TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2122 - رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 16 in this chapter
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
۔ (۲۱۲۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ)، فَقِیْلَ لَہُ: أَلَیْسَ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفَلَا اَ کُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۲۷)
سیدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میںاللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
2122
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۱۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۳۰، ۶۴۷۱، ومسلم: ۲۸۱۹ (انظر: ۱۸۱۹۸، ۱۸۲۳۸)

Related Chapters

2,052
1
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
5
(25) CHAPTER. Time of the Isha prayer is up to the middle of the night.
اس بارے میں کہ عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے
Sahih Bukhari
6
(2) CHAPTER. The superiority of Tahajjud prayer (i.e. the night prayer).
رات کی نماز کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
7
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
8
(17) CHAPTER. The superiority of remaining with ablution during the day and night and the superiorit of offering As-Salat (prayers) after ablution during the day and night.
دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
9
(21) CHAPTER. The superiority of one who wakes up at night and offers the Salat (prayer) with a loud voice.
جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
10
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
Sahih Muslim
11
Chapter: It is recommended to pray Subh early, at the beginning of its time, when it is still dark; and the length of recitation therein
صبح کی نماز جلد ، اس کے اول وقت میں ، جو رات کی آخری تاریکی کا وقت ہے ، پڑھنا مستحب ہے ، نیز اس میں قراءت کی مقدارکا بیان
Sahih Muslim
12
Chapter: Encouragement to supplicate and recite statements of remembrance at the end of the night, and the response to that
رات کے آخری حصے میں دعا اور یا د الہی کی ترغیب ‘اور اس وقت ان کی قبولیت
Sahih Muslim
13
Chapter: The prayer and the supplication of the Prophet (saws) at night
رات کے وقت بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی نماز اور دعا
Sahih Muslim
14
پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Salat When Sleepy
باب: اونگھتے وقت نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Salat Of The Night Is Two By Two
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Salat At The (Time Of) Az-Zawal
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Salat During The Night And The Day Is Two And Two
باب: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Mentioned About Salat After Maghrib Is More Virtuous In The House
باب: مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For the Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Pray The Funeral Salat While The Sun Is Rising And While It Is Setting
باب: سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Not Performing The Salat For The Child Until One Is Sure He Was Alive At Birth
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Where The Imam Is To Stand For the Man And For The Women
باب: مرد اور عورت دونوں ہوں تو امام نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-'Asha'
باب: رات کے کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Scaredness Of Salat
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Whoever Dies While He Bears Witness To La Ilaha Illallah
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About What To Say When Standing For Prayer In The Night
باب: رات میں نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Supplication At The Opening Of The Salat At Night
باب: نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
47
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
Mishkat
48
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
Mishkat
49
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
50
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

49
Musnad Ahmad
9238
۔ (۹۲۳۸)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذِنْبِکَ، قَالَ: ((اَوَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۸۴)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
Musnad Ahmad
823
۔ (۸۲۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلٰوۃُ فَقَامَ وَقَدْ کَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَالِکَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَانْتَہَرَنِیْ وَ قَالَ: ((وَرَائَ کَ۔)) فَسَائَ نِیْ وَاللّٰہِ ذَالِکَ، ثُمَّ صَلّٰی فَشَکَوْتُ ذَالِکَ اِلَی عُمَرَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنَّ الْمُغِیْرَۃَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِ انْتِہَارُکَ اِیَّاہُ وَخَشِیَ أَنْ یَکُوْنَ فِی نَفْسِکَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَیْسَ عَلَیْہِ فِی نَفْسِیْ شَیْئٌ اِلَّا خَیْرٌ، وَلَکِنْ أَتَانِیْ بِمَائٍ لِأَتَوَضَّأَ وَاِنَّمَا أَکَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُہُ فَعَلَ ذَالِکَ النَّاسُ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۰۶)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پھر وضو کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔
Musnad Ahmad
3120
۔ (۳۱۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی حَمْزَہَ فَوَقَفَ عَلَیْہِ فَرَآہُ قَدْ مُثِّلَ بِہِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِیَّۃُ فِی نَفْسِہَا لَتَرَکْتُہُ حَتّٰی تَأَکْلَہُ الْعَافِیَۃُ، وَقَالَ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ: تَأْکُلُہُ الْعَاہَۃُ حَتّٰی یُحْشَرَ مِنْ بُطْوْنِہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَۃٍ، فَکَفَّنَہُ فِیْہَا، قَالَ: وَکَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلٰی رَأْسِہِ بَدَتْ قَدَمَاہُ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ بَدَا رَأْسُہُ قَالَ: وَکَثُرَ الْقَتْلٰی وَقَلَّتِ الثِّیَابُ، قَالَ: وَکَانَ یُکَفَّنُ أَوْ یُکَفِّنَ الرَّجُلَیْنِ شَکَّ صَفْوَانُ،وَالثَّلَاثَۃَ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُ عَنْ أَکْثَرِہِمْ قُرْآنًا فَیُقَدِّمُہُ إِلٰی الْقِبْلَۃِ، قَالَ: فَدَفَنَہُمْ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ، وَقَالَ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، فَکَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَۃُ یُکَفَّنُوْنَ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۲۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اوردیکھا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ محسوس نہ کرتی تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک درندے اور (گوشت خور) پرندے ان کو کھا جاتے اور ان ان کے پیٹوں سے ان کا حشر ہوتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھاری دار چادر منگوا کر ان کو اس میں کفن دیا، وہ چادر اس قدر چھوٹی تھی کہ اگر سر کو ڈھانپا جاتا تو پائوں ننگے ہو جاتے اور اگر اسے پائوں پرڈالا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیتے پھر پوچھتے کہ ان میں سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے، پس اسے (لحد میں) قبلہ کی طرف مقدم کرتے۔ اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہداء کو دفن کر دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔زید بن حباب راوی نے کہا: ایک ایک، دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔
Musnad Ahmad
13059
۔ (۱۳۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ کَتَبْتُ اِلَیْکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَدْ عَرَضْتُہُ وَجَمَعْتُہُ عَلٰی مَا کَتَبْتُ بِہٖاِلَیْکَ، فَحَدِّثْ بِذٰلِکَ عَنِّیْ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ الْحِزَامِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَیَّاشٍ السَّمْعِیُّ الْاَنْصَارِیُّ الْقِبَائِیُّ مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ دَلْھَمِ بْنِ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَمِّہِ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ دَلْھَمٌ: وَحَدَّثَنِیْہِ اَبُوْ الْاَسْوَدِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیْطٍ اَنَّ لَقِیْطًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَرَجَ وَافِدًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ نُہَیْکُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِکِ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ، قَالَ لَقِیْطٌ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاِنْسِلَاخِ رَجَبَ، فَاَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْنَاہُ حِیْنَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَقَامَ فِی النَّاسِ خَطِیْبًا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا اِنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکُمْ صَوْتِیْ مُنْذُ اَرْبَعَۃَ اَیَّامٍ اَلَا لَاَسْمَعَنَّکُمْ ، اَلَا فَہَلْ مِنَ امْرِیئٍ، بَعَثَہُ قَوْمُہُ۔)) فَقَالُوْا: اِعْلَمْ لَنَا مَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ اَلَا ثُمَّ لَعَلَّہُ اَنْ یُّلْہِیَہُ حَدِیْثُ نَفْسِہِ اَوْ حَدِیْثُ صَاحِبِہٖاَوْیُلْہِیْہِ الضَّلاَلُ، اِنِّی مَسْؤُلٌ ھَلْ بَلَّغْتُ، اَلَا اِسْمَعُوْا تَعِیْشُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا۔)) قَالَ: فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُہُ وَبَصَرُہُ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاعِنْدَکَ مِنْ عِلْمِ الْغَیْبِ فَضَحِکَ لَعَمْرُ اللّٰہِ وَھَزَّ رَاْسَہُ وَعَلِمَ اَنِّیْ اَبْتَغِیْ لِسَقَطِہٖفَقَالَ: ((ضَنَّرَبُّکَعَزَّوَجَلَّمَفَاتِیْحَ خَمْسٍ مِّنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ وَاَشَارَ بِیَدِہٖ۔)) قُلْتُ: وَمَا ھِیَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عِلْمُ الْمَنِیَّۃِ قَدْ عَلِمَ مَنِیَّۃَ اَحَدِکُمْ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ الْمَنِیَّ حِیْنَیَکُوْنُ فِی الرَّحْمِ قَدْ عَلِمَہُ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ مَا فِی غَدٍ وَمَا اَنْتَ طَاعِمٍ غَدًا وَلَاتَعْلَمُہُ، وَعَلِمَ الْیَوْمَ الْغَیْثَیُشْرِفُ عَلَیْکُمْ آزِلِیْنَ آدِلِیْنَ مُشْفِقِیْنَ فَیَظِلُّیَضْحَکُ، قَدْ اَعْلَمُ اَنَّ نَمِیْرَکُمْ اِلٰی قُرْبٍ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا ، وَعَلِمَ یَوْمَ السَّاعَۃِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنَا مِمَّا تُعْلِّمُ النَّاسُ وَمَا تَعْلَمُ فَاَنَا مِنْ قَبِیْلٍ لَایُصَدِّقُوْنَ تَصْدِیْقِنَا اَحَدٌ مِنْ مَذْجَحِ الَّتِیْ تَرْبُوْ عَلَیْنَا وَخَثْعَمَ الَّتِیْ تُوَالِیْنَا وَعَشِیْرَتُنَا الَّتِیْ نَحْنُ مِنْہَا ، قَالَ: ((تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ یُتَوَفّٰی نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَۃُ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ شَیْئٍ اِلَّا مَاتَ وَالْمَلَائِکَۃُ الَّذِیْنَ مَعَ رَبِّکَ عَزَّوَجَلَّ، فَاَصْبَحَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ یَطِیْفُ فِی الْاَرْضِ وَخَلَتْ عَلَیْہِ الْبِلَادُ، فَاَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلََّ السَّمَائَ، تَہْضِبُ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِیْلٍ وَلَا مَدْفَنِ َمیِّتٍ اِلَّاشَقَّتِ الْقَبْرُ عَنْہُ حَتّٰی تَجْعَلَہُ مِنْ عِنْدِ رَاْسِہِ فَیَسْتَوِیْ جَالِسًا فَیَقُوْلُ رَبُّکَ: مَہْیَمْ لِمَا کَانَ فِیْہِ،یَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَمْسٰی الْیَوْمُ وَلِعَہْدِہِ بِالْحَیَاۃِیَحْسِبُہُ حَدِیْثًا بِاَھْلِہٖ۔))فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیَجْمَعُنَا بَعْدَ مَاتَمَزَّقَنَا الرِّیَاحُ وَالْبِلٰی وَالسِّبَاعُ؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ، اَلْاَرْضُ اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ مَدَرَۃٌ بَالِیَۃٌ، فَقُلْتَ لَاتَحْیَا اَبَدًا، ثُمَّ اَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا السَّمَائَ، فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَیْکَ اِلَّا اَیَّامًا حَتّٰی اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ شَرْبَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُعَلٰی اَنْ یَجْمَعَہُمْ مِنَ الْمَائِ عَلٰی اَنْ یَجْمَعَ نَبَاتَ الْاَرْضِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَصْوَائِ اَوْ مِنْ مَصَارِعِہِمْ فَتَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْکُمْ۔))قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نَحْنُ مِلْأُ الْاَرْضِ وَھُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْنَا؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَۃٌ مِنْہُ صَغِیْرَۃٌ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ سَاعَۃً وَاحِدَۃً لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِمَا، وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُ عَلٰی اَنْ یَّراکُمْ وَتَرَوْنَہُ مِنْ اَنْ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُوْیَتِہِمَا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا یَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ اِذَا لَقِیْنَاہُ قَالَ: ((تُعْرَضُوْنَ عَلَیْہِ بَادِیَۃٌ لَہُ صَفَحَاتُکُمْ، لاَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ فَیَاْخُذُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ بِیَدِہٖ غُرْفَۃً مِّنَ الْمَائِ فَیَنْضَحُ قَبِیْلَکُمْ بِہَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتُخْطِیُٔ وَجْہَ اَحَدِکُمْ مِنْہَا قَطْرَۃٌ، فَاَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْہَہُ مِثْلَ الرَّیْطَۃِ الْبَیْضَائِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَتَخْطِمُہُ مِثْلَ الْحَمِیْمِ الْاَسْوَدِ، اَلَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْتَرِقُ عَلٰی اِثْرِہِ الصَّالِحُوْنَ فَیَسْلُکُوْنَ جَسْرًا مِّنَ النَّارِ، فَیَطَاُ اَحَدُکُمُ الْجَمْرَ فَیَقُوْلُ: حَسٍّ، یَقُوْلُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ: اَوَاَنُہُ، اَلَا فَتَطْلُعُوْنَ عَلٰی حَوْضِ الرَّسُوْلِ عَلٰی اَظْمَاِ وَاللّٰہِ نَاھِلَۃٍ عَلَیْھَا قَطُّ مَا رَأَیْتُھَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَا یَبْسُطُ وَاحِدٌ مِنْکُمْ یَدَہُ اِلَّا وُضِعَ عَلَیْھَا قَدْحٌ یُطَھِّرُہُ مِنَ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْاَذٰی وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَلَاتَرَوْنَ مِنْہُمَا وَاحِدًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَبِمَا نَبْصُرُ قَالَ: ((بِمِثْلِ بَصَرِکَ سَاعَتَکَ ہٰذِہٖوَذٰلِکَقَبْلَطُلُوْعِالشَّمْسِفِییَوْمٍاَشْرَقَتْہُ الْاَرْضُ وَاجَہَتْ بِہِ الْجِبَالُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نُجْزٰی مِنْ سَیِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا قَالَ: ((اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَالسَّیِّئَۃُ بِمِثْلِہَا اِلَّا اَنْ یَّعْفُوَ۔)) قَالَ:قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَمَّا الْجَنَّۃُوَاَمَّا النَّارُ؟ قَالَ: ((لَعَمْرُ اِلٰہِکَ اِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَۃَ اَبْوَابٍ ، مَا مِنْہُنَّ بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا، وَاِنَّ لِلْجَنَّۃِ لَثَمَانِیَۃَ اَبْوَابٍ، مَا مِنْہُمَا بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((عَلٰی اَنْہَارٍ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفّٰی وَاَنْہَارٍ مِّنْ کَاْسٍ مَا بِہَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَانَدَامَۃٍ، وَاَنْہَارٍ مِّنْ لَبَنٍ لَمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ، وَمَائٍ غَیْرِ آسِنٍ، وَبِفَاکِہَۃٍ لَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَا تَعْلَمُوْنَ وَخَیْرٌ مِنْ مِثْلِہِ مَعَہُ وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَنَا فِیْہَا اَزْوَاجٌ اَوْ مِنْہُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ: ((اَلصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِیْنَ تَلَذُّوْا بِہِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِکُمْ فِی الدُّنْیَا وَیَلْذَذْنَ بِکُمْ غَیْرَ اَنْ لَاتَوَالُدَ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: فَقُلْتُ: اَقْصٰی مَا نَحْنُ بَالِغُوْنَ مُنْتَہُوْنَ اِلَیْہِ، فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلٰیمَا اُبَایِعُکَ قَالَ: فَبَسَطَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَقَالَ: ((عَلٰی اِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَزِیَالِ الْمُشْرِکِ وَاَنْ لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اٰلِھًا غَیْرَہُ۔)) قُلْتُ: وَاِنَّ لَنَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَقَبَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَظَنَّ اَنِّیْ مُشْتَرِطُ شَیْئًا لَایُعْطِیْنِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْہَا حَیْثُ شِئْنَا وَلَایَجْنِیْ امْرِئٌ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہِ، فَبَسَطَ یَدَہُ وَقَالَ: ((ذٰلِکَ لَکَ تَحِلُّ حَیْثُ شِئْتَ وَلَایَجْنِیْ عَلَیْکَ اِلَّا نَفْسُکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَیْنِ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مِنْ اَتْقٰی النَّاسِ فِی الْاُوْلٰی وَالْآخِرَۃِ۔)) فَقَالَ لَہُ کَعْبُ بْنُ الْخُدْرِیَّۃِ اَحَدُ بَنِیْ بَکْرٍ مِنْ کِلَابٍ: مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بَنُوْ الْمُنْتَفِقِ اَھْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا وَاَقْبَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لِاَحَدٍ مِّمَنْ مَضٰی مِنْ خَیْرٍ فِیْ جَاھِلِیَّتِہِمْ قَالَ: ((قَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَیْشٍ وَاللّٰہِ اِنَّ اَبَاکَ الْمُنْتَفِقَ لَفِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَکَاَنَّہُ وَقَعَ حَرٌّ بَیْنَ جِلْدِیْ وَوَجْہِیْ وَلَحْمِیْ مِمَّا قَالَ لِاَبِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ النَّاسِ، فَہَمَمْتُ اَنْ اَقُوْلَ وَاَبُوْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ اِذَا الْاُخْرٰی اَجْہَلُ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَھْلُکَ قَالَ: ((وَاَھْلِیْ لَعَمْرُ اللّٰہِ مَا اَتَیْتَ عَلَیْہِ مِنْ قَبْرِعَامِرِیٍّ اَوْ قُرَشِیِّ مِنْ مُشْرِکٍ فَقُلْ اَرْسَلَنِیْ اِلَیْکَ مُحَمَّدٌ فَاُبَشِّرُکَ بِمَا یَسُوْئُ کَ تُجَرُّ عَلٰی وَجْہِکَ وَبَطْنِکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَافَعَلَ بِہِمْ ذٰلِکَ وَقَدْکَانُوْا عَلٰی عَمَلٍ لَایُحْسِنُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ وَکَانُوْا یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُصْلِحُوْنَ، قَالَ: ((ذٰلِکَ لِاَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ فِی آخِرِ کُلِّ سَبْعِ اُمَمٍ یَعْنِیْ نَبِیًّا فَمَنْ عَصٰی نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ وَمَنْ اَطَاعَ نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۷)
عاصم بن لقیط کہتے ہیں: بیشک سیدنا لقیط، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا، اس کا نام نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق تھا، سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںاور میرا ساتھی رجب کا مہینہ گزرنے کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم جب وہاں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: لوگو! خبردار! میں چار دنوں سے اپنی آواز تم لوگوں سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھا، اب میں ضرور تم سے کچھ باتیں کروں گا۔ خبر دار! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی بھی ہے، جسے اس کی قوم نے یہاں بھیجا ہو؟اور کہا ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو کچھ بیان کریں اسے یاد کر لینا؟ خبردار ممکن ہے کہ اس آدمی کو اس کے خیالات یا اس کے ساتھی کی کوئی بات یا گمراہی غافل کر دے۔ خبردار! مجھ سے اس بات کی پوچھ گچھ ہوگی کہ میں نے یہ باتیں تم لوگوں تک پہنچا دی ہیں یا نہیں؟ خبردار! غور سے سنو! تم میرے بعد عرصہ تک زندگی گزار و گے۔ خبردار! بیٹھ جاؤ، خبردار! بیٹھ جاؤ۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر لوگ بیٹھ گئے، میں اور میرا ساتھی کھڑے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل اور نگاہ ہمارے لیے فارغ ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر طرف سے فارغ ہو کر مکمل طور پر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو میںنے کہا: اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس علم غیب میں سے کیا کچھ ہے؟ اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بات سن کر مسکرا دئیے، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو حرکت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جان گئے کہ میں آپ سے کوئی ایسی بات پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے غیب کی پانچ چیزوں کے علم کی چابیاں اپنے پاس رکھی ہیں، ان پانچ چیزوں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے پانچ کا اشارہ کیا، میں نے کہا: وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) موت کا علم، وہ تمہاری موت کے وقت کو جانتا ہے اور تم اسے نہیں جانتے، (۲) منی کا علم، جب وہ ماں کے رحم میں ہوتی ہے، وہ اس کے مستقبل کے بارے میں ہر بات جانتا ہے، لیکن اسے تم نہیں جانتے، (۳)کل یعنی مستقبل کا علم کہ تم آئندہ کیا کچھ کھاؤ گے، اس کے متعلق تم کچھ نہیں جانتے، (۴) وہ بارش کا علم رکھتا ہے، جب وہ تم پر جھانکتا ہے، جبکہ تم (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) محبوس، بوجھ والے اور ڈرنے والے ہوتے ہو، وہ تمہاری یہ حالت دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے اور جانتا ہوتا ہے کہ تمہاری سیرابی قریب ہے۔ یہ سن کر سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو رب ہنستا ہے، ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہیں رہیں گئے۔ اور(۵) قیامت کا علم۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگوں کو جو تعلیم دیتے ہیں اور خود جو علم رکھتے ہیں، اس میں سے ہمیں بھی سکھائیں، میں ایسے لوگوں میں سے آیا ہوں، جو ہماری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق نہیں کرتے، ایک تو قبیلہ مذ حج ہے، وہ ہم سے بالائی جانب رہتا ہے اور دوسرا قبیلہ خثعم کا ہے، وہ ہمارا حلیف ہے اور اسی طرح ہمارا قبیلہ ہے، جس سے ہم ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو جب تک منظور ہوگا، تم دنیا میں رہو گے، پھر تمہارے نبی کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعد تم یہاں اس وقت تک رہو گے، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، اس کے بعد ایک زبردست قسم کی چیخ کی آواز آئے گی، جس کی شدت سے روئے زمین پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی، حتیٰ کہ جو فرشتے تمہارے رب کے ساتھ ہیں، وہ بھی مرجائیں گے، تمہارا رب زمین پر گھومے گا، سارے علاقے روح والی اشیاء سے خالی ہوچکے ہوں گے، پھر تمہارا رب آسمان کو ڈھیلا چھوڑ دے گا اور عرش کے قریب سے بارش برسے گی، اس کے نتیجے میں زمین پر جہاں بھی کوئی مقتول گرا ہوگا یا کوئی میت مدفون ہوگی، ان کی قبریں پھٹ جائیں گی، یہاں تک کہ وہ سر کی جانب سے اٹھ کر سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں گے، تمہارا رب ان سے پوچھے گا: کیا ہوا؟ وہ پہلے جس کیفیت میں تھا، اس سے موجودہ حالت میں آنے پر وہ کہے گا:اے میرے رب ! آج میرے لیے یہ دن آیا ہے، وہ چونکہ اس سے پہلے زندگی گزار چکا ہوگا، اس لیے وہ اسے اپنے اہل و عیال کی ملاقات کا ذریعہ سمجھے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! ہمارے مرنے کے بعد جب کہ ہوائیں، بوسیدگی اور درندے ہمیں ریزہ ریزہ کر چکے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے دوبارہ جمع کر ے گا؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں، تم زمین کو دیکھتے ہو، یہ سخت اور بنجرہوچکی ہوتی ہے، تم یہ سمجھ رہے ہوتے ہو کہ اب یہ کبھی بھی آباد نہیں ہو سکے گی، پھر تمہارا رب بارش برسا دیتا ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تم دیکھتے ہو کہ وہ پودوں کے اگنے سے سر سبزہو چکی ہوتی ہے، تمہارے اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے لیے زمین کی نباتات کو اگانے اور پیدا کرنے کے مقابلے میں ان لوگوں کو پانی سے پیدا کرنا آسان تر ہے، یہ لوگ ہواؤں اور قبروں کے درمیان سے نکل رہے ہوں گے اور تم اللہ تعالیٰ کو اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! انسانوں سے تو پوری زمین بھری ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ایک مقام پر ایک وجود ہوگا،اس لیے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بیک وقت ہم اسے دیکھ لیں اور وہ ہمیں دیکھ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مثال کے ذریعے بتلاتا ہوں، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی نشانیاں ہیں، تم انہیں اور وہ تمہیں بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ان کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت بھی پیش نہیں آتی، تمہارے اللہ کی قسم ! جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے اور سورج چاند کے تمہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آتی، اس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اور تم اس کو اس سے بھی زیادہ آسانی سے دیکھنے پر قادر ہو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم سب کو اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور تم میں سے کسی کا بھی چہرہ اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکے گا، تب تمہارا رب پانی کا ایک چلو لے کر اسے تمہاری طرف پھینکے گا، تمہارے اللہ کی قسم! اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہارے چہروں سے ادھر اُدھر نہیں جائے گا، جس قدرمسلمان ہوں گے، اس پانی کی برکت سے ان کے چہرے نرم ، ملائم اور چمکدار ہوجائیں گے اور وہ پانی کافروں کی ناک کو سیاہ کوئلے کی مانند کر دے گا، اس کے بعد تمہارا نبی ایک طرف کو جائے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے آگ کے ایک پل پر چلیں گے، پھر تم میں سے کوئی آگ کے انگاروں کو روندے گا اور ہائے ہائے کی آواز نکالے گا،اس کے بعد تمہیں شدید پیاس لگی ہوگی اور تم اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض ِ کوثر پر پہنچو گے، اللہ کی قسم وہاں پینے کے لیے اس قدر وافر پانی ہوگا کہ میںنے آج تک اتنا پانی نہیں دیکھا۔ تمہارے اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی آدمی پانی کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، اس پر پانی سے بھر اہوا ایک پیالہ رکھ دیا جائے گا۔ وہ پانی اسے پاخانے، پیشاب ، اور دیگر نجاستوں سے پاک کردے گا، سورج اور چاند کو محبوس کر دیاجائے گا اور تم ان میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھ سکو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم دیکھیں گے کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ا س وقت اسی طرح دیکھو گے، جیسے اب دیکھ رہے ہو، و ہ اس قسم کی کیفیت ہوگی جیسے سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر قبل سورج کی روشنی پہاڑوں پر پڑے تو زمین جس طرح روشن ہوتی ہے۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں :میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے گناہوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا اور ہر گناہ کا اس کے برابر بدلہ ملے گا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جنت اور جہنم کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! جہنم کے سات دروازے ہیں، ہر دو دروازوں کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں وہ فاصلہ طے کرتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اس کے بھی دو دروازوں کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں اس مسافت کر طے کرتا ہے۔ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ہم جنت میں کیا کچھ دیکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں صاف شفاف شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ایسی عمدہ شراب کی نہریں ہوںگی کہ جس کے پینے کے بعد نہ تو سر درد ہوگا اور نہ ندامت اور وہاں صاف دودھ کی نہریں ہوں گی، وہ ایسا دودھ ہوگا کہ اس کا ذائقہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا اور پانی کی نہریں ہوں گی، وہ پانی ایسا ہوگا کہ جو کبھی بھی باسی نہیں ہوگا اور تمہارے اللہ کی قسم! وہاں ایسے پھل ہوں گے جنہیں تم (نام سے) جانتے ہو اور ان کے علاوہ ان سے بھی عمدہ پھل ہوں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ میںنے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا جنت میں ہماری بیویاں ہوں گی یا ان میں سے نیک ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صالحین کے لیے صالحات ہوگی، تم ان سے وہاں اس طرح لطف اندوز ہوگے، جیسے تم ان سے اس دنیا میں لطف اندوز ہوتے ہو اور وہ بھی تم سے لطف اندوز ہوں گی، البتہ ولادت کا کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: تب تو وہ سب کچھ ہوگا جس کی ہم زیادہ سے زیادہ تمنا کرسکتے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ جواب نہیں دیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کن باتوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا کر فرمایا: باقاعدگی سے نماز ادا کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، مشرک سے جدا رہنے اور اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، ان سب امور پر بیعت کرو۔ میں نے کہا: اس کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کا سارا علاقہ یعنی روئے زمین ہماری ہوگی۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط لگانے والا ہوں، جس کا آپ مجھ سے وعدہ نہیں کرسکیں گے، میں نے کہا: ہم پوری زمین پر جہاں چاہیں گے جائیں گے، لیکن ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آدمی جوکچھ کرتا ہے، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہہ کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: تمہیں اجازت ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو جاؤ اور کسی کے عمل کی تم پر ذمہ داری نہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس آگئے، پھر آپ نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! یہ دونوں افراد دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ متقی ہیں۔ یہ سن کر بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص کعب بن خدریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو منتفق ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں پھر واپس آ گئے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہم سے پہلے دور جاہلیت میں گزر چکے ہیں، کیا ان میں سے کسی کا انجام بہتر بھی ہوگا؟میری اس بات پر ایک عام قریشی آدمی بولا: اللہ کی قسم ، تیرا باپ منتفق تو جہنمی ہی ہے۔ یہ سن کر میرے تن بدن کو آگ لگ گئی کہ اس نے بر سرِ عام میرے والد کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں کہ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والد کا کیا بنے گا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ اس شخص کے بدلے میں کہی گئی یہ بات اس سے بڑی جہالت ہوگی، پھرمیںنے یو ں کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاندان والے کہاںـ ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے خاندان والے، اللہ کی قسم! تم جس قریشی یا بنو عامر کے مشرک آدمی کی قبر کے پاس سے گزرو تو یوں کہنا کہ مجھے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیری طرف بھیجا ہے، میں تجھے ایسی خبر دیتا ہوں کہ جسے سن کر تجھے افسوس اور دکھ ہوگا، تجھے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان کا یہ انجام کیوں ہوگا، وہ تو جو کچھ کرتے رہے اچھا ہی سمجھ کرکرتے رہے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی، وہ گمراہوں میں سے ہوا اور جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا۔
Musnad Ahmad
297
۔ (۲۹۷)۔عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَا: سَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (یَعْنِیْ بْنَ الْعَاصِؓ) فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ بِیَدِہِ وَیَعِیْہِ بِقَلْبِہِ وکُنْتُ أَعِیْہِ بِقَلْبِیْ وَلَا أَکْتُبُ بِیَدِیْ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکِتَابِ عَنْہُ فَأَذِنَ لَہُ۔ (مسند أحمد:۹۲۲۰)
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدناابو ہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کومجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔
Musnad Ahmad
356
۔ (۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَرْکَبُوْنَ الْأَرْمَاثَ فِی الْبَحْرِ لِلصَّیْدِ فَیَحْمِلُوْنَ مَعَہُمْ مَائً لِلسَّقَاۃِ فَتُدْرِکُہُمُ الصَّلَاۃُ وَہُمْ فِی الْبَحْرِ وَأَنَّہُمْ ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَاِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِیْ أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَہُمْ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحَلَالُ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد:۲۳۴۸۴)
عبد اللہ بن مغیرہ کنانی کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Musnad Ahmad
419
۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Musnad Ahmad
490
۔ (۴۹۰)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمّادُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۱)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
Musnad Ahmad
632
۔ (۶۳۲)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعبَۃَؓوَقَد سُئِلَ: ہَل أَمَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍؓ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرِ کَذَا وَکَذَا، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ) فَلَمَّا کَانَ مِنَ السَّحَرِ ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِہِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُہُ فَتَغَیَّبَ عَنِّیْ سَاعَۃً ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((حَاجَتُکَ؟)) فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ حَاجَۃٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ہَلْ مِن مَّائٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ وَکَانَتْ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ یَدَیْہِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ عَلٰی العِمَامَۃِ وَعَلٰی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَوۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَہَبْتُ لِأُوذِنَہُ فَنَہَانِیْ فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ أَدْرَکْنَا) وَقَضَیْنَا الَّتِیْ سُبِقْنَا بِہَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقْنَا)۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۱۴)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اس امت میں سے سیدنا ابو بکرؓ کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی امامت کرائی ہے انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم غزوۂ تبوک کے موقع پر سفرمیں تھے، جب سحری کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی سواری کی گردن پر مارا اور چل پڑے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے ہو لیا، کچھ وقت تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھ سے غائب رہے اور پھر واپس آ گئے اور مجھ سے فرمایا: کوئی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی ضرورت نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر پانی بہایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہاتھ دھوئے،پھر چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا پیچھے کرنے لگے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جبّہ پہنا ہوا تھا، اس کے بازو تنگ ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے بازو اندر سے باہر نکال لیے اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا، پھر جب ہم لوگوں تک پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں ان کو بتلانے کے لیے جانے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے منع کر دیا، پھرجو نماز ہمیں مل گئی، ہم نے ادا کر لی اور جو رہ گئی اس کو بعد میں پورا کر لیا۔