مسنداحمد

Musnad Ahmad

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان


۔ (۲۱۲۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ)، فَقِیْلَ لَہُ: أَلَیْسَ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفَلَا اَ کُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۲۷)

سیدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میںاللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۱۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۳۰، ۶۴۷۱، ومسلم: ۲۸۱۹ (انظر: ۱۸۱۹۸، ۱۸۲۳۸)