TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان - نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان - نمازِ تراویح کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نمازِ تراویح کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 31 Hadith
۔ (۲۲۳۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِیْ رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُ، قَالَ وَجَائَ رَجُلٌ فَقَامَ اِلَی جَنْبِی، ثُمَّ جَائَ آخَرُ حَتّٰی کُنَّا رَھْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّا خَلْفَہُ تَجَوَّزَ فِی الصَّلَاۃِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ فَصَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یُصَلِّہَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَذَاکَ الَّذِی حَمَلَنِی عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتُ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ یُوَاصِلُ وَذَاکَ فِی آخِرِ الشَّھْرِ، قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ یُوَاصِلُوْنَ مِنْ أَصْحَابِہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ رِجَالٍ یُوَاصِلُوْنَ، اِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِی، أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ مُدَّ لِیَ الشَّہْرُ وَ اصَلْتُ وِصَالًا یَدَعُ الْمُتَعَمِّقُوْنَ تَعَمُّقَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، پس میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، پھر ایک اور آدمی آگیا، یہاں تک کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تخفیف کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور گھر تشریف لے گئے اور وہاں (لمبی) نماز پڑھی، وہ ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کو رات کے وقت ہمارے متعلق علم ہوگیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں اور یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ایسے کرنے پر آمادہ کیا۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر نبی کریمfنے وصال شروع کر دیا اور یہ مہینے کے آخری ایام کی بات ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی اقتداء میں) بعض صحابہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی وصال شروع کردیا۔ (جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو علم ہوا تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی وصال کر رہے ہیں۔ (یاد رکھو کہ) تم میری مثل نہیں ہو، خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ اگر یہ مہینہ میرے لیے لمبا کردیا جاتا تو میں وصال جاری رکھتا، اس طرح سے دین میں تشدّد کرنے والے اپنے تشدد سے باز آ جاتے۔
Takhreej
(۲۲۳۵) تخر یـج: أخرجہ مسلم: ۱۱۰۴(انظر: ۱۳۰۱۲)
2235
Sahih
۔ (۲۲۳۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ اِلَیْہِمْ فِی رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِہِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِہِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! جَلَسْنَا اللَّیْلَۃَ فَخَرَجْتَ اِلَیْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ؟ قَالَ: ((مِنْ أَجْلِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۸)
۔ (دوسری سند) سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان میں صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ہلکی سی نماز پڑھائی، پھر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)، پھر باہر تشریف لائے اور تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)۔ جب صبح ہوئی توہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم رات کو بیٹھے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہلکی سی نماز پڑھائی اور پھرگھر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر لگا دی؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سارا کچھ تمہاری وجہ سے کیا تھا۔
Takhreej
(۲۲۳۶) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، وانظر الحدیث بالطریق الثالث (انظر: ۱۲۵۷۰)
2236
Sahih
۔ (۲۲۳۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِی صَلَاتِکَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ بِمَکَانِکُمْ وَعَمْداً فَعَلْتُ ذٰلِکَ)) (مسند احمد: ۱۲۰۲۸)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم چاہ رہے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارا پتہ چل گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر ایسے کیا۔
Takhreej
(۲۲۳۷)تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۷۳۱، وابویعلی: ۳۷۵۵، وابن خزیمۃ: ۱۶۲۷(انظر: ۱۲۰۰۵)۔
2237
Sahih
۔ (۲۲۳۸) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَہُ بِصَلَاتِہِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ، فَاجْتَمَعَ اللَّیْلَۃَ الْمُقْبِلَۃَ أَکْثَرُ مِنْہُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَصَلَّوْا مَعَہُ بِصَلَاتِہِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوْا بِذٰلِکَ، فَاجْتَمَعَ اللَّیْلَۃَ الثَّالِثَۃَ نَاسٌ کَثِیْرٌ حَتّٰی کَثُرَ أَھْلُ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فَصَلَّوْا مَعَہُ، فَلَمَّا کَانَتْ اللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ اِجْتَمَعَ النَّاسُ حَتّٰی کَادَ الْمَسْجِدُ یَعْجِزُ عَنْ أَھْلِہِ فَجَلَسَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَخْرُجْ، قَالَتْ: حَتّٰی سَمِعْتُ نَاسًا مِنْھُمْ یَقُوْلُوْنَ الصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ، فَلَمْ یَخْرُجْ اِلَیْھِمُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی صَلَاۃَ الْفَجْرِ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ فَتَشَھَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ شَأْنُکُمُ اللَّیْلَۃَ وَلٰکِنِّی خَشِیْتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْھَا۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَذٰلِکَ فِی رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۶)
عروۃ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔
Takhreej
(۲۲۳۸) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۹۲۴، ۲۰۱۲، ومسلم: ۷۶۱ (انظر: ۲۵۳۶۲، ۲۵۴۴۶)۔
2238
Sahih
۔ (۲۲۳۹) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ کَانَ النَّاسُ یُصَلُّوْنَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ بِاللَّیْلِ أَوْزَاعًا یَکُوْنُ مَعَ الرَّجُلِ شَیْئٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَیَکُوْنُ مَعَہُ النَّفَرُ الْخَمْسَۃُ أَوِ السِّتَّۃُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذٰلِکَ أَوْ أَکْثَرُ فَیُصَلُّوْنَ بِصَلَاتِہِ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ ذٰلِکَ أَنْ أَنْصِبَ لَہُ حَصِیْراً عَلٰی بَابِ حُجْرَتِی فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ صَلَّی الْعِشَائَ اَلْآخِرَۃَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ مَنْ فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلًا طَوِیْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ وَتَرَکَ الْحَصِیْرَ عَلٰی حَالِہِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ کَانَ مَعَہُ فِی الْمَسْجِدِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ قَالَتْ وَأَمْسَی الْمَسْجِدُ رَاجَّا بِالنَّاسِ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتَہُ وَثَبتَ النَّاسُ قَالَتْ: فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَأْنُ النَّاسِ یَا عَائِشَۃُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِکَ الْبَارِحَۃَ بِمَنْ کَانَ فِی الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوْا لِذٰلِکَ لِتُصَلِّیَ بِہِمْ۔ قَالَتْ: فَقَالَ: اِطْوِ عَنَّا حَصِیْرَکِ یَا عَائِشَۃُ!)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، وَبَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَکَانَہُمْ حَتّٰی خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الصُّبْحِ فَقَالَتْ: فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَمَا وَاللّٰہِ! مَابِتُّ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَیْلَتِی ھٰذِہٖ غَافِلًا وَمَا خَفِیَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلٰکِنِّی تَخَوَّفْتُ أَنْ یُفْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَاکْلَفُوْا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِیْقُوْنَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا۔)) قَالَ: وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: اِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ أَدْوَمُہَا وَاِنْ قَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۳۸)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان کی راتوں کو مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھا کرتے تھے، ایک آدمی کو کچھ قرآن یاد ہوتا تو اس کے ساتھ پانچ یا چھ یا اس سے کم یا زیادہ لوگ نمازادا کرتے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک رات حکم دیا کہ میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک چٹائی بچھا دوں۔پس میں نے ایسے ہی کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد اس کی طرف نکلے (اور رات کی نماز پڑھنے لگے، جو لوگ مسجد میں تھے وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو طویل رات نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے اور چٹائی کو اسی طرح رہنے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور آپ کے ساتھ صحابہ کی نماز کی باتیں کیں۔ (اس کا اثر یہ ہوا کہ ) شام کے وقت مسجد لوگوں سے بھر گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر گھر چلے گئے، لیکن لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: عائشہ!لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ رات کو بعض صحابہ کے ساتھ آپ کی نماز کے بارے میں سن کر اب جمع ہو گئے ہیں، تاکہ آپ ان کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اپنی چٹائی لپیٹ لو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھرمیں ہی رات گذاری، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز وغیرہ پڑھنے سے) غافل نہ رہے، لیکن لوگ اسی مقام پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر کے لیے نکلے اور فرمایا: لوگو! اللہ کا شکر ہے کہ نہ میں نے یہ رات غفلت میں گزاری ہے اور نہ تمہاری حالت مجھ سے پوشیدہ رہی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ رات کی نماز تم پر فرض کردی جائے گی، اس لیے اپنی طاقت کے مطابق اعمال کے مکلف بنو،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہیں اکتا جاتے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی تھیں : بے شک اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
Takhreej
(۲۲۳۹) تخریـج:… حدیث صحیح لغیرہ، تقدم برقم: ۱۱۰۸ (انظر: ۲۶۳۰۷)
2239
Sahih
۔ (۲۲۴۰) عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ الْحَضْرَمِیِّ یَرُدُّہُ اِلٰی أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: لَمَّا کَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَعِشْرِیْنَ قَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَمَنْ شَائَ مِنْکُمْ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) وَھِیَ لَیْلَۃُ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ، فَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَاعَۃً بَعْدَ الْعَتَمَۃِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئاً وَلَمْ یَقُمْ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ قَامَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ یَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اللَّیْلَۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، یَعْنِیْ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَقُمْ۔)) فَصَلَّی بِالنَّاسِ حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئًا وَلَمْ یَقُمْ۔ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ قَامَ فَقَالَ: ((اِنَّا قَائِمُوْنَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ یَعْنِی لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ فَمَنْ شَائَ أَنْ یَقُوْمَ فَلْیَقُمْ۔)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِیَامِ فَصَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ذَھَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی قُبَّتِہِ فِی الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَہُ: اِنْ کُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ تَقُوْمَ بِنَا حَتّٰی تُصْبِحَ۔ فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! اِنَّکَ اِذَا صَلَّیْتَ مَعَ اِمَامِکَ وَانْصَرَفْتَ اِذَا انْصَرَفَ کُتِبَ لَکَ قُنُوتُ لَیْلتِکَ۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَجَدْتُّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۲)
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو انشاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویںرات آنی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔
Takhreej
(۲۲۴۰) تخریـج:… حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، شریح بن عبید الحضرمی لم یدرک ابا ذر (انظر: ۲۱۵۱۰)
2240
Sahih
۔ (۲۲۴۱) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ یَقُمْ بِنَا شَیْئًا مِنَ الشَّہْرِ حَتّٰی بَقِیَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّیْلِ، ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا اللَّیْلَۃَ الرَّابِعَۃَ وَقَامَ بِنَا اللَّیْلَۃَ الَّتِی تَلِیْھَا حَتَّی ذَھَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِیَّۃَ لَیْلَتِنَا ھٰذِہِ۔ قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا قَامَ مَعَ الْاِمَامِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ حُسِبَ لَہُ بَقِیَّۃُ لَیْلَتِہٖ۔)) ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا السَّادِسَۃَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَۃَ، وَقَالَ وَبَعَثَ اِلٰی أَھْلِہِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتّٰی خَشِیْنَا أَنْ یَفُوْتَنَا الْفَـلَاحُ۔ قال قُلْتُ: مَا الْفَـلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُوْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۷۸)
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔
Takhreej
(۲۲۴۱) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۱۳۷۵، وابن ماجہ: ۱۳۲۷، والترمذی: ۸۰۶، والنسائی: ۳/ ۸۳ (انظر: ۲۱۴۴۷)
2241
Sahih
۔ (۲۲۴۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ زِیَادٍ أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْمَارِیِّ اِنَّہُ سَمِعَ الْنُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ عَلٰی مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِکَ الْفَـلَاحَ۔ قَالَ: وَکُنَّا نَدْعُوا السُّحُوْرَ الْفَـلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُوْلُ لَیْلَۃَ السَّابِعَۃِ لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ وَأَنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ السَّابِعَۃَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۲)
نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟
Takhreej
(۲۲۴۲) تخریـج:… اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۳/۲۰۳ (انظر: ۱۸۴۰۲)۔
2242
Sahih
۔ (۲۲۴۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِتَّخَذَ حُجْرۃً فِی الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِیْرٍ فَصَلّٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَالِیَ حَتَّی اِجْتَمَعَ اِلَیْہِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَہُ فَظَنُّوا أَنَّہُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَتَنَحْنَحُ لِیَخْرُجَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ: ((مَا زَالَ بِکُمُ الَّذِی رَأَیْتُ مِنْ صَنِیْعِکُمْ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیْکُمْ، وَلَوْ کُتِبَ عَلَیْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِہِ، فَصَلُّوا أَیُّہَا النَّاسُ فِی بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ أَفْضَلَ صَلَاۃِ الْمَرْئِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا الْمَکْتَوْبَہَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۱۵)
سیّدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرضی نماز کے۔
Takhreej
(۲۲۴۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۷۳۱، ۷۲۹۰، ومسلم: ۷۸۱ (انظر: ۲۱۵۸۲)۔
2243
Sahih
۔ (۲۲۴۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیُّمَا اَفْضَلُ؟ اَلصَّلَاۃُ فِیْ بَیْتِیْ اَوِ الصَّلَاۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا تَرٰی اِلٰی بَیْتِیْ؟ مَا اَقْرَبَہٗ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَـلَاَنْ اُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِیْ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُصَلِّیَ فِیْ الْمَسْجِدِ۔ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَّکْتُوْبَۃً۔)) (سنن ابن ماجہ: ۱۳۷۸)
سیّدنا عبد اللہ بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔
Takhreej
(۲۲۴۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۷۳۱، ۷۲۹۰، ومسلم: ۷۸۱ (انظر: ۲۱۵۸۲)۔
2244
Zaeef
۔ (۲۲۵۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الضُّحٰی حِیْنَ کَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَکَانِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۵۷) تخریـج:… اسنادہ قوی (انظر: ۱۲۵۲)
2257
Sahih
۔ (۲۲۵۸) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَھْلِ قُبَائٍ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی۔ فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الْأَوَّابِیْنَ اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَی۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷۸)
سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔
Takhreej
(۲۲۵۸) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۷۴۸ (انظر: ۱۹۲۶۴)
2258
Sahih
۔ (۲۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی مَسْجِدِ قُبَائٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَائٍ بَعْد مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَاِذَا ھُمْ یُصَلُّوْنَ، فَقَالَ: ((اِنَّ صَلَاۃَ الْأَوَّابِیْنَ کَانُو یُصَلُّوْنَہَا اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۶۲)
(دوسری سند)جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2259
Sahih
۔ (۲۲۶۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِی أَبُو بَشِیْرِنِ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی صَلَاۃَ الضُّحٰی حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَیَّ ذٰلِکَ وَنَہَانِی، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۴)
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2260
Sahih
۔ (۲۲۶۱) عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی بَیْتِہِ سُبْحَۃَ الضُّحٰی فَقَامُوا وَرَائَ ہُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۰)
سیّدناعتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2261
Sahih
۔ (۲۲۶۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ الضُّحَی۔ (مسند احمد: ۶۸۲)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۲) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۵۹۸، والنسائی: ۲/ ۱۱۹(انظر: ۶۸۳)
2262
Sahih
۔ (۲۲۶۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَدَعُہَا وَیَدَعُھَا حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُصَلِّیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۱۷۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یوںچھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔
Takhreej
(۲۲۶۳) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ العوفی، أخرجہ الترمذی: ۴۷۷ (انظر: ۱۱۱۵۵)
2263
Zaeef
۔ (۲۲۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الْضُّحٰی قَطُّ اِلَّا مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۹۷۵۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔
Takhreej
(۲۲۶۴) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۰۷، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۴۷۷، والبزار: ۶۹۶ (انظر: ۹۷۵۸)
2264
Sahih
۔ (۲۲۶۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: رَاٰی أَبُو بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَاسًا یُصَلُّوْنَ الْضُّحٰی، فَقَالَ اِنَّہُمْ لَیُصَلُّوْنَ صَلَاۃً مَا صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا عَامَّۃُ أَصْحَابِہِE۔ (مسند احمد: ۲۰۷۳۴)
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھی اورنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عام صحابہ نے۔
Takhreej
(۲۲۶۵) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ الدارمی: ۱۴۵۶، والبزار: ۳۶۳۵، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۴۷۸ (انظر: ۲۰۴۶۰)
2265
Sahih
۔ (۲۲۶۶) عَنْ مُوَرِّقِ نِ الْعِجْلِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَتُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَا اِخَالُہُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۸)
مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۶) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۷۵ (انظر: ۴۷۵۸)
2266
Sahih