TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وتر کے وقت کا بیان - وتر کے وقت کا بیان - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of رات کی نماز اور وتر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 5 · 22 Hadith
۔ (۲۱۷۸) عَنْ أَبِیْ تَمِیْمٍ الْجَیْشَانِیِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصَرَۃَ حَدَّثَنِیْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ زَادَکُمْ صَلَاۃً وَھِیَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَصَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) قَالَ أَبُوْ تَمِیْمٍ: فَأَخَذَ بِیَدِیْ أَبُوْذَرٍّ فَسَارَ فِی الْمَسْجِدِ إِلٰی أَبِی بَصْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُوْبَصْرَۃَ: أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۵۲)
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے۔
Takhreej
(۲۱۷۸) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۴۹۲، والطبرانی: ۲۱۶۸ (انظر: ۲۳۸۵۱)
2178
Sahih
۔ (۲۱۷۹) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلٰی أَبِیْ بَصْرَۃَ فَوَجَدَنَاہُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِییَلِی دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُوْذَرٍّ: یَا أَبَا بَصْرَۃَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ زَادَکُمْ صَلَاۃً، صَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُالْوِتْرُ۔))؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۷۱)
۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے ۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوںنے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۲۱۷۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الحاریث فی مسندہ : ۲۲۷، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۷۲۲۹)
2179
Sahih
۔ (۲۱۸۰) عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَہُ فَضَرَبَہَا وَقَالَ: یَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّیْ ثَلَاثًا، حَفِظْتُہُنَّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاتَسْأَلِ الرَّجُلَ فِیْمَ ضَرَبَ امْرَأَتَہُ وَلَا تَنَمْ إِلاَّ عَلٰی وِتْرٍ وَنَسِیْتُ الثَّالثَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲)
اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔
Takhreej
(۲۱۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد الرحمن المسلمی۔ أخرجہ ابوداود: ۲۱۴۷، وابن ماجہ: ۱۹۸۶ (انظر: ۱۲۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال جس آدمی کو نہ جاگنے کا خطرہ ہو اس کے لیےیہی بہتر ہے کہ وہ سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لیا کرے، لیکن اس نماز کو رات کے آخری ایک تہائی میں ادا کرنا افضل ہے۔
2180
Zaeef
۔ (۲۱۸۱) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوِتْرُ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ وَفِی وَسَطِہِ وَفِی آخِرِہِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَہُ الْوِتْرُ فِی آخِرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے، کبھی درمیانی حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں وتر ادا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر کے آخری حصہ رات میں ہی ہوتا تھا۔
Takhreej
(۲۱۸۱) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۸۶ (انظر: ۶۵۳)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث مسند احمد میں دوسرے مقامات میں بھی موجود ہے، ان میں آخری جملہ ان الفاظ کے ساتھ ہے: فانتھی وترہ الی السحر ) یا وانتھی وترہ الی آخر اللیل کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ وتر پڑھنے کا وقت سحری تک یا رات کے آخری حصہ تک پہنچ جاتا تھا۔۔
2181
Sahih
۔ (۲۱۸۲) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ زَوَائِدِ عَبْدِ اللّٰہِ عَلٰی مُسْنَدِ اَبِیْہِ مِثْلُہُ۔
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک اور حدیث بیان کی، ہے جو مسند احمد کی حدیث جیسی اور زوائد عبداللّٰہ میں ہے۔
2182
Sahih
۔ (۲۱۸۳) وَعَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یُوْتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَیُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیِْ اَلْفَجْرِ) عِنْدَ الْأِقَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۵۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے اور اقامت کے وقت فجر کی دو سنیں ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحارث بن عبد اللہ الاعور ضعیف، وشریک بن عبد اللہ القاضی توبع فی ھذا الحدیث۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۴۷ (انظر: ۶۵۹)
Explanation
فوائد:… اگر اذان اور اقامت کے وقت سے مراد یہ ہو کہ اذان سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیتے اور اقامت سے پہلے پہلے فجر کی سنتیں پڑھ لیتے، تو اس روایت کا مفہوم درست ہو گا۔
2183
Zaeef
۔ (۲۱۸۴) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوِتْرُ بِلَیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۴)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نماز ہے۔
Takhreej
(۲۱۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ مسلم بلفظ ((أوتروا قبل أن تصبحوا۔)): ۷۵۴ (انظر: ۱۱۰۰۱، ۱۱۰۹۷)
2184
Sahih
۔ (۲۱۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((مَتٰی تُوْتِرُ؟)) قَالَ: أَوَّلَ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ، قَالَ: ((فَأَنْتَ یَاعُمَرُ؟)) قَالَ: آخِرَ اللَّیْلِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَابَکْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَۃِ وَأَمَّا أَنْتَ یَاعُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۴)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔
Takhreej
(۲۱۸۵) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲۰۲، الطیالسی: ۱۶۷۱ (انظر: ۱۴۳۲۳)
2185
Sahih
۔ (۲۱۸۶) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی بِاللَّیْلٍ فَلْیَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِہِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذَالِکَ، فَإِذَا کَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَھَبَتْ کُلُّ صَلَاۃِ اللَّیْلٍ وَالْوِتْرُ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الْفَجْرِ)) (مسند احمد: ۶۳۷۲)
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے کہ جو رات کو نماز پڑھے وہ آخر میں وتر پڑھا کرے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے، اور جب فجر ہوگئی تورات کی ساری نماز اور وتر (کا وقت) ختم ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
Takhreej
(۲۱۸۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مختصرا الترمذی: ۴۶۹، وأخرجہ ابوعوانۃ: ۲/ ۳۱۰، والحاکم: ۱/ ۳۰۲، والبیھقی: ۲/ ۴۷۸ (انظر: ۶۳۷۲)
2186
Sahih
۔ (۲۱۸۷) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الصُّبْحِ)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
Takhreej
(۲۱۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۵۴ (انظر: ۱۱۰۹۷)
2187
Sahih
۔ (۲۱۸۸) عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍواَلْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَأَوْسَطَہُ وَآخِرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۲۱)
سیدناابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے میں، کبھی درمیانے حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں نمازِ وتر پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع ابا عبد اللہ الجدلی۔ أخرجہ الطیالسی: ۶۰۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۶۷۹، وفی الاوسط : ۶۹۸۵ (انظر: ۱۷۰۷۱)
2188
Zaeef
۔ (۲۱۸۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَھٰی وِتْرُہُ إِلَی السَّحَرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رات کے ہر حصے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر سحری تک ختم ہو جاتا تھا۔
Takhreej
(۲۱۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۹۶، ومسلم: ۷۴۵ (انظر: ۲۴۱۸۸)
2189
Sahih
۔ (۲۱۹۰) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رُبَمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا اِغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ، وَرُبَمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات سونے سے پہلے وتر پڑھا کرتے اور کبھی کبھار سونے کے بعد پڑھ لیتے، اسی طرح بسا اوقات سونے سے پہلے غسل جنابت کر لیا کرتے اور کبھی کبھار اِس غسل سے پہلے سو جاتے۔
Takhreej
(۲۱۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ مسلم بقصۃ الغسل من الجنابۃ: ۳۰۷، وأخرجہ مطولا ومختصرا ابوداود: ۲۲۶، والنسائی: ۱/ ۱۲۵ (انظر: ۲۴۴۵۳، ۲۵۰۷۰)
2190
Sahih
۔ (۲۱۹۱) عَنْ أَبِیْ نَہِیْکٍ أَنَّ أَبَاالدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وِتْرَ لِمَنْ أَدْرَکَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنْ الْمُوَْمِنِیْنَ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرُوْھَا، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْبِحُ فَیُوْتِرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۶)
ابونہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔
Takhreej
(۲۱۹۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط ، والبیھقی: ۲/ ۴۷۹ (انظر: ۲۶۰۵۸)
Explanation
فوائد:… رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی عذر کی بنا پر طلوع فجر تک وتر نہ پڑھ سکتے تو بعد میں ادا کر لیا کرتے تھے، امام مالک نے مؤطا: ۱/ ۱۲۶ میں کئی صحابہ سے طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنے کے آثار نقل کیے ہیں اور پھر کہا: وہ شخص طلوع فجر کے بعد وتر پڑھے گے جو سو جائے گا، وگرنہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جان بوجھ نماز وتر کی ادائیگی میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔ درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے: سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
2191
Sahih
۔ (۲۱۹۲) عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ کَانَ مِنَّا فِیْ رَکْعَۃٍ شَفَعَ إِلَیْہَا أُخْرٰی حَتّٰی اِجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِیْ وَسَطِہِ، ثُمَّ اَثْبَتَ الْوِتْرَ فِیْ ھٰذِہِ السَْاعَۃِ، قَالَ: وَذَالِکَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۹۷۴)
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔
Takhreej
(۲۱۹۲) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابی اسرائیل اسماعیل بن خلیفۃ الملائی۔ أخرجہ مختصرا البزار: ۷۹۰ (انظر: ۹۷۴)
Explanation
فوائد:… رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
2192
Sahih
۔ (۲۱۹۳) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلَیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلُوْہُ عَنِ الْوِتْرِ،قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُّوْتِرَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، ثَوِّبْ یَا ابْنَ التَّیَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِیٌّ حِیْنَ ثَوَّبَ الْمُثّوِّبُ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۸۹)
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۲۱۹۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل من بنی اسد الراوی عن علی (انظر: ۶۸۹)
2193
Zaeef
۔ (۲۱۹۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی اللَّیْلَ مَثْنٰی مَثْنٰی، ثُمَّ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَقُوْمُ کَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الإِْقَامَۃَ فِیْ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کان میں ہوتی۔
Takhreej
(۲۱۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۹۵ (انظر: ۴۸۶۰)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ کَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَیْہِ (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے پہلے (اتنی جلدی سے) دو رکعتیں ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے)۔ ان ہی الفاظ کی روشنی میں حدیث ِ مبارکہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ متن میں زیرِ مطالعہ حدیث میں لفظ اذان یا اقامت شک کے ساتھ ہے، اور فوائد کے تحت درج صحیح مسلم کی حدیث میں شک کے بغیر اذان کا لفظ ہے لیکن شارح صحیح مسلم نے بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد اقامت ہے مگر ایک دوسری حدیث میں بھی اقامت کو اذان کہا گیا ہے ((بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلٰوۃٌ)) (بخاری: ۶۳۲) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کی سنتیں آپ جلدی ادا کر لیتے گویا آپ اقامت کی آواز سن رہے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
2194
Sahih
۔ (۲۱۹۵) عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔
Takhreej
(۲۱۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۵۰، وابوداود: ۱۴۳۶، والترمذی: ۴۶۷ (انظر: ۴۹۵۲، ۴۹۵۴)
2195
Sahih
۔ (۲۱۹۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّھَارِ، فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ، وَصَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَالْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔
Takhreej
(۲۱۹۶) تخریج: صحیح دون قولہ: ((صلاۃ المغرب وتر صلاۃ النھار، فأوتروا صلاۃ اللیل)) وھذہ الجملۃ موقوفۃ علی ابن عمر۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۴۶۷۶، والنسائی فی الکبری : ۱۳۸۲، والطبرانی فی الاوسط : ۹۶۵ (انظر: ۴۸۴۷، ۵۵۴۹)
2196
Sahih
۔ (۲۱۹۷) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِجْعَلُوْا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔
Takhreej
(۲۱۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۹۸، ومسلم: ۷۵۱ (انظر: ۴۷۱۰)
Explanation
فوائد:… کیا نماز وتر کے بعد نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟ اس کا ذکر اگلے ساتویں باب میں آئے گا۔
2197
Sahih