TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان - نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان - نمازِ تراویح کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نمازِ تراویح کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 31 Hadith
۔ (۲۲۶۷) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَاِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاہُ، قَالَ: فَاِذَا رِجَالٌ یُصَلُّونَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: بِدْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۲۶)
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
Takhreej
(۲۲۶۷) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۷۷۵، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ومسلم: ۱۲۵۵ (انظر: ۶۱۲۶)۔
2267
Sahih
۔ (۲۲۶۸) عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ مَا أَخْبَرَنِی أَحَدٌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی غَیْرُ أُمِّ ھَانِیئٍ فَاِنَّہَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ بَیْتَہَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یُخَفِّفُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ) مَارَأَتْہُ صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ أَخَفَّ مِنْہَا غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۹)
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۸) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۰۳، ۱۱۷۶، ۴۲۹۲، ومسلم: ۳۳۶ (انظر: ۲۶۹۰۰)
2268
Sahih
۔ (۲۲۶۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَیْہِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ فِیْہَا أَطْوَلُ أَوْ رُکُوْعُہُ أَوْ سُجُوْدُہُ، کُلُّ ذٰلِکَ مِنْہُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَہُ سَبَّحَہَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۸)
(دوسری سند ) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Takhreej
(۲۲۶۹) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۳۳۶ ، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۶۸۹۹)
2269
Sahih
۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
Takhreej
(۲۲۷۰) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۶۷۰، ۱۱۷۹، ۶۰۸۰(انظر: ۱۲۳۲۹)
2270
Sahih
۔ (۲۲۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ اِنَّہُ لَمْ یَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَخْرُجَ فِی سَفَرٍ أَوْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد:۱۲۶۴۹ )
سیّدناعبد اللہ بن رواحۃ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔
Takhreej
(۲۲۷۱) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۵۴، وابو یعلی: ۴۳۳۷، وأبو نعیم فی ’’الحلیۃ‘‘: ۹/ ۱۶ (انظر: ۱۲۳۵۳)
2271
Sahih
۔ (۲۲۷۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَھْبَۃٍ سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ ثَـلَاثاً فَاَعْطَانِی ثِنْتَیْنِ وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّھُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میںنے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
Takhreej
(۲۲۷۲) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضیعف لجھالۃ الضحاک القرشی، ولضعف رشدین بن سعد (انظر: ۱۲۵۸۹)
2272
Sahih
۔ (۲۲۷۳) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَاللّٰہِ مَا سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُبْحَۃَ الضُّحٰی قَطُّ وَاِنِّیْ لَأُسَبِّحُہَا وَقَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتْرُکُ الْعَمَلَ وَھُوَ یُحِبُّ أَنْ یَعْمَلَہُ خَشْیَۃَ أَنْ یَسْتَنَّ بِہِ النَّاسُ فَیُفْرَضَ عَلَیْہِمْ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَی النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی چاشت کے نوافل نہیں پڑھے تھے، البتہ میں یہ نماز پڑھتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس کو ترک کر دیتے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ڈر ہوتا تھا کہ لوگ بھی آپ کی اقتداء کریں گے اور یہ عمل فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرائض کے معاملے پر لوگوں پر تخفیف کو پسند کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۷۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۲۸، ۱۱۷۷، ومسلم: ۷۱۸ (انظر: ۲۵۴۴۴، ۲۵۴۵۱)
2273
Sahih
۔ (۲۲۷۴) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُبْحَۃَ الضُّحٰی فِی سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۵۸)
اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نمازنہیں پڑھتے تھے، نہ سفر میںاور نہ حضر میں۔
Takhreej
(۲۲۷۴) تخریـج:… انظر الحدیث السابق: ۱۱۴۱ (انظر: ۲۴۵۵۱)
2274
Sahih
۔ (۲۲۷۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا، ہاں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس آتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۷۵) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۷۱۷ (انظر: ۲۴۰۲۵، ۲۵۳۸۵)
2275
Sahih
۔ (۲۲۷۶) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِیَ الضُّحٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۴۶)
عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھیں۔
Takhreej
(۲۲۷۶) تخریـج:… حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، أخرجہ مسلم: ۷۱۹ (انظر: ۲۵۲۳۲، ۲۴۹۲۴)
2276
Sahih
۔ (۲۲۷۷) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَیَزِیْدُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۰۱)
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور اس سے زیادہ بھی پڑھتے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا۔
Takhreej
(۲۲۷۷) تخریـج:… انظر الحدیث السابق: ۱۱۴۴ (انظر: ۲۴۸۸۹)
2277
Sahih