TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازِ تراویح کے ابواب - نمازِ تراویح کے ابواب - Book 39 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 39 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 53 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

53 Hadith · 6 Chapters
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۲۵۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَمَّارٍ الْغَطْفَانِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: صَلِّ لِی یَا ابْنَ آدَمَ! أَرْبَعًا فِی أَوَّلِ النَّہَارِ أَکْفِکَ آخِرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۳۹)
سیّدنا نعیم بن ہمار غطفانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا رب فرماتاہے: اے آدم کے بیٹے!تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعت نماز پڑھ، میں تجھے دن کے آخر میں (تمام حاجات و مشکلات سے) کافی ہو جاؤں گا۔
Takhreej
(۲۲۵۲) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۲۸۹، والبخاری فی ’’تاریخہ‘‘: ۸/ ۹۳ (انظر: ۲۲۴۷۰، ۲۲۴۷۲)
2252
Sahih
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۲۵۳) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْ صَانِی خَلِیْلِی أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَـلَاثٍ لَا أَدَعُہُنَّ لِشَیْئٍ أَوْصَانِی بِثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْر، وَأَنْ لَّا أَنَامَ اِلَّا عَلٰی وِتْرٍ وَسُبْحَۃِ الضُّحٰی فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۲۹)
سیّدنا ابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی، میں ان کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نصیحت کی کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھوں، وتر کی نماز پڑھ کر ہی سوؤں، اور سفر و حضر میں چاشت کی نماز ادا کروں۔
Takhreej
(۲۲۵۳) تخریـج:… حدیث صحیح دون قولہ: ((فی الحضر والسفر))، وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی عن ابی ادریس السکونی، ولجھالۃ ابی ادریس السکونی، أخرجہ مسلم: ۷۲۲ (انظر: ۲۷۴۸۱)
2253
Sahih
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۲۵۴) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُصْبِحُ عَلٰی کُلِّ سُلَامَی مِنْ أَحَدِکُمْ صَدَقَہٌ، وَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ، وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَہٌ، وَیُجْزِیْ أَحَدَکُمْ مِنْ ذٰلِکَ کُلِّہِ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُھُمَا مِنَ الضُّحٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۰۷)
سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے اورتسبیح کرنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے اور برے کام سے روکنا صدقہ ہے (اس طرح یہ امور سر انجام دے کر ان اعضاء کا صدقہ ادا کیا جا سکتا ہے) اور ان تمام چیزوں سے دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں، جو آدمی چاشت کے وقت ادا کرتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۵۴) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۲۸۵، ۱۲۸۶، ۵۲۴۴(انظر: ۲۱۴۷۵، ۲۱۵۴۸)
2254
Sahih
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۲۵۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُتِبَ عَلَیَّ النَّحْرُ وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۹۱۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر( عیدالالضحیٰ کی) قربانی فرض کی گئی ہے، لیکن تم پر اس کو فرض نہیں کیا گیا اورمجھے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا۔
Takhreej
(۲۲۵۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، لضعف جابر بن یزید الجعفی، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۸۰۲، ۱۱۸۰۳، والبزار: ۲۴۳۴(انظر: ۲۹۱۷، ۲۰۶۵)
2255
Zaeef
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۲۵۶) (وَمِنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَبِالْوِتْرِ وَلَمْ یُکْتَبْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۵)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تو چاشت کی دو رکعات اور وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا، لیکن (تم پر) یہ چیزیں فرض نہیں کی گئیں۔
Takhreej
(۲۲۵۶) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، لضعف جابر بن یزید الجعفی، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۸۰۲، والبزار: ۲۴۳۴(انظر: ۲۰۶۵)
2256
Zaeef
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۵۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الضُّحٰی حِیْنَ کَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَکَانِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۲۵۷) تخریـج:… اسنادہ قوی (انظر: ۱۲۵۲)
2257
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۵۸) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَھْلِ قُبَائٍ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی۔ فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الْأَوَّابِیْنَ اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَی۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷۸)
سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔
Takhreej
(۲۲۵۸) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۷۴۸ (انظر: ۱۹۲۶۴)
2258
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی مَسْجِدِ قُبَائٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَائٍ بَعْد مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَاِذَا ھُمْ یُصَلُّوْنَ، فَقَالَ: ((اِنَّ صَلَاۃَ الْأَوَّابِیْنَ کَانُو یُصَلُّوْنَہَا اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۶۲)
(دوسری سند)جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2259
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِی أَبُو بَشِیْرِنِ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی صَلَاۃَ الضُّحٰی حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَیَّ ذٰلِکَ وَنَہَانِی، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۴)
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2260
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۱) عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی بَیْتِہِ سُبْحَۃَ الضُّحٰی فَقَامُوا وَرَائَ ہُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۰)
سیّدناعتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔
Takhreej
(۲۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ علی شرط مسلم، أخرجہ أبو عوانۃ: ۲/ ۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۱۲۲۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۵۱۱۱، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۱۹۳۴۷)
2261
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ الضُّحَی۔ (مسند احمد: ۶۸۲)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۲) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۵۹۸، والنسائی: ۲/ ۱۱۹(انظر: ۶۸۳)
2262
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَدَعُہَا وَیَدَعُھَا حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُصَلِّیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۱۷۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یوںچھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔
Takhreej
(۲۲۶۳) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ العوفی، أخرجہ الترمذی: ۴۷۷ (انظر: ۱۱۱۵۵)
2263
Zaeef
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الْضُّحٰی قَطُّ اِلَّا مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۹۷۵۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔
Takhreej
(۲۲۶۴) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۰۷، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۴۷۷، والبزار: ۶۹۶ (انظر: ۹۷۵۸)
2264
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: رَاٰی أَبُو بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَاسًا یُصَلُّوْنَ الْضُّحٰی، فَقَالَ اِنَّہُمْ لَیُصَلُّوْنَ صَلَاۃً مَا صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا عَامَّۃُ أَصْحَابِہِE۔ (مسند احمد: ۲۰۷۳۴)
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھی اورنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عام صحابہ نے۔
Takhreej
(۲۲۶۵) تخریـج:… اسنادہ قوی، أخرجہ الدارمی: ۱۴۵۶، والبزار: ۳۶۳۵، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۴۷۸ (انظر: ۲۰۴۶۰)
2265
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۶) عَنْ مُوَرِّقِ نِ الْعِجْلِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَتُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَا اِخَالُہُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۸)
مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۶) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۷۵ (انظر: ۴۷۵۸)
2266
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۷) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَاِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاہُ، قَالَ: فَاِذَا رِجَالٌ یُصَلُّونَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: بِدْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۲۶)
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
Takhreej
(۲۲۶۷) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۷۷۵، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ومسلم: ۱۲۵۵ (انظر: ۶۱۲۶)۔
2267
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۸) عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ مَا أَخْبَرَنِی أَحَدٌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی غَیْرُ أُمِّ ھَانِیئٍ فَاِنَّہَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ بَیْتَہَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یُخَفِّفُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ) مَارَأَتْہُ صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ أَخَفَّ مِنْہَا غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۹)
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
Takhreej
(۲۲۶۸) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۰۳، ۱۱۷۶، ۴۲۹۲، ومسلم: ۳۳۶ (انظر: ۲۶۹۰۰)
2268
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۶۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَیْہِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ فِیْہَا أَطْوَلُ أَوْ رُکُوْعُہُ أَوْ سُجُوْدُہُ، کُلُّ ذٰلِکَ مِنْہُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَہُ سَبَّحَہَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۸)
(دوسری سند ) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Takhreej
(۲۲۶۹) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۳۳۶ ، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۶۸۹۹)
2269
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
Takhreej
(۲۲۷۰) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۶۷۰، ۱۱۷۹، ۶۰۸۰(انظر: ۱۲۳۲۹)
2270
Sahih
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۲۲۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ اِنَّہُ لَمْ یَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَخْرُجَ فِی سَفَرٍ أَوْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد:۱۲۶۴۹ )
سیّدناعبد اللہ بن رواحۃ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔
Takhreej
(۲۲۷۱) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۵۴، وابو یعلی: ۴۳۳۷، وأبو نعیم فی ’’الحلیۃ‘‘: ۹/ ۱۶ (انظر: ۱۲۳۵۳)
2271
Sahih