TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2328 - مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 7 in this chapter
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
۔ (۲۳۲۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ الْعَقِیْقَ فَنَھٰی عَنْ طُرُوقِ النِّسَائِ اللَّیْلَۃَ الَّتِی یَأْتِیْ فِیْہَا فَعَصَاہُ فَتَیَانِ فَکِلَاھُمَا رَآی مَا یُکْرَہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۱۴)
عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عقیق نامی جگہ پراترے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو بیویوں پر داخل ہونے سے منع فرما دیا۔ دو نوجوانوں نے اس حکم کی نافرمانی کی، پس ان دونوں نے( اپنے گھروں میں) ایسی چیزیں دیکھیں جس کو ناپسند کیا جاتا ہے۔
2328
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۲۳۲۸) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، محمد بن عجلان مضطرب الحدیث فی حدیث رافع، أخرجہ البزار: ۱۴۸۵(انظر: ۵۸۱۴)

Related Chapters

565
1
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(59) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) when returning from a journey.
سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
3
CHAPTER: Regarding The Salat Performed Upon Returning From A Journey.
باب: سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About The Brevity Of The Two Rak'ah Of Fajr And What The Prophet (S) Would Recite In Them
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے اور ان سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Related About) Shortening The Prayer During Travels
باب: سفر میں قصر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Voluntary Prayers While Traveling
باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Salat During The Night And The Day Is Two And Two
باب: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About What To Say When Standing For Prayer In The Night
باب: رات میں نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
10
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
11
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
12
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
14
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
(5) CHAPTER. The Prophet's exhorting (the people) to Tahajjud and Nawafil without making them compulsory.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا
Sahih Bukhari
16
(17) CHAPTER. The superiority of remaining with ablution during the day and night and the superiorit of offering As-Salat (prayers) after ablution during the day and night.
دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
17
(107) CHAPTER. Bidding farewell.
سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا
Sahih Bukhari
18
(134) CHAPTER. A traveller is granted reward similar to that given for good deeds practised at home, as if he is practising the same while travelling.
مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا ( گو وہ سفر میں نہ کر سکے )
Sahih Bukhari
19
(199) CHAPTER. Taking meals on arrival (from a journey).
مسافر جب سفر سے لوٹ کر آے تو لوگوں کو کھانا کھلاء ے ( دعوت کرے )
Sahih Bukhari
20
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers atop one’s mount when travelling, no matter what direction it is facing
سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھنے کا جواز‘سواری کا رخ چاہے جدھر بھی ہو
Sahih Muslim
21
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
22
Chapter: It is disliked to enter at night when coming home from a journey
مسافر کے لیے طروق (یعنی ) رات کو گھر میں داخل ہونا مکروہ ہے
Sahih Muslim
23
CHAPTER: Shorting The Last Two Rak’ah.
باب: بعد کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: The Voluntary Prayers During Travel.
باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: When Does The Traveler Break His Fast After Setting Out?
باب: مسافر سفر پر نکلے تو کتنی دور جا کر روزہ توڑ سکتا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
28
سفر میں وتر پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
29
وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
30
رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
سفر میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
سفر میں غلس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
سفر میں سنت (نفل) نہ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
سفر میں قیام اللیل (تہجد) پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
ایک رات میں دو (بار) وتر پڑھنے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
38
باب: رات میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
40
باب: رمضان میں حائضہ پاک ہو جائے یا مسافر واپس آ جائے تو کیا دن کے باقی حصہ میں روزہ رکھے؟
Sunnan Nisai
41
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
(71)Chapter: What Has Been Related About Wiping Over The Two Khuff For The Traveler and the Resident
باب: مسافر اور مقیم کے مسح کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Praying Fajr In The Dark
باب: فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Al-Isfar In Fajr
باب: فجر اجالا ہو جانے پر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Hastening Zuhr
باب: ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Delaying Zuhr In Severe Heat
باب: سخت گرمی میں ظہر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About Hastening Asr Prayer
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

467
Musnad Ahmad
628
۔ (۶۲۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ أَیْضًا قَالَ: حَدَّثَتْنِی الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ (ؓ) قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا فَیُکْثِرُ فَأَتَانَا فَوَضَعْنَا لَہُ الْمِیْضَأَۃَ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَا بَقِیَ مِنْ وَضُوئِہِ فِی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِہِ ثُمَّ رَدَّ یَدَہُ اِلَی نَاصِیَتِہِ وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ أُذُنَیْہِ مُقَدَّمَہُمَا وَمُؤَخَّرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۶)
۔ (دوسری سند)عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: سیدہ ربیع بن معوذؓ نے مجھے بیان کیا، وہ کہتی ہیں: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کثرت سے ہمارے پاس آتے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ایک برتن رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے اس طرح وضو کیا کہ تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا اور ایک ایک دفعہ کلی کی اور ناک میںپانی چڑھایا، پھر آپ نے تین دفعہ چہرہ اور دو بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر وضو کا جو پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھوں میں بچا، اس سے دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور پھر اپنے ہاتھ کو پیشانی تک لے آئے اور اپنے پاؤں کو تین تین بار دھویا اور کانوں کے سامنے والے اور پچھلے حصے کا مسح کیا۔
Musnad Ahmad
923
۔ (۹۲۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِیْ عُذْرَۃَ رَجُلٍ کَانَ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَائِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِی الْمَآزِرِ وَلَمْ یُرَخِّصْ لِلنِّسَائِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۹۸)
سیدنا ابو عذرہؓ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پایا تھا، سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردوں اور عورتوں کو حماموں سے منع کر دیا، پھر مردوں کے لیے ازار پہن کر نہانے کی رخصت دے دی اور عورتوں کو کوئی رخصت نہ دی۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
1450
۔ (۱۴۵۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائٍ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاھُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ اللَّیْلَۃَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْھَا وَکَانَتْ وُجُوھُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۴)
سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ قباء میںکچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
Musnad Ahmad
2244
۔ (۲۲۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمِلْتُ اللَّیْلَۃَ عَمَلًا۔ قَالَ: ((مَا ھُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَۃٌ مَعِیَ فِی الدَّارِ قُلْنَ لِی: اِنَّکَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّیْتُ ثَمَانِیًا وَالْوِتْرَ۔ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَرَأَیْنَا أَنَّ سُکُوْتَہُ رِضاً بِمَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۵)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیّدناابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
Musnad Ahmad
2495
۔ (۲۴۹۵) عَنْ کَعْبٍ بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَمْنَعُوا النِّسَائِ حُظُوظَہُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِذَا اسْتَأْذَنَّکُمْ۔)) فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللّٰہِ! لَنَمْنَعُہُنَّ، فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَتَقُوْلُ: لَنَمْنَعُہُنَّ۔ (مسند احمد: ۵۶۴۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورتیں تم سے اجازت مانگیں تو ان کے حق کو مساجد سے نہ روکو۔ بلال بن عبد اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے۔ سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح فرمایاہے اور تو یہ بات کہتا ہے کہ ہم ان کو روکیں گے۔
Musnad Ahmad
2604
۔ (۲۶۰۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ ثُمَّ یَأْتِیْ قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۹۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کو عشاء پڑھاتے تھے۔
Musnad Ahmad
2638
۔ (۲۶۳۸) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَزَادَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْ َراتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۶۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Musnad Ahmad
2850
۔ (۲۸۵۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعِیْدَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ، فَأَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی تُومَتَہَا وَخَاتَمَھَا اِلٰی بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر ہمیں عیدین کی نماز پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، اس کے بعد نیچے آ گئے اور عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، سو عورتوں نے