TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1750 - سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَقْرَبُ مَایَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ ۔ (مسند احمد: ۹۴۴۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔
1750
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۲ (انظر: ۹۴۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔

Related Chapters

164
1
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih While Bowing And Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
6
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
Musnad Ahmad
7
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
8
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
9
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
10
Chapter: It Is Recommended To Raise The Hands Level With The Shoulders When Saying The Opening Takbir, When Bowing And When Rising From Bowing. But That Is Not To Be Done When Rising From The Prostration
تکبیرتحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے ساتھ اور رکوع سے اٹھتے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مستحب ہےاور یہ کہ جب (نمازی) سجدے سے سر اٹھائے تو رفع الیدین نہ کرے
Sahih Muslim
11
Chapter: The Prohibition Of Preceding The Imam While Bowing, Prostrating And So On
رکوع اور سجدے وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کی حرمت
Sahih Muslim
12
Chapter: What Is To Be Said While Bowing And Prostrating
رکوع اور سجدے میں کیا کہا جائے
Sahih Muslim
13
CHAPTER: What A Person Should Say In His Ruku’ And Prostration.
باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: The Supplication During The Ruku’ And Prostration.
باب: رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: The Length Of The Ruku’ And The Prostration.
باب: رکوع اور سجدے کی مقدار کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Holding The Forearms Away From The Sides During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے جدا رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Being Balanced During Prostration
باب: سجدے میں اعتدال کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Supporting Oneself During Prostration
باب: سجدے میں ٹیک لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related About] How To Get Up From The Prostration
باب: سجدے سے کیسے اٹھا جائے؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations (Of Recitation) In: When The Heaven If Split Asunder And: Read! In The Name Of Your Lord Who Has Created
باب: سورۃ اقرأ اور سورۃ الانشقاق کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Prostration In (Surat) An-Najm
باب: سورۃ النجم کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The One Who Did Not Prostrate For It
باب: جو لوگ سورۃ النجم میں سجدے کے قائل نہیں
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prostration In (Surat) Sad
باب: سورۃ ”ص“ کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: (What Has Been Related) About The Prostration In (Surat) Al-Hajj
باب: سورۃ الحج کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been related about the severe warning regarding the one who raises his head before the Imam
باب: اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھانے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Mentioned About A Man Who Catches Up With The Imam (While He Is) In Prostration, What Should He Do?
باب: آدمی امام کو سجدے میں پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: There Is A Duty On Wealthy Aside From Zakat
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What has been Related About whoever claims His Wala' to be For Other Than His Mawali, Or Claims Someone Else Other Than His Father
باب: آزاد کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو مالک بنانے اور دوسرے کے باپ کی طرف نسبت کرنے والے کا بیان​
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Supplication In The Morning And The Evening
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
Chapter: Concerning The Mention Of: “Glory Is To Allah And The Praise” A Hundred Times
باب: صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
Chapter: The Supplication: O Allah. Cool My Heart...
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
Mishkat
47
باب مایقول عندالصباح والمساء والمنام
صبح و شام اور سوتے وقت کے اذکار کا بیان
Mishkat
48
بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف
مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
Mishkat
49
بَاب جَامع الدُّعَاء
جامع دعاؤں کا بیان
Mishkat
50
عربی کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
2882
۔ (۲۸۸۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَیَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ وَلَا أَحَبُّ اِلَیْہِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْہِنَّ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ، فَأَکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ)) (مسند احمد: ۵۴۴۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی دن نہیں، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ عظمت والے ہوں اور جن میں نیک عمل اس کو سب سے زیادہ پسند ہو، بہ نسبت ان دس دنوں کے، پس ان میں بہت زیادہ تہلیل، تکبیر اور تحمید بیان کیا کرو۔
Musnad Ahmad
7065
۔ (۷۰۶۵)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ بْنِ ذَکْوَانَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ بْنِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عُرْسِیْ، فَقَعَدَ فِیْ مَوْضِعِ فِرَاشِیْ ھٰذَا وَعِنْدِیْ جَارِیَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتَنْدُبَانِ آبَائِی الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَتَا فِیْمَا تَقُوْلَانِ: وَفِیْنَا نَبِیٌّیَعْلَمُ مَایَکُوْنُ فِیْ الْیَوْمِ وَفِیْ غَدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا ھٰذَا فَـلَا تَقُوْلَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۱)
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔
Musnad Ahmad
9161
۔ (۹۱۶۱)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَتَذَاکَرُ مَایَکُوْنُ، اِذْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَکَانِہِ فَصَدِّقُوْا، وَاِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَیَّرَ عَنْ خُلُقِہِ فَلا تُصَدِّقُوْا بِہٖ،وَاِنَّہٗیَصِیْرُ اِلٰی مَا جُبِلَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۷)
۔ سیدنا ابو الدرادء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے تو تصدیق کر لو، لیکن جب تم سنو کہ کسی آدمی کا اخلاق تبدیل ہو گیا ہے تو اس بات کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ وہ عنقریب اسی اخلاق کی طرف لوٹے گا،جس پر اس کی فطرت بنائی گئی ہے۔
Musnad Ahmad
9419
۔ (۹۴۱۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: تَزَوَّجَ اَبُوْطَلْحَۃَ اُمَّ سُلَیْمٍ وَھِیَ اُمُّ اَنَسٍ (بْنِ مالک) وَالْبَرَائِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ لَہُ بُنَیًّا، قَالَ: فَکَانَ یُحِبُّہُ حُبًّا شَدِیْدًا، قَالَ: فَمَرِضَ الْغُلَامُ مَرْضًا شَدِیْدًا، فَکَانَ اَبُوْ طَلْحَۃَیَقُوْمُ صَلَاۃَ الْغَدَاۃِیَتَوَضَّاُ وَیَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُصَلِّیْ مَعَہُ، وَیَکُوْنُ مَعَہُ اِلٰی قَرِیْبٍ مِّنْ نِصْفِ النَّھَارِ، وَیَجِيْئُیَقِیْلُ وَیَاْکُلُ، فَاِذَا صَلَّی الظُّھْرَ تَھَیَّاَ وَذَھَبَ فَلَمْ یَجِیئْ اِلٰی صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ قَالَ: فَرَاحَ عَشِیَّۃً وَمَاتَ الصَّبِیُّ، قَالَ: وَجَائَ اَبُوْ طَلْحَۃَ قَالَ: نَسَجَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا وَتَرَکَتْہُ، قَالَ: فقَالَ لَھْا اَبُوْ طلحۃ: یَا اُمَّ سُلَیْمٍ! کَیْفَ بَاتَ بُنَیَّ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَتْ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! مَا کَانَ ابْنُکَ مُنْذُ اشْتَکٰی اَسْکَنَ مِنْہُ اللَّیْلَۃَ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ تْہُ بِالطَّعَامِ فَاَکَلَ وَطَابَتْ نَفْسُہُ، قَالَ: فَقَامَ اِلٰی فِرَاشِہِ فَوَضَعَ رَاْسَہُ قَالَتْ: وَقُمْتُ اَنَا فَمَسِسْتُ شَیْئًا مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ مَعَہُ الْفِرَاشَ، فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ رِیْحَ الْطِیْبِ کَانَ مِنْہُ مَایَکُوْنُ مِنَ الرَّجُلِ اِلَیٰ اَھْلِہِ، قَالَ: ثُمَّ اَصْبَحَ اَبُوْطَلْحَۃَیَتَھَیَّاُ کَمَا کاَنَ یَتَھَیَّاُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ لَہُ: یَا اَبَا طَلْحَۃَ! اَرَاَیْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا اِسْتَوْدَعَکَ وَدِیْعَۃً فَاسْتَمْتَعْتَ بِھَا ثُمَّ طَلَبَھَا فَاَخَذَھَا مِنْکَ تَجْزَعُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: لَا ، قَالَتْ: فَاِنَّ ابْنَکَ قَدْ مَاتَ، قَالَ اَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَیْہِ جَزْعًا شَدِیْدًا، وَحَدَّثَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا کَانَ مِنْ اَمْرِھَا فِی الطَّعَامِ وَالطِّیْبِ، وَمَا کَانَ مِنْہُ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقَالَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبِتُّمَا عَرُوْسَیْنِ وَھُوَ اِلٰی جَنْبِکُمَا؟)) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ اُمُّ سلیم تِلْکَ اللَّیْلَۃِ، قَالَ: فَتَلِدُ غُلَامًا، قَالَ: فَحِیْنَ اَصْبَحْنَا قَالَ لِیْ اَبُوْ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ احْمِلْہُ فِیْ خِرْقَۃٍ حَتّٰی تَاْتِیَ بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْمَلْ مَعَکَ تَمْرَ عَجْوَۃٍ، قَالَ: فَحَمَلْتُہُ فِیْ خِرْقَۃٍ قَالَ: وَلَمْ یُحَنِّکْ وَلَمْ یَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَیْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَدَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ، قَالَ: ((اَللّٰہُ اَکْبَرُ، مَا وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: غُلَامًا، قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔))، فَقَالَ: ((ھَاتِہِ اِلَیَّ۔)) فَدَفَعْتُہُ اِلَیْہِ فَحَنَّکَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ ثُمَّ قَالَ لِیْ: ((مَعَکَ تَمْرُ عَجْوَۃٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَاَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَمْرَۃً وَاَلْقَاھَا فِیْ فِیْہِ، فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلُوْکُھَا حَتَّی اخْتَلَطَتْ بِرِیْقِہِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِیَّ فَمَا ھُوَ اِلَّا اَنْ وَجَدَ الصَّبِیُّ حَلَاوَۃَ التَّمْرِ، جَعَلَ یَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَۃِ التَّمْرِ وَرَیِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ اَنَسٌ: فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ فَتَحَ اَمْعَائَ ذٰلِکَ الصَّبِیِّ عَلٰی رِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حِبُّ الْاَنْصَارِ التَّمْرُ۔)) فَسَمَّی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِی طَلْحَۃَ، قَالَ: فَخَرَجَ مِنْہُ رَجُلٌ کَثِیْرٌ قَالَ: وَاسْتُشْھِدَ عَبْدُ اللّٰہِ بِفَارِسَ۔(مسند احمد: ۱۲۸۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی،یہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ماں تھیں، سیدہ ام سلیم نے ان کے لیے ایک پیارا سا بیٹا جنم دیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روٹینیہ تھی کہ وہ نماز فجر کے لیے اٹھتے، وضو کرتے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور نصف النہار کے قریب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے، پھر نمازِ ظہر کی تیاری کر کے چلے جاتے اور نمازِ عشا تک واپس نہیں آتے تھے، ایک دن جب وہ رات کو واپس آئے تو بچہ فوت ہو چکا تھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے (شروع میں اس کی موت کو چھپانے کے لیے) اس کپڑے سے ڈھانپ دیا اور اس کو چھوڑ دیا، جب سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو کہا: اے ام سلیم! میرے پیارے بیٹے نے رات کیسے گزاری ہے؟ انھوں نے کہا: اے ابو طلحہ! تیرا بیٹا جس دن سے بیمار ہوا، آج رات کو سب سے زیادہ سکون میں تھا، پھر وہ کھانا لے کر آئیں، انھوں نے کھانا کھایا اور ان کا نفس خوشگوار ہو گیا، پھر وہ اپنے بستر کی طرف گئے اور سونے کے لیے اپنا سر رکھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے خوشبو لگائی اور ان کے پاس آ کر بستر میں ان کے ساتھ داخل ہو گئی، جب انھوں نے خوشبو محسوس کی تو وہی معاملہ چلا جو میاں بیوی کا ہوتا ہے ، پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے روٹین کے مطابق تیاری کرنا شروع کر دی، جیسا کہ ہر روز کرتے تھے، اب سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی نے آپ کو امانت دی، آپ نے اس سے استفادہ کیا، پھر اس نے تجھ سے طلب کی اور پھر لے لی، کیا تو اس معاملے میں بے صبری کرے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، سیدہ نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے، وہ بہت زیادہ گھبرائے اور پریشان ہوئے اور جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے معاملے کی خبردی کہ اس کی بیوی نے اس طرح کھانا کھلایا، خوشبو لگائی اور پھر جو کچھ ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے حق زوجیت ادا کیا ہے اور وہ بچہ تمہارے پہلوؤں میں تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس رات میں برکت فرمائے۔ پس سیدہ ام سلیم کو اسی رات حمل ہو گیا، بعد میں جب انھوں نے بچہ جنم دیا تو صبح کو سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میں (انس) سے کہا: اس کو کسی کپڑے میں اٹھا لے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جا اور عجوہ کھجور بھی لیتا جا، پس میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا، نہ اس کو گڑتی دی گئی تھی، نہ اس نے کھانا کھایا، بلکہ کوئی چیز نہیں چکھی، جب میں پہنچا تو کہا: اے اللہ کے رسول! سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بچہ پیدا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (خوشی سے) فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، کیا جنم دیا ہے اس نے؟ میں نے کہا: جی لڑکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لے آ اس کو میرے پاس۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گڑتی دینا چاہی، اس لیے مجھ سے پوچھا: کیا تیرے پاس عجوہ کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے، پھر میں نے کھجوریں نکالیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈالا اور اتنی دیر تک چبایا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لعاب کے ساتھ مکس ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کو دی اور فوراً یوں لگا کہ بچہ کھجور کی مٹھاس محسوس کر رہا ہے، وہ کھجور کی حلاوت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کو چوسنے لگا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پہلی چیز جس نے اس بچے کی انتڑیاں کھولیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تھوک تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاریوں کی محبوب چیز کھجور ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا، اس عبد اللہ کی کافی ساری اولاد پیدا ہوئی تھی،یہ عبد اللہ فارس میں شہید ہو گئے تھے۔
Musnad Ahmad
9627
۔ (۹۶۲۷)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ ذَکَرِیَّا، بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ یَعْمَلُ بِھِنَّ وَاَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَیَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ َلہ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنِّ وَاَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھُنَّ وَاِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ، فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشٰی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذَّبَ، اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْيٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ، وَقُعِدَ عَلَی الشُّرَفِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمَلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرٰی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِوَرِقٍ، اَوْ ذَھَبٍ، فَجَعَلَ یَعْمَلُ وَیُؤَدِّیْ عَمَلَہُ اِلٰی غَیْرِ سَیِّدِہِ، فَاَیُّکُمْیَسُرُّہُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدُہُ کَذٰلِکَ، وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَکُمْ وَرَزَقَکُمْ فَاعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَآمُرُکم بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَنْصِبُ وَجْھَہَ لِوَجْہِ عَبْدِہِ مَالَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَـلَا تَلْتَفِتُوْا، وَآمُرُکُمْ بِالصِّیَامِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ فِیْ عِصَابَۃٍ کُلُّھُمْ یَجِدُ رِیْحَ الْمِسْکِ، وَاِنَّ خَلُوْفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللّٰہِ اَطْیَبُ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَآمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوْا یَدَیْہِ اِلٰی عُنُقِہِ وَقََرَّبُوْہُ لِیَضْرِبُوْا عُنُقَہُ فَقَالَ: ھَلْ لَکُمْ اَنْ اَفْتَدِیَ نَفْسِیْ مِنْکُمْ ؟ فَجَعَلَ یَفْتَدِیْ نَفْسَہُ مِنْھُمْ بِالْقَلِیْلِ وَ الْکَثِیْرِ حَتّٰی فَکَّ نَفْسَہَ ۔ وَ آمُرُکُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَثِیْرًا، وَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَہُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِیْ اَثَرِہِ فَاَتٰی حِصْنًا حَصِیْنًا فَتَحَصَّنَ فِیْہِ وَاِنَّ الْعَبْدَ اَحْصَنُ مَایَکُوْنُ مِنَ الشَّیْطَانِ اِذَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنِّ بِالْجَمَاعَۃِ، وَبِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِیْ سِبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، اِلٰی اَنْ یَّرْجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ۔)) قَالُوْا: یارَسُوْلَ اللہِ! وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی؟ قَالَ: ((وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوْا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۲)
۔ سیدنا حارث اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر ان کو اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہوں اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کر لیا ہو اور وہ آگے سے کہا: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیںیہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔