مسنداحمد

Musnad Ahmad

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان

۔ (۲۳۷۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ اِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَۃَ صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، فَاِذَا أَقَمْنَا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۸)

سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔

۔ (۲۳۷۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَمَّا فَتَحَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ أَقَامَ فِیْہَا سَبْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸)

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ فتح کیا تو وہاں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعت نماز پڑھی۔

۔ (۲۳۷۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۸۶)

سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔

۔ (۲۳۷۴) عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شَرَاحِیْلَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاۃُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ ثَـلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِنْ کُنَّا بِذِی الْمَجَازِ؟ قَالَ: وَمَا ذُوالْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَکَانٌ نَجْتَمِعُ فِیْہِ وَنَبِیْعُ فِیْہِ وَنَمْکُثُ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، قَالَ: یَا أَیُّھَا الرَّجُلُ کُنْتُ بِأَذْرَبِیْجَانَ، لَا أَدْرِی قَالَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ، فَرَأَیْتُہُمْ یُصَلُّونَہَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَرَأَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُصْبَ عَیْنَیَّ یُصَلِّیْھِمَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ نَزَعَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۵۵۲)

ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوںتو؟ انھوںنے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاںپندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔

۔ (۲۳۷۵) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ اِلَیْہِ فَتًی مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَہُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَشَہِدْتُ مَعَہُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ، وَاعْتَمْرَتُ مَعَہُ ثَـلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَجَّاتٍ فَلَمْ یُصَلِّیَا اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۲)

ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔

۔ (۲۳۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہٍ وَفِیْہِ) مَا سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَفَراً اِلَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی یَرْجِعَ، وَاِنَّہُ أَقَامَ بِمَکَّۃَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً یُصَلِّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ أَبِی وَحَدَّثَنَاہُ یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ وَزَادَ فِیْہِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((یَا أَھْلَ مَکَّۃَ قُوْمُوْا فَصَلُّوا رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ فَاِنَّا سَفْرٌ۔)) ثُمَّ غَزَا حُنَیْنًا وَالطَّائِفَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی جِعْرَانَۃَ فَاعْتَمَرَ مِنْہَا فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ یُوْنُسُ اِلَّا الْمَغْرِبَ، وَمَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَدْرَ اِمَارَتِہٖ، قَالَ یُوْنُسُ: رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ اِنَّ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۵)

(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں ، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں ۔پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔