TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب - نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب - Book 32 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 32 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 30 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

30 Hadith · 4 Chapters
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِہِ: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ (قَالَ أِبْرَاھِیْمُ مَرَّتَیْنِ )رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۸)
سیدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ أَنَاشَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ العِبَادَ کُلَّہُمْ إِخْوَۃٌ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ! اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَکَ وَأَھْلِیْ فِیْ کُلِّ سَاعَۃٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، ذَاالْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَکْبَرُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، اَللّٰہُ الْأَکْبَرُ الْأَ کْبَرُ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، اَللّٰہُ الْأَ کْبَرُ الْأَ کْبَرُ۔ (اے اللہ! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب میںگواہ ہوں کہ تو ہی اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے اہل کو دنیا و آخرت کی ہر گھڑی میں اپنے لئے مخلص بنادے، اے جلال و اکرام والے! سن لے اور قبول کرلے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، آسمانوں اور زمین کا نور ہے اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے، مجھے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑاہے، سب سے بڑا ہے۔)
Takhreej
(۱۸۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف داود الطفاوی، ولجھالۃ ابی مسلم البجلی۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۰۸ (انظر: ۱۹۲۹۳)
1854
Zaeef
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا الْمُقْرِیُٔ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیَّیَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبَلِیُّ عَنْ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ بِیَدِہٖیَوْمًا ثُمَّ قَالَ: ((یَامُعَاذُ! إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ۔)) فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ: بِأَبِیْ أَنْتَ وَأَمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَأَنا أُحِبُّکَ، قَالَ: ((أُوْصِیْکَیَامُعَاذُ! لَاتَدَعَنَّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ (وَفِی رَوَایَۃٍ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ) أَنْ تَقُوْلَ اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) قَالَ: وَأَوْصٰی بِذٰلِکَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِیَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَأَوْصٰی أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۷۰)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! یقینا میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو ہر نماز میں یہ دعا پڑھنا ہر گز نہ چھوڑنا: اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھے انداز میں عبادت کرنے پر میری مدد فرما)۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو عبد الرحمن صنابحی کو اور انھوں عقبہ بن مسلم کو یہی نصیحت کی۔
Takhreej
(۱۸۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۲، والنسائی: ۳/ ۵۳ (انظر: ۲۲۱۱۹)
Explanation
فوائد:… باب نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان کے آخر مین یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھنی چاہیے۔
1855
Sahih
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتُحِبُّوْنَ أَنْ تَجْتَہِدُوْا فِی الدُّعَائِ؟ قُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ أَعِنَّا عَلٰی شُکْرِکَ وَذِکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ پوری کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو؟ تو پھر اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ أَعِنَّا عَلٰی شُکْرِکَ وَذِکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ!اپنے شکر، ذکر اور اچھی عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما )۔
Takhreej
(۱۸۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابو نعیم: ۹/ ۲۲۳، والحاکم: ۱/ ۴۴۹ (انظر: ۷۹۸۲)
1856
Sahih
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۷) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَیُسَلِّمُ: ((اَللّٰہُمَ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ طَیِّبًا) وَعَمَلاً مُتَقَبَّلًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۶۷)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صبح کی نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَاسِعًا وَّعَمَلاً مُتَقَبَّلًا۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم، وسیع رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں)۔ ایک روایت میں وَاسِعًا کی بجائے طَیِّبًا کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۱۸۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لابھام مولی ام سلمۃ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۹۲۵، والطیالسی: ۱۶۰۵ (انظر: ۲۶۶۰۲)
1857
Zaeef
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے وہ (گناہ) جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے اور جو مخفی انداز میں کیے اور جو اعلانیہ کے یاور جو میں نے زیادتی کی اور وہ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر توہی)۔
Takhreej
(۱۸۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ثُمَّ یَکُوْنُ مِنْ آخِرِ مَا یَقُوْلُ بَیْنَ التَّشَھُّدِ وَالتَّسْلِیْمِ۔ یعنی: پھر آخری (دعا) جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشہد اور سلام کے مابین پڑھتے تھے، (وہ یہ ہوتی تھی)۔
1858
Sahih
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۵۹) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَّانَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ الْحَارِثِ التَّمِیْمِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ: اَللّٰھُمَّ أَجِرْنِیْ مِنَ النَّاِر سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّکَ إِنْ مُتَّ مِنْ یَوْمِکَ ذٰلِکَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَکَ جِوَارًا مِنَ النَّارِ، وَإِذَاصَلَیْتَ الْمَغْرِبَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِی مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَإِنَّکَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ تِلْکَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَ لَکَ جِوَارًا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۸)
سیدنا حارث تمیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: جب تو صبح کی نماز پڑھے تو کسی آدمی سے کوئی بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھ: اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ (اے اللہ! مجھے آگ سے بچا۔) پس اگر تو اس دن میں فوت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے آگ سے بچاؤ لکھ دے گا اور اسی طرح جب تو مغرب کی نماز پڑھے تو کسی آدمی سے کوئی بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِی مِنَ النَّارِ (اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! مجھے آگ سے بچالے۔)پس اگر تو اس رات کو ہوگیا تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے آگ سے بچاؤ لکھ دے گا۔
Takhreej
(۱۸۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن الحارث جھلہ الدارقطنی، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۸۰ (انظر: ۱۸۰۵۴)
1859
Zaeef
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۱۸۶۰) عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا کَلِمَاتٍ نَدْعُوْ بِہِنَّ فِیْ صَلاَتِنَا أَوْ قَالَ فِیْ دُبُرِ صَلاَتِنَا ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَأَسْأَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۳)
سیدناشداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز میںیا نماز کے آخر میں پڑھنے کے لیے چند کلمات کی تعلیم دیتے تھے، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْأَمْرِ وَأَسْأَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ۔ (اے اللہ بلاشبہ میں تجھ سے ہر معاملہ میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں،میں تجھ سے بھلائی کی پختگی کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کے شکر ادا کرنے کا اور اچھے انداز میں تیری عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میںتجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ان (گناہوں کی) کی بخشش کا سوال کرتا ہوں جن کو تو جانتا ہے، میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے اور میں تجھ سے ہر اس شرّ سے پناہ چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے)۔
Takhreej
(۱۸۶۰) تخریج: حسن بطرقہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۷۱، وابن حبان: ۹۳۵، والطبرانی: ۷۱۵۷ (انظر: ۱۷۱۱۴، ۱۷۱۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ دعا تو سلام سے پہلے کرنی چاہیے، جیسا کہ فی صلاتنا کے الفاظ سے واضح ہو رہا ہے۔
1860
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَبَّحَ اللّٰہَ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَحَمِدَ اللّٰہَ ثََلَاثًا وثَلاَ ثِیْنَ وَکَبَّرَ اللّٰہَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، فَتِلْکَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، ثُمَّ قَالَ تَمَامَ الْمِائَۃِ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، غُفِرَلَہُ خَطَایَاہٗ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہر نماز کے بعدتینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، یہ ننانوے (کلمات) ہو گئے، پھر اس نے سو(۱۰۰) کو پورا کرنے کے لئے کہا: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں۔
Takhreej
(۱۸۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۹۷ (انظر: ۸۸۳۴)
1861
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۲) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ عَائِشَۃَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ أَنَّ أَبَاذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ أَصْحَابُ الدُّثُوْرِ بِالْأُجُوْرِ یُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّیْ وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ وَلَھُمْ فُضُوْلُ أَمْوَالِھِمْ یَتَصَدَّقُوْنَ بِہَا، وَلَیْسَ لَنَا مَانَتَصَدَّقُ بِہٖ۔فَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَلِمَاتٍ إِذَا عَمِلْتَ بِہِنَّ أَدْرَکْتَ مَنْ سَبَقَکَ وَلاَ یَلْحَقُکَ إِلاَّ مَنَ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِکَ؟)) قُلْتُ: بَلٰییَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((تُکَبِّرُ دُبُرَ کُلِّ صَلاَۃٍ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَتَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَتَخْتِمُہَا بِلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ:) تُسَبِّحُ اللّٰہَ خَلْفَ کُلِّ صَلاَۃِ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتَحْمَدُ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ، وَتُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَ ثَلاَثَِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! صاحب ِ مال لوگ تو سارا اجر لے گئے ہیں، (وہ اس طرح کہ) وہ نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی نماز پڑھتے ہیںاور وہ روزہ رکھتے ہیں، ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس زائد مال ہیں جن کا وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاساتنا مال نہیںہے کہ ہم بھی صدقہ کر سکیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے کلمات کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تو ان پر عمل کرے گا تو تو سبقت لے جانے والوں کو پا لے گا اور تیرے (مقام) کو کوئی بھی نہیں پا سکے گا، مگر وہ جو تیرے عمل کی طرح کا عمل کرے گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہنا ہے اور اس دعا کے ساتھ اس کو ختم کرنا ہے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ایک روایت میں ہے: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے۔
Takhreej
(۱۸۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۴۳، ۶۳۲۹، ومسلم: ۵۹۵ (انظر: ۷۲۴۳)
1862
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُّسَبِّحَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ ثَلاَثًا وَّثَلاَثَیْنَ وَنَحْمَدَ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ وَنُکَبِّرَ أَرْبَعًا وَّثَلاَثِیْنَ فَأُتِیَ رَجُلٌفِی الْمَنَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِیْلَ لَہُ: أَمَرَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُسَبِّحُوْا فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ الْأَنْصَارِیُّ فِیْ مَنَا مِہِ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوھَا خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ، خَمْسًا وَّعِشْرِیْنَ، وَاجْعَلُوْا فِیْہَا التَّہْلِیْلَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَافْعَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۳۶)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہمیں حکم تو یہ دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہیں، لیکن ایک انصاری کو خواب آیا اور اس سے خواب میں پوچھا گیا: کیا تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اتنی اتنی دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ (اور دوسرے اذکار) کہو؟اس نے خواب میں جواب دیا: جی ہاں، تو خواب میں آنے والے نے کہا: تم پچیس پچیس مرتبہ کر لو اور پچیس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اضافہ کر لو۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس خواب کی خبر دی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کر لو۔
Takhreej
(۱۸۶۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۳۴۱۳، والنسائی: ۳/۷۶ (انظر: ۲۱۶۰۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے ان تسبیحات کییہ تعداد ثابت ہوئی: پچیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، پچیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، پچیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور پچیس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔عام طور پر لوگوں کو اس عمل کا علم نہیں ہے، اگر کسی کو معلوم ہے تو شاید وہ عمل نہ کر سکا ہو، ہمیں اپنی زندگیوں میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تمام سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
1863
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَلَّتَانِ مَنْ حَافَظَ عَلَیْہِمَا أَدْخَلَتَاہُ الْجَنَّۃَ وَھُمَا یَسِیْرٌ وَمَنْ یَعْمَلُ بِہِمَا قَلِیْلٌ۔)) قَالُوْا: وَمَا ھُمَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((أَنْ تَحْمَدَ اللّٰہَ وَتُکَبِّرَہٗوَتُسَبِّحَہٗفِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ عَشْرًا عَشْرًا وَإِذَا أَتَیْتَ إِلٰی مَضْجَعِکَ تُسَبِّحُ اللّٰہَ وَتُکَبِّرُہُ وَتَحْمَدُہُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، فَتِلْکَ خَمْسُونَ وَمِائَتَانِ بِاللِّسَانٍ وَأَلْفَانِ وَخَمْسُمِائَۃٍ فِی الْمِیْزَانٍ، فَأَیُّکُمْیَعْمَلُ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ أَلْفَیْنٍ وَخَمْسَمِائَۃِ سَیِّئَۃٍ؟)) قَالُوا: کَیْفَ مَنْ یَعْمَلُ بِہَا قَلَیْلٌ؟ قَالَ: ((یَجِیْئُ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فِیْ صَلاَتِہِ فَیُذَکِّرُہُ حَاجَۃَ کَذَا وَکَذَا فَلاَ یَقُوْلُھَا وَیَأَتِیْہِ عِنْدَ مَنَامِہِ فَیُنَوِّمُہُ فَلاَ یَقُوْلُھَا۔)) قَالَ وَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْقِدُھُنَّ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۸)
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو خصلیتں ہیں، جو ان پر محافظت کرے گا، وہ اسے جنت میں داخل کردیں گی، وہ دو آسان تو ہیں لیکن عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دو ہیں کون سی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا، پھر جب تو اپنے بستر پر آئے تو سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے،یہ زبان پر تو کل دو سو پچاس کلمات ہوں گے، لیکن ترازو میں دو ہزار پانچ سو ہوں گے، (اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ) تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہو؟ صحابہ نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کم کیسے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نماز میں ہی تمہارے پاس آ جاتا ہے اور ضروریاتیاد کروانا شروع کر دیتا ہے، پس وہ (سلام کے بعد فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور) یہ کلمات کہہ نہیں پاتا، اسی طرح وہ (رات کو) سوتے وقت بھی آجاتا ہے اور اس ذکر سے پہلے ہی اسے سلا دیتا ہے، پس وہ یہ کلمات نہیں کہہ پاتا۔ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو شمار کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۶۴) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۵۰۶۵، والترمذی: ۳۴۱۰، والنسائی: ۳/ ۷۴ (انظر: ۶۴۹۸، ۶۹۱۰)
Explanation
فوائد:… قارئین کرام! آپ کو اس ذکر کی عظمت کا اندازہ تو ہو چکا ہو گا کہ یہ انتہائی آسان عمل روزانہ ڈھائی ہزار نیکیوں کا سبب بنتا ہے، لیکن آپ مانیںیا نہ مانیں، نمازیوں کی بھاری اکثریت اس کا اہتمام کرنے سے عاجز ہے، اب ہم ایسی قوم بن چکے ہیں کہ چائے کی ایک ایک مجلس میں ڈیڑھ دو دو گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے بارے میں ہمارے آلودہ ذہنوں میں ایک ہی قانون رچ بس چکا ہے کہ مسجد میں آنے میں دیر کی جائے اور جلدی جلدی وہاں سے نکل جایا جائے، اگر کسی مسجد میں فرضی نماز کے بعد کوئی اجتماعی دعا یا پانچ چھ منٹوں کا درس ہو جائے تو سارے نمازی اس ذکر سے محروم ہو جاتے ہیں، سلام پھیرنے کے بعد اکثر نمازیوں کی مسجد سے نکلنے کییہ کیفیت ہوتی ہے کہ اگر مسجد میں زیادہ دیر لگ گئی تو کوئی آفت آ دبوچے گی۔ رہا مسئلہ سوتے وقت یہ تسبیحات کہنے کا تو وہ تو شیطان نے جو ٹھیکہ لیا تھا، وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہے، ہم عام طور پر عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھروں میں دو تین چار گھنٹوں تک جاگتے رہتے ہیں، کوئی کھانے میں مصروف، کوئی گپ شپ کی محفل میں مگن، کوئی کسی گیم اور کھیل میں مشغول اور کوئی کسی ڈرامے کو دیکھنے سننے میںیا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر اتنا مگن کہ کسی کے لیے کوئی فرصت نہیں، … … علی ہذا القیاس۔ لیکن جب سونے کی باری آئے گی اور ہم اپنا سر نرم سے تکیے پر رکھیں گے تو زبان موٹی ہو کر گنگ ہو جائے اور بہت جلدی آنکھیں پھڑپھڑانا شروع ہو جائیں گی اور بالآخر اللہ کا ذکر کا کوئی کلمہ کہنے سے پہلے مجازی موت مر جائیں گی۔ یہ کوئی جذباتی الفاظ یا تقریر نہیں ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو حقیقت سمجھے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس کی وجہ اللہ تعالیٰ سے قلت ِ معرفت اور دینی اور اخروی امور میں عدم دلچسپی ہے۔
1864
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَقَدْ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ وَفَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یَطْلُبَانِ خَادِمًا مِنَ السَّبْیِیُخَفِّفُ عَنْہُمَا بَعْضَ الْعَمَلِ فَأَبٰی عَلَیْہِمَا ذٰلِکَ فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَھُمَا: ((أَلاَ أُخْبِرُکُمَا بِخَیْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِیْ؟)) قَالَا: بَلٰی۔ فَقَالَ: ((کَلِمَاتٌ عَلَّمَنِیْہِنَّ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ، فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُکَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا أَوَیْتُمَا إِلٰی فِرَاشِکُمَا فَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَاحْمَدَ ا ثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ، وَکَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَ ثِیْنَ۔)) قَالَ: فَوَ اللّٰہِ مَا تَرَ کْتُہُنَّ مُنْدُ عَلَّمَنِیْہِنّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَ: فَقَالَ لَہُ ابْنُ الْکَوَّائِ: وَلاَ لَیْلَۃَصِفِّیْنَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَکُمُ اللّٰہُ یَا أَھْلَ الْعِرَاقِ، نَعَمْ وَلاَ لَیْلَۃَ صِفِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۳۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قیدیوں میں سے ایک خادم کا سوال کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، تاکہ بعض کام وہ کر دے اور اس طرح ان پر ذرا تخفیف ہو جائے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو خادم دینے سے انکار کر دیا، … سارا قصہ ذکر کیا …۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دے دوں جو اس چیز سے بہتر ہے، جس کا تم نے سوال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چند کلمات ہیں، جبریل علیہ السلام نے مجھے ان کی تعلیم دی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو، پھر جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے، تب سے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔ ابن کوا نے کہا: کیا صفین والی رات بھی نہیں چھوڑے تھے ؟ انہوں نے کہا: اے اہل عراق! تمہیں اللہ تباہ کرے، ہاں ہاں میں نے صفین والی رات کو بھی ان کو ترک نہیں کیا تھا۔
Takhreej
(۱۸۶۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۵۲، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۳۲ (انظر: ۸۳۸)
Explanation
فوائد:… قصہ سے مراد سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی شکایات کی تفصیل ہے، نیز اس میں اس سازو سامان کا بھی ذکر ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا۔ صفین والی رات سے مراد وہ لڑائی ہے جو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کی وجہ سے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور اہل شام کے درمیان لڑی گئی تھی، ویسے فرات کے قریب ایک جگہ کا نام صفین ہے، جس مین یہ جنگ ہوئی تھی۔
1865
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۶) عَنْ أَبِیْ عُمَرَ الصِّیْنِیِّ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ إِذَا نَزَلَ بِہِ ضَیْفٌ قَالَ: یَقُوْلُ لَہُ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: مُقِیْمٌ فَنُسَرِّحُ أَوْظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: فَإِنْ قَالَ لَہُ ظَاعِنٌ قَالَ لَہُ: مَاأَجِدُ لَکَ شَیْئًا خَیْرًا مِنْ شَیْئٍ أَمَرَنَا بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالْأَجْرِ، یَحُجُّونَ وَلاَ نَحُجُّ، وَیُجَاھِدُوْنَ وَلاَ نُجَاھِدُ، وَکَذَا وَکَذَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِہِ جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَایَجِیئُ بِہِ أَحَدٌ مِنْہُمْ، أَنْ تُکَبِّرُوا اللّٰہَ أَرْبَعًاوَثَلاَ ثِیْنَ، وَتُسَبِّحُوْہُ ثَلاَثًا وَّثَلاَثِیْنَ وَتَحْمَدُوْا ثَلاَثًا وَّ ثَلاَثِیْنَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۶۵)
ابو عمر صینی کہتے ہیں: سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو وہ اسے کہتے: کیا آپ ٹھہریں گے کہ ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں چرائیںیا آپ جائیں گے کہ ہم یہیںاس کو چارہ ڈال دیں۔ جب وہ مہمان کہتا کہ وہ تو جانے والا ہے تو سیدنا ابو الدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے کہتے: میں تیرے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا، بات یہ ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو مالدار لوگ لیے جا رہے ہیں، وہ حج کرتے ہیں اور ہم حج نہیں کر سکتے، وہ جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کر سکتے اور وہ فلاں فلاں عمل بھی کرتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کر دوں کہ اگر تم نے اس کو تھامے رکھا تو تم ایسا افضل عمل کرو گے کہ ان میں سے کوئی ایک ایسا عمل کرتا ہے، تم ہر نماز کے بعد چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا کرو۔
Takhreej
(۱۸۶۶) تخریج: صحیح بطرقہ وشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حال ابی عمر الصینی۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۹۷۸، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۳۵ (انظر: ۲۷۵۱۵) وانظر الحدیث بالطریق الثانی
1866
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَزَلَ بِأَبِی الدَّرْدَائِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ: مُقِیْمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّیْ سَأُزَوِّدُکَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا ھُوَ أَفْضَلُ مِنْہُ لَزَوَّدْتُکَ، أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یاَرَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، نُصَلِّیْ وَیُصَلُّوْنَ وَنَصُوْمُ وَیَصُوْمُوْنَ، وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَلاَ نَتَصَدَّقُ۔ قَالَ: أَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی شَیْئٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَہُ لَمْ یَسْبِقْکَّ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَکَ وَلَمْ یُدْرِکْکَّ أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلاَّ مَنْ فَعَلَ الَّذِیُْ نَفْعَلُ، دُبُرَ کَلِّ صَلاَۃٍ ثَلَاثًا وَثَلاَثِیْنَ تَسْبِیْحَۃً، وَثَلاَثًا وَثَلاَثِیْنَ تَحْمِیْدَۃً، وَأَرْ بَعًا وَثَلاَثِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۰۵۲)
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیںیا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیلیہہے) کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔
Takhreej
(۱۸۶۷) تخریج: صحیح بطرقہ و شواھدہ۔ أخرجہ الطیالسی: ۹۸۲، والطبرانی فی الدعائ : ۷۱۱، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ کما فی تحفۃ الأشراف : ۸/ ۲۳۷، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۳۵ (انظر: ۲۱۷۰۹) وانظر الحدیث بالطریق الاول
1867
Sahih
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
۔ (۱۸۶۸) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْصَرِفَ مِنْ صَلاَتِہِ اِسْتَغْفَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ((اَللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲۳)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللَّہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْ کْرَامِ۔ (اے اللہ! تو سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے تو بابرکت ہے اے شان و عزت والے۔)
Takhreej
(۱۸۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۹۱ (انظر: ۲۲۳۶۵)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْصَرِفَ کی بجائے إِذَا اِنْصَرَفَ کے الفاظ ہیں اور اس مقام پر انصراف کے معانی سلام کے ہیں۔ علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ سلام کے بعد درج بالا اور دیگر مسنون اذکار مستحب ہیں، فرض نہیں ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑی اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کی نمازوں میں بڑا نقص موجود ہیَ۔
1868
Sahih
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
۔ (۱۸۶۹) عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ: ((اَللّٰہُمَّ إِ نِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۰)
سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔)
Takhreej
(۱۸۶۹) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۳/ ۷۳ (انظر: ۲۰۳۸۱، ۲۰۴۰۹)
1869
Sahih
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
۔ (۱۸۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّہُ مَرَّ بِوَالِدِہِ وَھُوَ یَدْعُوْ وَیَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِوَعَذَابِ الْقَبِرْ، قَالَ فَأَخَذْتُہُنَّ عَنْہُ وَکُنْتُ أَدْعُوْبِہِنَّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِیْ وَأَنَا أَدْعُوْ بِہِنَّ فَقَالَ: یَابُنَیَّ! أَنّٰی عَقَلْتَ ھٰؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ؟ قَالَ: یَاأَبَتَاہُ سَمِعْتُکَ تَدْعُوْبِہِنَّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ فَأَخَذْتُہُنَّ عَنْکَ، قَالَ: فَالْزَمْھُنَّ یَا بُنَیَّ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ بِہِنَّ فِیْ دُبُرِ کَلِّ صَلاَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۰)
۔ (دوسری سند)مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پاس سے گزرا اور وہ یہ دعا کررہے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ تو میں نے بھی ان سے یہ دعا یاد کر لی اور ہر نماز کے بعداس کو پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دفعہ (میرے والد) میرے پاس سے گزرے اور میں یہ دعا کر رہا تھا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: بچو!یہ کلمات تونے کہاں سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: اباجان! میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے ہوئے سناتھا، اس طرح میں نے یہ کلمات آپ سے سیکھ لیے۔ انھوں کہا: پیارے بیٹے! ان کو لازم پکڑ کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۷۰) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ البیھقی فی کتاب الدعوات : ۲۹۴، وأخرج بنحوہ الترمذی: ۳۵۰۳، والحاکم: ۱/ ۵۳۳، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۴۴۷)
1870
Sahih
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
۔ (۱۸۷۱) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ فِیْ آخِرِ وِتْرِہِ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَاأُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَاأُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں،میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، میں تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔)
Takhreej
(۱۸۷۱) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۲۷، والنسائی: ۳/ ۲۴۸، وابن ماجہ: ۱۱۷۹ (انظر: ۷۵۱، ۹۵۷)
1871
Sahih
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
۔ (۱۸۷۲) عَنْ وَرَّادٍ کَاتِبِ الْمُغْیِرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّ الْمُغِیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَتَبَ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعَطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۶۷)
سیدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کاتب وَرَّاد سے روایت ہے سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ،اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعَطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی) دولت تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔)
Takhreej
(۱۸۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۳۰، ومسلم: ۵۹۳، وانظر الحدیث بالطریق الثالث (انظر: ۱۸۱۸۳)
1872
Sahih
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
۔ (۱۸۷۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی الْمُغِیْرَۃِ أَنِ اکْتُبْ إِلَیَّ بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: کَانَ إِذَا صَلّٰی فَفَرَغَ قَالَ: ((لاَإِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ (فَذَکَرَ الْحَدْیِثَ بِنَحْوِ مَاتَقَدَّمَ)۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لکھا کہ میری طرف ایسی چیز لکھو جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو کہتے: لاَإِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ……۔ پہلی حدیث کی طرح ذکر کی۔
Takhreej
(۱۸۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری ومسلم، وانظر الحدیث بالطریق الثالث (انظر: ۱۸۱۵۸)
1873
Sahih