سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر نماز کے بعدتینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، یہ ننانوے (کلمات) ہو گئے، پھر اس نے سو(۱۰۰) کو پورا کرنے کے لئے کہا: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! صاحب ِ مال لوگ تو سارا اجر لے گئے ہیں، (وہ اس طرح کہ) وہ نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی نماز پڑھتے ہیںاور وہ روزہ رکھتے ہیں، ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس زائد مال ہیں جن کا وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاساتنا مال نہیںہے کہ ہم بھی صدقہ کر سکیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے کلمات کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تو ان پر عمل کرے گا تو تو سبقت لے جانے والوں کو پا لے گا اور تیرے (مقام) کو کوئی بھی نہیں پا سکے گا، مگر وہ جو تیرے عمل کی طرح کا عمل کرے گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہنا ہے اور اس دعا کے ساتھ اس کو ختم کرنا ہے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ایک روایت میں ہے: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے۔
سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہمیں حکم تو یہ دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہیں، لیکن ایک انصاری کو خواب آیا اور اس سے خواب میں پوچھا گیا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اتنی اتنی دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ (اور دوسرے اذکار) کہو؟اس نے خواب میں جواب دیا: جی ہاں، تو خواب میں آنے والے نے کہا: تم پچیس پچیس مرتبہ کر لو اور پچیس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اضافہ کر لو۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس خواب کی خبر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کر لو۔
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو خصلیتں ہیں، جو ان پر محافظت کرے گا، وہ اسے جنت میں داخل کردیں گی، وہ دو آسان تو ہیں لیکن عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دو ہیں کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا، پھر جب تو اپنے بستر پر آئے تو سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے،یہ زبان پر تو کل دو سو پچاس کلمات ہوں گے، لیکن ترازو میں دو ہزار پانچ سو ہوں گے، (اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ) تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہو؟ صحابہ نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کم کیسے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نماز میں ہی تمہارے پاس آ جاتا ہے اور ضروریاتیاد کروانا شروع کر دیتا ہے، پس وہ (سلام کے بعد فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور) یہ کلمات کہہ نہیں پاتا، اسی طرح وہ (رات کو) سوتے وقت بھی آجاتا ہے اور اس ذکر سے پہلے ہی اسے سلا دیتا ہے، پس وہ یہ کلمات نہیں کہہ پاتا۔ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو شمار کرتے تھے۔
سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں سے ایک خادم کا سوال کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، تاکہ بعض کام وہ کر دے اور اس طرح ان پر ذرا تخفیف ہو جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خادم دینے سے انکار کر دیا، … سارا قصہ ذکر کیا …۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دے دوں جو اس چیز سے بہتر ہے، جس کا تم نے سوال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چند کلمات ہیں، جبریل علیہ السلام نے مجھے ان کی تعلیم دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو، پھر جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے، تب سے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔ ابن کوا نے کہا: کیا صفین والی رات بھی نہیں چھوڑے تھے ؟ انہوں نے کہا: اے اہل عراق! تمہیں اللہ تباہ کرے، ہاں ہاں میں نے صفین والی رات کو بھی ان کو ترک نہیں کیا تھا۔
ابو عمر صینی کہتے ہیں: سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو وہ اسے کہتے: کیا آپ ٹھہریں گے کہ ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں چرائیںیا آپ جائیں گے کہ ہم یہیںاس کو چارہ ڈال دیں۔ جب وہ مہمان کہتا کہ وہ تو جانے والا ہے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اسے کہتے: میں تیرے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، بات یہ ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو مالدار لوگ لیے جا رہے ہیں، وہ حج کرتے ہیں اور ہم حج نہیں کر سکتے، وہ جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کر سکتے اور وہ فلاں فلاں عمل بھی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کر دوں کہ اگر تم نے اس کو تھامے رکھا تو تم ایسا افضل عمل کرو گے کہ ان میں سے کوئی ایک ایسا عمل کرتا ہے، تم ہر نماز کے بعد چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا کرو۔
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیںیا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیلیہہے) کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللَّہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْ کْرَامِ۔ (اے اللہ! تو سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے تو بابرکت ہے اے شان و عزت والے۔)