مسنداحمد

Musnad Ahmad

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان

۔ (۲۳۲۵) عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَقْدَمُ مِنْ سَفرٍ اِلَّا نَہَاراً فِی الضُّحٰی، فَاِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلّٰی فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِیْہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) فَیَأْتِیْہِ النَّاسُ فَیُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۶۷)

’سیّدناکعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دن کو چاشت کے وقت میں واپس آتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ جاتے تو مسجد سے شروع ہوتے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر وہاںبیٹھ جاتے اور لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر آپ کو سلام کہتے۔

۔ (۲۳۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَطْرُقُ أَھْلَہُ لَیْلًا، کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہِمْ غُدْوَۃً أَوْ عَشِیَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۲۸۸)

سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سفر سے واپسی پر) رات کو گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا شام کے وقت آتے تھے۔

۔ (۲۳۲۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اِذَا دَخَلْتَ لَیْلاً فَـلَا تَدْخُلْ عَلٰی أَھْلِکَ حَتّٰی تَسْتَحِدَّ الْمُغِیْبَۃُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَۃُ۔)) قَالَ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلْتَ فَعَلَیْکَ الْکَیْسَ الْکَیْسَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۳۳)

سیّدنا جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو رات کو سفر سے واپس لوٹے تو اپنے گھر والوں کے پاس نہ جا، حتیٰ کہ غائب خاوند کی بیوی استرا استعمال کر لے (زیر ناف بال مونڈ لے) اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا جابر سے فرمایا: جب تو سفر سے واپس گھر میں آئے تو عقلمندی کو لازم پکڑنا، عقلمندی کو (یعنی حق زوجیت ادا کرنے کا اہتمام کرنا)۔

۔ (۲۳۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ الْعَقِیْقَ فَنَھٰی عَنْ طُرُوقِ النِّسَائِ اللَّیْلَۃَ الَّتِی یَأْتِیْ فِیْہَا فَعَصَاہُ فَتَیَانِ فَکِلَاھُمَا رَآی مَا یُکْرَہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۱۴)

عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عقیق نامی جگہ پراترے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو بیویوں پر داخل ہونے سے منع فرما دیا۔ دو نوجوانوں نے اس حکم کی نافرمانی کی، پس ان دونوں نے( اپنے گھروں میں) ایسی چیزیں دیکھیں جس کو ناپسند کیا جاتا ہے۔

۔ (۲۳۲۹) عَنْ نُبَیْحٍ الْعَنَزِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلْتُمْ لَیْلًا فَـلَا یَأْتِیَنَّ أَحَدُکُمْ أَھْلَہُ طُرُوقًا۔)) فَقَالَ جَابِرٌ: فَوَاللّٰہِ لَقَدْ طَرَقْنَاھُنَّ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۴۳)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو (سفر سے) واپس آ جاؤ تو کوئی بھی رات کو اپنے اہل کے پاس نہ جائے، (بلکہ صبح کا انتظار کرے)۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے بعد میں ان کے پاس رات کو آنا شروع کردیا ہے۔

۔ (۲۳۳۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ لَیْلًا، أَنْ یَخَوِّنَہُمْ أَوْ یَلْتَمِسَ عَثَرَاتِھِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۸۱)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کے وقت (سفر سے ) اپنے اہل کے پاس آئے، کہ وہ ان کی خیانت کو ڈھونڈے یا ان کی غلطی کا موقع تلاش کرے۔

۔ (۲۳۳۱) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَیْلاً فَتَعَجَّلَ اِلٰی امْرَأَتِہِ فَاِذَا فِی بَیْتِہِ مِصْبَاحٌ، وَاِذَا مَعَ امْرَأَتِہِ شَیْئٌ، فَأَخَذَ السَّیْفَ، فَقَالَتِ أَمْرَأَتُہُ: اِلَیْکَ عَنِّی، فُلَانَۃُ تُمَشِّطُنِیْ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَنَھٰی أَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ لَیْلًا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۸)

سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ رات کو سفر سے واپس آئے اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے پاس پہنچے، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ گھر میں چراغ تھا اور اس کی بیوی کے پاس کوئی فرد تھا۔ پس اس نے تلوار پکڑی، لیکن اتنے میں اس کی بیوی نے کہ: پیچھے ہٹ جا، یہ فلاں عورت ہے، میری کنگھی کر رہی تھی۔ پھر وہ نبی کریم کے پاس آیا اور ساری بات بتلائی، (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو اپنے اہل کے پاس آئے۔