سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑا لپیٹ کر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچتے تھے۔
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم گرمی کی شدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زمین پر رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا۔
عبد اللہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ میں نے بارش والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کیچڑ سے بچتے تھے اور وہ اس طرح کہ جب آپ سجدہ کرتے تو جو چادر پہنی ہوئی تھی اس کا بعض حصہ زمین پر ہاتھوں کے نیچے رکھتے۔
سیار بن معرور کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مسجد بنائی، جبکہ ہم مہاجر اور انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہجوم زیادہ ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرلے۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو راستہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر ان کو کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کہ اگر کشادگی اختیار کریں تو سجدے میں مشقت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر گھٹنوں سے مدد حاصل کر لیا کرو۔ ابن عجلان کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ جب سجدہ لمبا ہو جائے اور بندہ تھک جائے تو اپنی کہنیاںگھٹنوں پر رکھ لے۔