فِی الْمَائِدَۃِ وَالْأَنْعَامِ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۶۷)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، جب آپ نماز میںداخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ (اللہ سب سے بڑا ہے، جو بادشاہی، قہر، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ )، پھر آپ نے سورہ ٔ بقرہ کی تلاوت کی، اس کے بعد رکوع کیا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام جتناتھا، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا یہ قومہ آپ کے رکوع کے برابر تھا، آپ اس میں لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر تھا،آپ سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور جلسہ میں بیٹھ گئے، یہ جلسہ سجدے کے برابر تھا، اس جلسہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِی کہتے رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نماز میں سورۂ بقرۃ، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کر دی، آخری دو سورتوں میں راویٔ حدیث امام شعبہ کو شک ہوا۔
Musnad Ahmad
2555
۔ (۲۵۵۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجُ قَالَا ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیَّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَہُ نَاضِحَانِ لَہُ وَقَدْ جَنَحَتِ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَہُ الصَّلَاۃَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذُ الْبَقَرَۃَ أَوِ النِّسَائَ، مُحَارِبٌ الَّذِی یَشُکُّ، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلُ ذٰلِکَ صَلّٰی ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَبَلَغَہُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْہُ، قَالَ حَجَّاجٌ یَنَالُ مِنْہُ، قَالَ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ!؟)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ، فَلَوْلَا قَرَأْتَ {سَبِّحٍ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} فَصَلّٰی وَرَائَ کَ الْکَبِیْرُ وَذُوا لْحَاجَۃِ وَالضَّعِیْفُ، أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِی یَشُکُّ فِی الضَّعِیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۹)
(دوسری سند)سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی آیا، اس کے ساتھ دو اونٹنیاں بھی تھیں، اُدھر سورج غروب ہوچکا تھا اور سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس لیے وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ بقرہ یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آدمی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے علیحدہ نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔جب اسے پتہ چلا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس کی عیب جوئی کی (کہ وہ منافق ہے) تو اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ معاذ! کیاتو فتنہ باز ہے؟ تو نے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور {وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں، وجہ یہ ہے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، حاجت مند اور کمزور لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔
Musnad Ahmad
11462
۔ (۱۱۴۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلٰی، حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ خَیْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَۃَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَفِیَّۃُ رَدِیفَتُہُ، قَالَ: فَعَثَرَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصُرِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصُرِعَتْ صَفِیَّۃُ، قَالَ: فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، (قَالَ: أَشُکُّ قَالَ ذَاکَ أَمْ لَا) أَضُرِرْتَ؟ قَالَ ((لَا، عَلَیْکَ الْمَرْأَۃَ)) قَالَ: فَأَلْقٰی أَبُو طَلْحَۃَ عَلٰی وَجْہِہِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَیْہَا فَمَدَّ ثَوْبَہُ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَصْلَحَ لَہَا رَحْلَہَا فَرَکِبْنَا، ثُمَّ اکْتَنَفْنَاہُ أَحَدُنَا عَنْ یَمِینِہِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ أَوْ کُنَّا بِظَہْرِ الْحَرَّۃِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((آیِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُہُنَّ حَتّٰی دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۷۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس ہوئے تو سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی پھسلی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا گر گئے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تیزی سے لپک کر آگے بڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، اس جملہ کے بارے میں سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اس جملے کے متعلق شک ہے کہ ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہا تھا یا نہیں کہا تھا، پھر انھوں نے کہا: آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس عورت یعنی سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خبر لو۔ پس سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا اور ان کی طرف جا کر اپنا کپڑا ان کے اوپر پھیلا دیا، پھر ان کے پالان کو درست کیا، پھر ہم سوار ہو کر چل دیئے۔ اس کے بعد ہم دونوں آپ کے دائیں بائیںہوگئے۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریبیا حرہ کے قریب پہنچے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھنا شروع کر دی: آیِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔ (ہم واپس آنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، توبہ کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔) آپ ان الفاط کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔