مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع میں ذکر کا بیان


۔ (۱۶۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَاَلَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ، قَالَ: فَانْتَبَہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ قَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ مَاشَائَ أَنْ یَحْمَدَہُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ قَالَ: فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۱۴)

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیانیہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۶۹۷) تخریج: حسن۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۷۹، وأخرجہ ابوداود: ۸۵۰، وابن ماجہ: ۸۹۸، والترمذی: ۲۸۴ بذکر الدعاء بین السجدتین فقط (انظر: ۲۸۹۵، ۳۵۱۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔