سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَہُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے ہی سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا، جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی شکل بنائی اورخوبصورت شکل بنائی اور اس کے کان اور آنکھ کو کھولا، اللہ بہت با برکت ہے، جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ تہجد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلے اور نماز پڑھی اور نماز میںیا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْیَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا۔ شعبہ کہتے ہیں:یاآخری جملہ اس طرح ہے: اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا (اے اللہ! میرے دل میں نور کردے،میرے کان میں نور،میری نظر میں نور،ر میری دائیں طرف نور۔ میری بائیں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے اور مجھے نور ہی بنا دے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر سے گم پایا، اس لیے ہاتھ کے ساتھ آپ کو تلاش کیا، جب ان کا ہاتھ آپ کو لگا تو (ان کو پتا چلتا ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔ (اے میرے رب! میرے نفس کو اس کا تقوی دے دے ، اسے پاک کردے تو سب سے بہتر ذات ہے، جو اسے پاک کرنے والی ہے، توہی اس کا ولی ہے اورمولی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: یک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔