سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔ پھر کہا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ سب سے فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ، جسے تم محرم کہتے ہو۔
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تاخیر کرتا ہے، حتی کہ رات کا تہائی حصہ ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ اترکر کہتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعاقبول کی جائے، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے میں پانی چھڑکا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک کر اسے جگایا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تو اٹھ کر نماز پڑھ، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔
ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔
سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قبولیت تھی۔
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے: (۱) جو آدمی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، (۲) جب لوگ نماز کے لیے صفیں بنا تے ہیں اور (۳)جب لوگ لڑائی کے لئے صفیں بناتے ہیں۔
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی دائود علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دیگئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میںاللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیااور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! فلاں شخص کی طرح ہر گز نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے اس قیام کو ترک کردیا۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی آدمی سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی رسی کے ساتھ تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر آدمی وہ اٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، اگر وہ آگے بڑھے اور وضوء بھی کر لے تو دوسری گرہ کھول دی جاتی ہے اور اگر وہ نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھول دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس حال میں صبح کرے کہ نہ تو وہ رات کو اٹھا ہو، نہ ذکر کیا ہو، نہ وضو کیا ہو اور نہ نماز پڑھی ہو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ گرہیں اس پر موجود ہوتی ہیں۔
سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔