TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1742 - کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 6 in this chapter
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: جَائَ نَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِنَا فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا یَدَیْہِ فِیْ ثَوْبِہِ إِذَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔
1742
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۷۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، وقد وھم فیہ عبد العزیز بن محمد الدراوری، فرواہ عن اسماعیل بن ابی حبیبۃ، عن عبد اللہ بن عبد الرحمن، قال: جاء نا النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم …۔ ولم یقل: عن ابیہ، عن جدہ، والاولی بالصواب ما رواہ ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبۃ الاشھلی، عن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ثابت بن الصامت عن ابیہ عن جدہ۔ ثم ان ابراہیم الاشھلی ضعیف، وعبد اللہ بن عبد الرحمن مجھول، وابوہ عبد الرحمن لاتصح صحبتہ، وھو مجھول کذالک۔ ثم انہ قد اختلف فی اسنادہ، وانظر للتفصیل: ۱۸۹۵۳۔

Related Chapters

667
1
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(39) CHAPTER. If the spit or sputum comes out suddenly then one should spit in the corner of one's garment.
جب تھوک کا غلبہ ہو تو نمازی اپنے کپڑے کے کنارے میں تھوک لے
Sahih Bukhari
3
(66) CHAPTER. While passing through a mosque, (one should better) hold the arrowheads (with the hand).
جب کوئی مسجد میں جائے تو اپنے تیر کے پھل کو تھامے رکھے تاکہ کسی نمازی کو تکلیف نہ ہو
Sahih Bukhari
4
(141) CHAPTER. One should not put the forearms on the ground during prostrations.
اس بارے میں کہ نمازی سجدہ میں اپنے دونوں بازوؤں کو ( جانور کی طرح ) زمین پر نہ بچھائے
Sahih Bukhari
5
CHAPTER: A Man Prostrating On His Garment.
باب: آدمی اپنے کپڑے پر سجدہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission To Prostrate On The Clothing During The Heat And Cold
باب: گرمی اور ٹھنڈک میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Not Taking On A Trial Which One Is Not Able To Bear
باب: آدمی کو اپنے سے کسی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہئے
Jam e Tirmazi
9
باب: مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے
Jam e Tirmazi
10
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
11
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
Musnad Ahmad
12
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
13
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
14
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
15
کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کر دینے والے یا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کر دینے والے شخص کا بیان
Musnad Ahmad
16
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
17
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
Musnad Ahmad
18
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
Musnad Ahmad
19
جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
20
بغیر کسی ضرورت کے عورتوں کے گھروں سے نکلنے کا اور عطر لگا کر نکلنے والی کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
22
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
Musnad Ahmad
23
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
24
(61) CHAPTER. To urinate beside one's companion while screened by a wall.
اپنے ( کسی ) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا
Sahih Bukhari
25
(8) CHAPTER. It is disliked to be naked during Salat (the prayers).
۔ ( بے ضرورت ) ننگا ہونے کی کراہیت نماز میں ( ہو یا اور کسی حال میں )
Sahih Bukhari
26
(15) CHAPTER. If someone offers Salat (prayer) in a garment bearing marks of a cross or pictures, will the Salat be annulled? And what is forbidden thereof.
ایسے کپڑے میں اگر کسی نے نماز پڑھی جس پر صلیب یا مورتیاں بنی ہوں تو نماز فاسد ہو گی یا نہیں اور ان کی ممانعت کا بیان
Sahih Bukhari
27
CHAPTER. To prostrate on a garment in scorching heat.
سخت گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
28
(6) CHAPTER. The five Salat (prayers) are expiations (of sins).
اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جب کوئی ان کو جماعت سے یا اکیلا ہی اپنے وقت پر پڑھے
Sahih Bukhari
29
(24) CHAPTER. Can one go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
30
(4) CHAPTER. Whoever named some people or greeted somebody during As-Salat (prayer) because of ignorance.
نماز میں نام لے کر دعا یا بددعا کرنا یا کسی کو سلام کرنا بغیر اس کے مخاطب کئے اور نمازی کو معلوم نہ ہو کہ اس سے نماز میں خلل آتا ہے
Sahih Bukhari
31
(6) CHAPTER. When a person forgets whether he has offered three or four Raka (then he should) perform two prostrations while sitting in his last Raka.
اگر کسی نمازی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے
Sahih Bukhari
32
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
33
(26) CHAPTER. The reward of the lady who gives in charity, or provides somebody with food from her husband
عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو
Sahih Bukhari
34
(101) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir in the morning of the day of Nahr till the Ramy of Jamarat-al-Aqaba and riding behind somebody else on a riding animal.
دسویں تاریخ کو صبح تک تکبیر اور لبیک کہتے رہنا جمرہ عقبہ کی رمی تک اور چلتے ہوئے ( سواری پر کسی کو ) اپنے پیچھے بٹھا لینا
Sahih Bukhari
35
(51) CHAPTER. If someone forces his Muslim brother to break his (Nawafil) fast, by giving him oath, the person observing Saum (fast) has not to observe Saum (fast) in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.
کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی
Sahih Bukhari
36
(12) CHAPTER. Is it permissible for the Mu'takif to defend himself (by speech or action)?
اعتکاف والا اپنے اوپر سے کسی بدگمانی کو دور کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
37
(56) CHAPTER. Whoever had the opinion that whoever bought foodstuff without measuring or weighing (blindly) should not sell it before bringing into his house; and the punishment for whoever disobeys this order.
جو شخص غلہ کا ڈھیر بن ناپے تولے خریدے وہ جب تک اس کو اپنے ٹھکانے نہ لائے ، کسی کے ہاتھ نہ بیچے اور اس کے خلاف کرنے والے کی سزا کا بیان
Sahih Bukhari
38
(58) CHAPTER. A seller should not urge somebody (in case of optional sale) to cancle a bargain the latter has already agreed upon with another seller so as to sell him his own goods; and a buyer should not urge the seller to cencle a barbain already agreed upon with another buyer so as to buy the goods himself, unless they are given permission in both cases, or the bargains are cancelled with the willingness of both the seller and the buyer.
کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
Sahih Bukhari
39
(15) CHAPTER. If a person tells his deputy, Spend it as Allah directs you, and the deputy says, I have heard what you have said.
اگر کسی نے اپنے وکیل سے کہا کہ جہاں مناسب جانو اسے خرچ کرو ، اور وکیل نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے میں نے سن لیا
Sahih Bukhari
40
(8) CHAPTER. Whosoever gave a gift to his friend and chose (the time) when he was at the home of some of his wives and did not give it to him, while he was in the homes of his other wives.
اپنے کسی دوست کو خاص اس دن تحفہ بھیجنا جب وہ اپنی ایک خاص بیوی کے پاس ہو
Sahih Bukhari
41
(15) CHAPTER. It is permissible for a women to giving gifts to somebody other than her husband.
اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو ، تو یہ ہبہ جائز ہے
Sahih Bukhari
42
(10) CHAPTER. If somebody founds an endowment (or bequeathes) his relatives by a will (is it permissible?). And who are considered as relatives.
اگر کسی نے اپنے عزیزوں پر کوئی چیز وقف کی یا ان کے لئے وصیت کی تو کیا حکم ہے اور عزیزوں سے کون لوگ مراد ہوں گے
Sahih Bukhari
43
(33) CHAPTER. If somebody keeps a piece of land or a well as an endowment, or stipulates that he should benefit by its water as the other Muslims do (will this be permissible)?
کسی نے کنواں وقف کیا اور اپنے لئے بھی اس میں سے عام مسلمانوں کی طرح پانی لینے کی شرط لگائی ۔ ۔ ۔
Sahih Bukhari
44
(119) CHAPTER. The wages given to fight on somebody else's behalf, and the riding animals presenyed to be used in Allah's Cause.
کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا
Sahih Bukhari
45
(12) CHAPTER. How the Prophet (p.b.u.h) distributed the properties of Bani Quraiza and Bani An-Nadir, and how much he kept for his needs.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ اور بنو نضیر کی جائیداد کس طرح تقسیم کی تھی ؟ اوراپنی ضرورتوں میں ان کو کیسے خرچ کیا ؟
Sahih Bukhari
46
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
Sahih Bukhari
47
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
48
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
Sahih Bukhari
49
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
50
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

474
Musnad Ahmad
11287
۔ (۱۱۲۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سَفَرٍ، حَتّٰی إِذَا دَفَعْنَا إِلٰی حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ بَنِی النَّجََّارِ إِذَا فِیْہِ جَمَلٌ لَا یَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلاَّ شَدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ حَتّٰی أَتَی الْحَائِطَ، فَدَعَا الْبَعِیْرَ، فَجَائَ وَاضِعًا مِشْفَرَہٗإِلَی الْأرْضِ حَتّٰیبَرَکَ بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَاتُوْاخِطَاماً۔)) فَخَطَمَہٗوَدَفَعَہٗإِلٰی صَاحِبِہِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی النَّاسِ، قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ شَیْئٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ إِلَّا یَعْلَمُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، إِلَّاعَاصِیَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۸۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باغ میں گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ــ اس کی مہار لائو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
Musnad Ahmad
13059
۔ (۱۳۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ کَتَبْتُ اِلَیْکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَدْ عَرَضْتُہُ وَجَمَعْتُہُ عَلٰی مَا کَتَبْتُ بِہٖاِلَیْکَ، فَحَدِّثْ بِذٰلِکَ عَنِّیْ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ الْحِزَامِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَیَّاشٍ السَّمْعِیُّ الْاَنْصَارِیُّ الْقِبَائِیُّ مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ دَلْھَمِ بْنِ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَمِّہِ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ دَلْھَمٌ: وَحَدَّثَنِیْہِ اَبُوْ الْاَسْوَدِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیْطٍ اَنَّ لَقِیْطًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَرَجَ وَافِدًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ نُہَیْکُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِکِ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ، قَالَ لَقِیْطٌ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاِنْسِلَاخِ رَجَبَ، فَاَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْنَاہُ حِیْنَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَقَامَ فِی النَّاسِ خَطِیْبًا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا اِنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکُمْ صَوْتِیْ مُنْذُ اَرْبَعَۃَ اَیَّامٍ اَلَا لَاَسْمَعَنَّکُمْ ، اَلَا فَہَلْ مِنَ امْرِیئٍ، بَعَثَہُ قَوْمُہُ۔)) فَقَالُوْا: اِعْلَمْ لَنَا مَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ اَلَا ثُمَّ لَعَلَّہُ اَنْ یُّلْہِیَہُ حَدِیْثُ نَفْسِہِ اَوْ حَدِیْثُ صَاحِبِہٖاَوْیُلْہِیْہِ الضَّلاَلُ، اِنِّی مَسْؤُلٌ ھَلْ بَلَّغْتُ، اَلَا اِسْمَعُوْا تَعِیْشُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا۔)) قَالَ: فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُہُ وَبَصَرُہُ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاعِنْدَکَ مِنْ عِلْمِ الْغَیْبِ فَضَحِکَ لَعَمْرُ اللّٰہِ وَھَزَّ رَاْسَہُ وَعَلِمَ اَنِّیْ اَبْتَغِیْ لِسَقَطِہٖفَقَالَ: ((ضَنَّرَبُّکَعَزَّوَجَلَّمَفَاتِیْحَ خَمْسٍ مِّنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ وَاَشَارَ بِیَدِہٖ۔)) قُلْتُ: وَمَا ھِیَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عِلْمُ الْمَنِیَّۃِ قَدْ عَلِمَ مَنِیَّۃَ اَحَدِکُمْ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ الْمَنِیَّ حِیْنَیَکُوْنُ فِی الرَّحْمِ قَدْ عَلِمَہُ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ مَا فِی غَدٍ وَمَا اَنْتَ طَاعِمٍ غَدًا وَلَاتَعْلَمُہُ، وَعَلِمَ الْیَوْمَ الْغَیْثَیُشْرِفُ عَلَیْکُمْ آزِلِیْنَ آدِلِیْنَ مُشْفِقِیْنَ فَیَظِلُّیَضْحَکُ، قَدْ اَعْلَمُ اَنَّ نَمِیْرَکُمْ اِلٰی قُرْبٍ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا ، وَعَلِمَ یَوْمَ السَّاعَۃِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنَا مِمَّا تُعْلِّمُ النَّاسُ وَمَا تَعْلَمُ فَاَنَا مِنْ قَبِیْلٍ لَایُصَدِّقُوْنَ تَصْدِیْقِنَا اَحَدٌ مِنْ مَذْجَحِ الَّتِیْ تَرْبُوْ عَلَیْنَا وَخَثْعَمَ الَّتِیْ تُوَالِیْنَا وَعَشِیْرَتُنَا الَّتِیْ نَحْنُ مِنْہَا ، قَالَ: ((تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ یُتَوَفّٰی نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَۃُ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ شَیْئٍ اِلَّا مَاتَ وَالْمَلَائِکَۃُ الَّذِیْنَ مَعَ رَبِّکَ عَزَّوَجَلَّ، فَاَصْبَحَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ یَطِیْفُ فِی الْاَرْضِ وَخَلَتْ عَلَیْہِ الْبِلَادُ، فَاَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلََّ السَّمَائَ، تَہْضِبُ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِیْلٍ وَلَا مَدْفَنِ َمیِّتٍ اِلَّاشَقَّتِ الْقَبْرُ عَنْہُ حَتّٰی تَجْعَلَہُ مِنْ عِنْدِ رَاْسِہِ فَیَسْتَوِیْ جَالِسًا فَیَقُوْلُ رَبُّکَ: مَہْیَمْ لِمَا کَانَ فِیْہِ،یَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَمْسٰی الْیَوْمُ وَلِعَہْدِہِ بِالْحَیَاۃِیَحْسِبُہُ حَدِیْثًا بِاَھْلِہٖ۔))فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیَجْمَعُنَا بَعْدَ مَاتَمَزَّقَنَا الرِّیَاحُ وَالْبِلٰی وَالسِّبَاعُ؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ، اَلْاَرْضُ اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ مَدَرَۃٌ بَالِیَۃٌ، فَقُلْتَ لَاتَحْیَا اَبَدًا، ثُمَّ اَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا السَّمَائَ، فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَیْکَ اِلَّا اَیَّامًا حَتّٰی اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ شَرْبَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُعَلٰی اَنْ یَجْمَعَہُمْ مِنَ الْمَائِ عَلٰی اَنْ یَجْمَعَ نَبَاتَ الْاَرْضِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَصْوَائِ اَوْ مِنْ مَصَارِعِہِمْ فَتَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْکُمْ۔))قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نَحْنُ مِلْأُ الْاَرْضِ وَھُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْنَا؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَۃٌ مِنْہُ صَغِیْرَۃٌ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ سَاعَۃً وَاحِدَۃً لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِمَا، وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُ عَلٰی اَنْ یَّراکُمْ وَتَرَوْنَہُ مِنْ اَنْ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُوْیَتِہِمَا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا یَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ اِذَا لَقِیْنَاہُ قَالَ: ((تُعْرَضُوْنَ عَلَیْہِ بَادِیَۃٌ لَہُ صَفَحَاتُکُمْ، لاَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ فَیَاْخُذُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ بِیَدِہٖ غُرْفَۃً مِّنَ الْمَائِ فَیَنْضَحُ قَبِیْلَکُمْ بِہَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتُخْطِیُٔ وَجْہَ اَحَدِکُمْ مِنْہَا قَطْرَۃٌ، فَاَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْہَہُ مِثْلَ الرَّیْطَۃِ الْبَیْضَائِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَتَخْطِمُہُ مِثْلَ الْحَمِیْمِ الْاَسْوَدِ، اَلَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْتَرِقُ عَلٰی اِثْرِہِ الصَّالِحُوْنَ فَیَسْلُکُوْنَ جَسْرًا مِّنَ النَّارِ، فَیَطَاُ اَحَدُکُمُ الْجَمْرَ فَیَقُوْلُ: حَسٍّ، یَقُوْلُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ: اَوَاَنُہُ، اَلَا فَتَطْلُعُوْنَ عَلٰی حَوْضِ الرَّسُوْلِ عَلٰی اَظْمَاِ وَاللّٰہِ نَاھِلَۃٍ عَلَیْھَا قَطُّ مَا رَأَیْتُھَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَا یَبْسُطُ وَاحِدٌ مِنْکُمْ یَدَہُ اِلَّا وُضِعَ عَلَیْھَا قَدْحٌ یُطَھِّرُہُ مِنَ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْاَذٰی وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَلَاتَرَوْنَ مِنْہُمَا وَاحِدًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَبِمَا نَبْصُرُ قَالَ: ((بِمِثْلِ بَصَرِکَ سَاعَتَکَ ہٰذِہٖوَذٰلِکَقَبْلَطُلُوْعِالشَّمْسِفِییَوْمٍاَشْرَقَتْہُ الْاَرْضُ وَاجَہَتْ بِہِ الْجِبَالُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نُجْزٰی مِنْ سَیِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا قَالَ: ((اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَالسَّیِّئَۃُ بِمِثْلِہَا اِلَّا اَنْ یَّعْفُوَ۔)) قَالَ:قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَمَّا الْجَنَّۃُوَاَمَّا النَّارُ؟ قَالَ: ((لَعَمْرُ اِلٰہِکَ اِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَۃَ اَبْوَابٍ ، مَا مِنْہُنَّ بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا، وَاِنَّ لِلْجَنَّۃِ لَثَمَانِیَۃَ اَبْوَابٍ، مَا مِنْہُمَا بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((عَلٰی اَنْہَارٍ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفّٰی وَاَنْہَارٍ مِّنْ کَاْسٍ مَا بِہَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَانَدَامَۃٍ، وَاَنْہَارٍ مِّنْ لَبَنٍ لَمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ، وَمَائٍ غَیْرِ آسِنٍ، وَبِفَاکِہَۃٍ لَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَا تَعْلَمُوْنَ وَخَیْرٌ مِنْ مِثْلِہِ مَعَہُ وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَنَا فِیْہَا اَزْوَاجٌ اَوْ مِنْہُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ: ((اَلصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِیْنَ تَلَذُّوْا بِہِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِکُمْ فِی الدُّنْیَا وَیَلْذَذْنَ بِکُمْ غَیْرَ اَنْ لَاتَوَالُدَ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: فَقُلْتُ: اَقْصٰی مَا نَحْنُ بَالِغُوْنَ مُنْتَہُوْنَ اِلَیْہِ، فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلٰیمَا اُبَایِعُکَ قَالَ: فَبَسَطَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَقَالَ: ((عَلٰی اِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَزِیَالِ الْمُشْرِکِ وَاَنْ لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اٰلِھًا غَیْرَہُ۔)) قُلْتُ: وَاِنَّ لَنَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَقَبَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَظَنَّ اَنِّیْ مُشْتَرِطُ شَیْئًا لَایُعْطِیْنِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْہَا حَیْثُ شِئْنَا وَلَایَجْنِیْ امْرِئٌ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہِ، فَبَسَطَ یَدَہُ وَقَالَ: ((ذٰلِکَ لَکَ تَحِلُّ حَیْثُ شِئْتَ وَلَایَجْنِیْ عَلَیْکَ اِلَّا نَفْسُکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَیْنِ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مِنْ اَتْقٰی النَّاسِ فِی الْاُوْلٰی وَالْآخِرَۃِ۔)) فَقَالَ لَہُ کَعْبُ بْنُ الْخُدْرِیَّۃِ اَحَدُ بَنِیْ بَکْرٍ مِنْ کِلَابٍ: مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بَنُوْ الْمُنْتَفِقِ اَھْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا وَاَقْبَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لِاَحَدٍ مِّمَنْ مَضٰی مِنْ خَیْرٍ فِیْ جَاھِلِیَّتِہِمْ قَالَ: ((قَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَیْشٍ وَاللّٰہِ اِنَّ اَبَاکَ الْمُنْتَفِقَ لَفِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَکَاَنَّہُ وَقَعَ حَرٌّ بَیْنَ جِلْدِیْ وَوَجْہِیْ وَلَحْمِیْ مِمَّا قَالَ لِاَبِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ النَّاسِ، فَہَمَمْتُ اَنْ اَقُوْلَ وَاَبُوْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ اِذَا الْاُخْرٰی اَجْہَلُ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَھْلُکَ قَالَ: ((وَاَھْلِیْ لَعَمْرُ اللّٰہِ مَا اَتَیْتَ عَلَیْہِ مِنْ قَبْرِعَامِرِیٍّ اَوْ قُرَشِیِّ مِنْ مُشْرِکٍ فَقُلْ اَرْسَلَنِیْ اِلَیْکَ مُحَمَّدٌ فَاُبَشِّرُکَ بِمَا یَسُوْئُ کَ تُجَرُّ عَلٰی وَجْہِکَ وَبَطْنِکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَافَعَلَ بِہِمْ ذٰلِکَ وَقَدْکَانُوْا عَلٰی عَمَلٍ لَایُحْسِنُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ وَکَانُوْا یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُصْلِحُوْنَ، قَالَ: ((ذٰلِکَ لِاَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ فِی آخِرِ کُلِّ سَبْعِ اُمَمٍ یَعْنِیْ نَبِیًّا فَمَنْ عَصٰی نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ وَمَنْ اَطَاعَ نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۷)
عاصم بن لقیط کہتے ہیں: بیشک سیدنا لقیط، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا، اس کا نام نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق تھا، سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںاور میرا ساتھی رجب کا مہینہ گزرنے کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم جب وہاں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: لوگو! خبردار! میں چار دنوں سے اپنی آواز تم لوگوں سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھا، اب میں ضرور تم سے کچھ باتیں کروں گا۔ خبر دار! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی بھی ہے، جسے اس کی قوم نے یہاں بھیجا ہو؟اور کہا ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو کچھ بیان کریں اسے یاد کر لینا؟ خبردار ممکن ہے کہ اس آدمی کو اس کے خیالات یا اس کے ساتھی کی کوئی بات یا گمراہی غافل کر دے۔ خبردار! مجھ سے اس بات کی پوچھ گچھ ہوگی کہ میں نے یہ باتیں تم لوگوں تک پہنچا دی ہیں یا نہیں؟ خبردار! غور سے سنو! تم میرے بعد عرصہ تک زندگی گزار و گے۔ خبردار! بیٹھ جاؤ، خبردار! بیٹھ جاؤ۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر لوگ بیٹھ گئے، میں اور میرا ساتھی کھڑے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل اور نگاہ ہمارے لیے فارغ ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر طرف سے فارغ ہو کر مکمل طور پر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو میںنے کہا: اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس علم غیب میں سے کیا کچھ ہے؟ اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بات سن کر مسکرا دئیے، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو حرکت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جان گئے کہ میں آپ سے کوئی ایسی بات پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے غیب کی پانچ چیزوں کے علم کی چابیاں اپنے پاس رکھی ہیں، ان پانچ چیزوں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے پانچ کا اشارہ کیا، میں نے کہا: وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) موت کا علم، وہ تمہاری موت کے وقت کو جانتا ہے اور تم اسے نہیں جانتے، (۲) منی کا علم، جب وہ ماں کے رحم میں ہوتی ہے، وہ اس کے مستقبل کے بارے میں ہر بات جانتا ہے، لیکن اسے تم نہیں جانتے، (۳)کل یعنی مستقبل کا علم کہ تم آئندہ کیا کچھ کھاؤ گے، اس کے متعلق تم کچھ نہیں جانتے، (۴) وہ بارش کا علم رکھتا ہے، جب وہ تم پر جھانکتا ہے، جبکہ تم (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) محبوس، بوجھ والے اور ڈرنے والے ہوتے ہو، وہ تمہاری یہ حالت دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے اور جانتا ہوتا ہے کہ تمہاری سیرابی قریب ہے۔ یہ سن کر سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو رب ہنستا ہے، ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہیں رہیں گئے۔ اور(۵) قیامت کا علم۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگوں کو جو تعلیم دیتے ہیں اور خود جو علم رکھتے ہیں، اس میں سے ہمیں بھی سکھائیں، میں ایسے لوگوں میں سے آیا ہوں، جو ہماری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق نہیں کرتے، ایک تو قبیلہ مذ حج ہے، وہ ہم سے بالائی جانب رہتا ہے اور دوسرا قبیلہ خثعم کا ہے، وہ ہمارا حلیف ہے اور اسی طرح ہمارا قبیلہ ہے، جس سے ہم ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو جب تک منظور ہوگا، تم دنیا میں رہو گے، پھر تمہارے نبی کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعد تم یہاں اس وقت تک رہو گے، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، اس کے بعد ایک زبردست قسم کی چیخ کی آواز آئے گی، جس کی شدت سے روئے زمین پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی، حتیٰ کہ جو فرشتے تمہارے رب کے ساتھ ہیں، وہ بھی مرجائیں گے، تمہارا رب زمین پر گھومے گا، سارے علاقے روح والی اشیاء سے خالی ہوچکے ہوں گے، پھر تمہارا رب آسمان کو ڈھیلا چھوڑ دے گا اور عرش کے قریب سے بارش برسے گی، اس کے نتیجے میں زمین پر جہاں بھی کوئی مقتول گرا ہوگا یا کوئی میت مدفون ہوگی، ان کی قبریں پھٹ جائیں گی، یہاں تک کہ وہ سر کی جانب سے اٹھ کر سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں گے، تمہارا رب ان سے پوچھے گا: کیا ہوا؟ وہ پہلے جس کیفیت میں تھا، اس سے موجودہ حالت میں آنے پر وہ کہے گا:اے میرے رب ! آج میرے لیے یہ دن آیا ہے، وہ چونکہ اس سے پہلے زندگی گزار چکا ہوگا، اس لیے وہ اسے اپنے اہل و عیال کی ملاقات کا ذریعہ سمجھے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! ہمارے مرنے کے بعد جب کہ ہوائیں، بوسیدگی اور درندے ہمیں ریزہ ریزہ کر چکے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے دوبارہ جمع کر ے گا؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں، تم زمین کو دیکھتے ہو، یہ سخت اور بنجرہوچکی ہوتی ہے، تم یہ سمجھ رہے ہوتے ہو کہ اب یہ کبھی بھی آباد نہیں ہو سکے گی، پھر تمہارا رب بارش برسا دیتا ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تم دیکھتے ہو کہ وہ پودوں کے اگنے سے سر سبزہو چکی ہوتی ہے، تمہارے اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے لیے زمین کی نباتات کو اگانے اور پیدا کرنے کے مقابلے میں ان لوگوں کو پانی سے پیدا کرنا آسان تر ہے، یہ لوگ ہواؤں اور قبروں کے درمیان سے نکل رہے ہوں گے اور تم اللہ تعالیٰ کو اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! انسانوں سے تو پوری زمین بھری ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ایک مقام پر ایک وجود ہوگا،اس لیے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بیک وقت ہم اسے دیکھ لیں اور وہ ہمیں دیکھ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مثال کے ذریعے بتلاتا ہوں، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی نشانیاں ہیں، تم انہیں اور وہ تمہیں بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ان کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت بھی پیش نہیں آتی، تمہارے اللہ کی قسم ! جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے اور سورج چاند کے تمہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آتی، اس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اور تم اس کو اس سے بھی زیادہ آسانی سے دیکھنے پر قادر ہو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم سب کو اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور تم میں سے کسی کا بھی چہرہ اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکے گا، تب تمہارا رب پانی کا ایک چلو لے کر اسے تمہاری طرف پھینکے گا، تمہارے اللہ کی قسم! اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہارے چہروں سے ادھر اُدھر نہیں جائے گا، جس قدرمسلمان ہوں گے، اس پانی کی برکت سے ان کے چہرے نرم ، ملائم اور چمکدار ہوجائیں گے اور وہ پانی کافروں کی ناک کو سیاہ کوئلے کی مانند کر دے گا، اس کے بعد تمہارا نبی ایک طرف کو جائے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے آگ کے ایک پل پر چلیں گے، پھر تم میں سے کوئی آگ کے انگاروں کو روندے گا اور ہائے ہائے کی آواز نکالے گا،اس کے بعد تمہیں شدید پیاس لگی ہوگی اور تم اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض ِ کوثر پر پہنچو گے، اللہ کی قسم وہاں پینے کے لیے اس قدر وافر پانی ہوگا کہ میںنے آج تک اتنا پانی نہیں دیکھا۔ تمہارے اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی آدمی پانی کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، اس پر پانی سے بھر اہوا ایک پیالہ رکھ دیا جائے گا۔ وہ پانی اسے پاخانے، پیشاب ، اور دیگر نجاستوں سے پاک کردے گا، سورج اور چاند کو محبوس کر دیاجائے گا اور تم ان میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھ سکو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم دیکھیں گے کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ا س وقت اسی طرح دیکھو گے، جیسے اب دیکھ رہے ہو، و ہ اس قسم کی کیفیت ہوگی جیسے سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر قبل سورج کی روشنی پہاڑوں پر پڑے تو زمین جس طرح روشن ہوتی ہے۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں :میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے گناہوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا اور ہر گناہ کا اس کے برابر بدلہ ملے گا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جنت اور جہنم کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! جہنم کے سات دروازے ہیں، ہر دو دروازوں کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں وہ فاصلہ طے کرتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اس کے بھی دو دروازوں کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں اس مسافت کر طے کرتا ہے۔ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ہم جنت میں کیا کچھ دیکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں صاف شفاف شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ایسی عمدہ شراب کی نہریں ہوںگی کہ جس کے پینے کے بعد نہ تو سر درد ہوگا اور نہ ندامت اور وہاں صاف دودھ کی نہریں ہوں گی، وہ ایسا دودھ ہوگا کہ اس کا ذائقہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا اور پانی کی نہریں ہوں گی، وہ پانی ایسا ہوگا کہ جو کبھی بھی باسی نہیں ہوگا اور تمہارے اللہ کی قسم! وہاں ایسے پھل ہوں گے جنہیں تم (نام سے) جانتے ہو اور ان کے علاوہ ان سے بھی عمدہ پھل ہوں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ میںنے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا جنت میں ہماری بیویاں ہوں گی یا ان میں سے نیک ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صالحین کے لیے صالحات ہوگی، تم ان سے وہاں اس طرح لطف اندوز ہوگے، جیسے تم ان سے اس دنیا میں لطف اندوز ہوتے ہو اور وہ بھی تم سے لطف اندوز ہوں گی، البتہ ولادت کا کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: تب تو وہ سب کچھ ہوگا جس کی ہم زیادہ سے زیادہ تمنا کرسکتے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ جواب نہیں دیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کن باتوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا کر فرمایا: باقاعدگی سے نماز ادا کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، مشرک سے جدا رہنے اور اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، ان سب امور پر بیعت کرو۔ میں نے کہا: اس کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کا سارا علاقہ یعنی روئے زمین ہماری ہوگی۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط لگانے والا ہوں، جس کا آپ مجھ سے وعدہ نہیں کرسکیں گے، میں نے کہا: ہم پوری زمین پر جہاں چاہیں گے جائیں گے، لیکن ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آدمی جوکچھ کرتا ہے، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہہ کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: تمہیں اجازت ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو جاؤ اور کسی کے عمل کی تم پر ذمہ داری نہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس آگئے، پھر آپ نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! یہ دونوں افراد دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ متقی ہیں۔ یہ سن کر بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص کعب بن خدریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو منتفق ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں پھر واپس آ گئے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہم سے پہلے دور جاہلیت میں گزر چکے ہیں، کیا ان میں سے کسی کا انجام بہتر بھی ہوگا؟میری اس بات پر ایک عام قریشی آدمی بولا: اللہ کی قسم ، تیرا باپ منتفق تو جہنمی ہی ہے۔ یہ سن کر میرے تن بدن کو آگ لگ گئی کہ اس نے بر سرِ عام میرے والد کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں کہ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والد کا کیا بنے گا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ اس شخص کے بدلے میں کہی گئی یہ بات اس سے بڑی جہالت ہوگی، پھرمیںنے یو ں کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاندان والے کہاںـ ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے خاندان والے، اللہ کی قسم! تم جس قریشی یا بنو عامر کے مشرک آدمی کی قبر کے پاس سے گزرو تو یوں کہنا کہ مجھے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیری طرف بھیجا ہے، میں تجھے ایسی خبر دیتا ہوں کہ جسے سن کر تجھے افسوس اور دکھ ہوگا، تجھے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان کا یہ انجام کیوں ہوگا، وہ تو جو کچھ کرتے رہے اچھا ہی سمجھ کرکرتے رہے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی، وہ گمراہوں میں سے ہوا اور جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا۔
Musnad Ahmad
694
۔ (۶۹۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ، فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: (( اِرْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔
Musnad Ahmad
826
۔ (۸۲۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ اِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَؓ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ: نَہَسَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدِیْ کَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۴۷)
عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
Musnad Ahmad
829
۔ (۸۲۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْأَشْہَلِیِّ عَنْ أُمِّ عَامِرٍؓ بِنْتِ یَزِیْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُبَایِعَاتِ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرْقٍ فِی مَسْجِدِ فُـلَانٍ فَتَعَرَّقَہُ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۹)
سیدہ ام عامرؓ، جو کہ بیعت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مسجد میں ہڈی والا گوشت لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو نوچا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Musnad Ahmad
848
۔ (۸۴۸)۔عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ سُلَیْمٍؓ قَالَتْ: کَانَتْ مُجَاوِرَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ تَدْخُلُ عَلَیْہَا فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ اِذَا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ أَنَّ زَوْجَہَا یُجَامِعُہَا فِی الْمَنَامِ أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: تَرِبَتْ یَدَاکَ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَائَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَاِنَّا اِنْ نَسْأَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا أَشْکَلَ عَلَیْنَا خَیْرٌ مِنْ أَنْ نَکُونَ مِنْہُ عَلٰی عَمْیَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاُمِّ سَلَمَۃَ: ((أَنْتِ تَرِبَتْ یَدَاکِ، نَعَمْ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! عَلَیْہَا الْغُسْلُ اِذَا وَجَدتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلْمَرْأَۃِ مَائٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنّٰی یُشْبِہُہَا وَلَدُہَا؟ ہُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۵۹)
سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔
Musnad Ahmad
967
۔ (۹۶۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ (ؓ) قَالَتْ: أَتَیْتُ عَائِشَۃَؓ فَقُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَدْ خَشِیْتُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لِیْ حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، أَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃً، قَالَتْ: اجْلِسِیْ حَتّٰی یَجِیْئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ تَخْشٰی أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہَا حَظٌّ فِی الْاِسْلَامِ وأَنْ تَکُوْنَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، تَمْکُثُ مَا شَائَ اللّٰہُ مِنْ یَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّیْ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاۃً، فَقَالَ: ((مُرِیْ فَاطِمَۃَ بِنْتَ أَبِیْ حُبَیْشٍ فَلْتُمْسِکْ کُلَّ شَہْرٍ عَدَدَ أَیَّامِ أَقْرَائِہَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِیْ وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَہَّرُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتُصَلِّیْ، فَاِنَّمَا ذٰلِکِ رَکْضَۃٌ مِنَ الشَّیْطَانِ أَوْ عِرْقٌ اِنْقَطَعَ أَوْ دَائٌ عَرَضَ لَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۸۳)
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
1564
۔ (۱۵۶۴) عَنْ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ سَمِعَنِیْ أَبِیْ وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّ حِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَابُنَیَّ! إِیَّاکَ وَالْحَدَثَ فِی الْأِسْلَامِ، فَإِنِّیْ صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَلْفَ أَبِیْ بَکْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکَانُوْا لَا یَسْتَفْتِحُوْنَ الْقِرَائَ ۃَ بِـ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} (وَفِی رِوَایَۃٍ فَـلَا تَقُلْہَا، إِذَا أَنْتَ قَرَأَتَ فَقُلْ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} قَالَ: وَلَمْ أَرَ رَجُلاً قَطُّ أَبْعَضَ إِلَیْہِ الْحَدَثُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیٹا (یزید) کہتا ہے: مجھے میرے باپ نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتے ہوئے سنا، جب وہ فارغ ہوئے تومجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے ! اسلام میں نیا کام (ایجاد کرنے) سے بچو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ تو قراء ت کا آغاز {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں کرتے تھے۔ تو بھی اس کو نہ پڑھا کر اور قراء ت کو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کیا کر۔ ان کا بیٹا کہتا ہے: میں نے اپنے باپ کی بہ نسبت ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جسے بدعت انتہائی ناپسند ہو۔