مسنداحمد

Musnad Ahmad

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں


۔ (۱۷۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَقْرَبُ مَایَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ ۔ (مسند احمد: ۹۴۴۲)

سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۲ (انظر: ۹۴۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔