مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان


۔ (۱۷۳۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ، الْجَبْہَۃِ وَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أَنْفِہِ وَالْیَدَیْنِ وَالرُّکْبَتَیْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلاَ أَکُفَّ الثِّیَابَ وَلاَ الشَّعْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۷)

۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان سات اعضا پر سجدہ کروں: پیشانی، اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناک کی طرف اشارہ کیا،دو ہاتھ، دو گھٹنے اور (دونوں پاؤں کی) انگلیوں کے کنارے اور اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… بالوں کو نہ لپیٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بال لمبے ہیں تو ان کوپگڑی کے نیچے نہ دبایا جائے اور نہ پیچھے سے باندھا جائے، اسی طرح نماز میں آستین وغیرہ کو نہ چڑھایا جائے اور اس طرح بلاضرورت کپڑے کو لپیٹنے سے باز رہا جائے۔