ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں قیام کرنے کا حکم دیتے تھے، لیکن وہ یہ حکم وجوب کے ساتھ نہیں دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمایاکرتے تھے: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے اور میں نے اس کے قیام کو سنت (بنادیا ہے)، پس جس نے ثواب کے حصول کے لیے اس کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا، وہ گناہوں سے ایسے نکل آئے گا، جیسے آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، پھر ایک اور آدمی آگیا، یہاں تک کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخفیف کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر تشریف لے گئے اور وہاں (لمبی) نماز پڑھی، وہ ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کو رات کے وقت ہمارے متعلق علم ہوگیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ایسے کرنے پر آمادہ کیا۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی کریمfنے وصال شروع کر دیا اور یہ مہینے کے آخری ایام کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی اقتداء میں) بعض صحابہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی وصال شروع کردیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی وصال کر رہے ہیں۔ (یاد رکھو کہ) تم میری مثل نہیں ہو، خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ اگر یہ مہینہ میرے لیے لمبا کردیا جاتا تو میں وصال جاری رکھتا، اس طرح سے دین میں تشدّد کرنے والے اپنے تشدد سے باز آ جاتے۔
۔ (دوسری سند) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ہلکی سی نماز پڑھائی، پھر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)، پھر باہر تشریف لائے اور تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)۔ جب صبح ہوئی توہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم رات کو بیٹھے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہلکی سی نماز پڑھائی اور پھرگھر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر لگا دی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سارا کچھ تمہاری وجہ سے کیا تھا۔
Takhreej
(۲۲۳۶) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، وانظر الحدیث بالطریق الثالث (انظر: ۱۲۵۷۰)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم چاہ رہے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارا پتہ چل گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر ایسے کیا۔
Takhreej
(۲۲۳۷)تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۷۳۱، وابویعلی: ۳۷۵۵، وابن خزیمۃ: ۱۶۲۷(انظر: ۱۲۰۰۵)۔
عروۃ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان کی راتوں کو مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھا کرتے تھے، ایک آدمی کو کچھ قرآن یاد ہوتا تو اس کے ساتھ پانچ یا چھ یا اس سے کم یا زیادہ لوگ نمازادا کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک رات حکم دیا کہ میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک چٹائی بچھا دوں۔پس میں نے ایسے ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد اس کی طرف نکلے (اور رات کی نماز پڑھنے لگے، جو لوگ مسجد میں تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو طویل رات نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور چٹائی کو اسی طرح رہنے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ صحابہ کی نماز کی باتیں کیں۔ (اس کا اثر یہ ہوا کہ ) شام کے وقت مسجد لوگوں سے بھر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر گھر چلے گئے، لیکن لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: عائشہ!لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ رات کو بعض صحابہ کے ساتھ آپ کی نماز کے بارے میں سن کر اب جمع ہو گئے ہیں، تاکہ آپ ان کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اپنی چٹائی لپیٹ لو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھرمیں ہی رات گذاری، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز وغیرہ پڑھنے سے) غافل نہ رہے، لیکن لوگ اسی مقام پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے نکلے اور فرمایا: لوگو! اللہ کا شکر ہے کہ نہ میں نے یہ رات غفلت میں گزاری ہے اور نہ تمہاری حالت مجھ سے پوشیدہ رہی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ رات کی نماز تم پر فرض کردی جائے گی، اس لیے اپنی طاقت کے مطابق اعمال کے مکلف بنو،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہیں اکتا جاتے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : بے شک اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
Takhreej
(۲۲۳۹) تخریـج:… حدیث صحیح لغیرہ، تقدم برقم: ۱۱۰۸ (انظر: ۲۶۳۰۷)
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو انشاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویںرات آنی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔
Takhreej
(۲۲۴۰) تخریـج:… حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، شریح بن عبید الحضرمی لم یدرک ابا ذر (انظر: ۲۱۵۱۰)
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔
Takhreej
(۲۲۴۱) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۱۳۷۵، وابن ماجہ: ۱۳۲۷، والترمذی: ۸۰۶، والنسائی: ۳/ ۸۳ (انظر: ۲۱۴۴۷)
نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرضی نماز کے۔
سیّدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، سیّدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
Takhreej
(۲۲۴۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عیسی بن جاریۃ الانصاری المدنی، ولابھام الراوی لہ عن یعقوب بن عبد اللہ، لکن قد رواہ غیر واحد عن یعقوب، أخرجہ ابن حبان: ۲۵۴۹، ۲۵۵۰، وابویعلی: ۱۸۰۱، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۴۳ (انظر: ۲۱۰۹۸)۔
ابوسلمۃ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔
سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، پس انہوں نے غنیمت حاصل کی اور جلدی واپس لوٹ آئے، لوگوں نے اس غزوے میں (لڑائی کے)جلدی ختم ہو جانے ، کثیر مقدار میں غنیمت حاصل کرنے اور ان کے جلدی واپس لوٹ آنے کے بارے میں باتیں کیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی نہ کردوں کہ جو غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہو، غنیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو اور لوٹنے کے لحاظ سے بھی قریب ہو؟ جس نے وضو کیا، پھر چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد گیا، وہ شخص غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہے اور زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔
Takhreej
(۲۲۴۷) تخریـج:… حسن لغیرہ، وابن لھیعۃ قد تابعہ ابن وھب عند الطبرانی، وحیی بن عبد اللہ ضعیف لکن فی الباب ما یقویہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘ (انظر: ۶۶۳۸)
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں ۔ چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کی اس کے
Takhreej
(۲۲۴۸) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف النھاس بن قھم، وشداد بن عبد اللہ القرشی مولاھم لم یسمع من ابی ھریرۃ(انظر: ۱۰۴۴۷)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے مجھے یہ تین وصیتں کیں: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی نماز پڑھنااور نمازِ وتر پڑھ کر سونا۔
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔
سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں چار رکعتوں کو پڑھنے سے عاجز نہ آجا، (اگر تو یہ نماز پڑھے گا تو) میں تجھے دن کے آخر میں کافی ہوجاؤں گا۔
Takhreej
(۲۲۵۱) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، شریح بن عبید لم یسمع من ابی الدردائ، أخرجہ الترمذی: ۴۷۵ (انظر: ۲۷۴۸۰)