مسنداحمد

Musnad Ahmad

نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب

نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان


۔ (۱۸۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَزَلَ بِأَبِی الدَّرْدَائِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: مُقِیْمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّیْ سَأُزَوِّدُکَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا ھُوَ أَفْضَلُ مِنْہُ لَزَوَّدْتُکَ، أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، نُصَلِّیْ وَیُصَلُّوْنَ وَنَصُوْمُ وَیَصُوْمُوْنَ، وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَلاَ نَتَصَدَّقُ۔ قَالَ: أَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی شَیْئٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَہُ لَمْ یَسْبِقْکَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَکَ وَلَمْ یُدْرِکْکَّ أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلاَّ مَنْ فَعَلَ الَّذِیُْ نَفْعَلُ، دُبُرَ کَلِّ صَلاَۃٍ ثَلَاثًا وَثَلاَثِیْنَ تَسْبِیْحَۃً، وَثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ تَحْمِیْدَۃً، وَأَرْ بَعًا وَثَلاَثِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۰۵۲)

۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیںیا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیلیہہے) کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۸۶۷) تخریج: صحیح بطرقہ و شواھدہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۹۸۲، والطبرانی فی الدعائ : ۷۱۱، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ کما فی تحفۃ الأشراف : ۸/ ۲۳۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۳۵ (انظر: ۲۱۷۰۹) وانظر الحدیث بالطریق الاول