TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2375 - قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۵) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ اِلَیْہِ فَتًی مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَہُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَشَہِدْتُ مَعَہُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ، وَاعْتَمْرَتُ مَعَہُ ثَـلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَجَّاتٍ فَلَمْ یُصَلِّیَا اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۲)
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
2375
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۲۳۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف من اجل علی بن زید بن جدعان، ولبعض الحدیث شواھد، ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۵۰، وابن خزیمۃ: ۱۶۴۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ (۵۱۵)، وأخرجہ مختصرا ابوداود:۱۲۲۹ (انظر: ۱۹۸۶۵، ۱۹۸۷۱)

Related Chapters

1,463
1
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
2
(1) CHAPTER. What is said about the shortened praers and for what period of stay one should offer shortened prayers.
نماز میں قصر کرنے کا بیان اور اقامت کی حالت میں کتنی مدت تک قصر کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
3
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
Musnad Ahmad
5
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
Chapter: The travelers’ prayer and shortening it
مسافروں کی نماز اور اس کی قصر
Sahih Muslim
7
CHAPTER: When Should The Traveler Stop Shortening The Prayer.
باب: مسافر پوری نماز کب پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
8
کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے ؟
Sunnan Nisai
9
(71)Chapter: What Has Been Related About Wiping Over The Two Khuff For The Traveler and the Resident
باب: مسافر اور مقیم کے مسح کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: (What Has Been Related About) Shortening The Prayer During Travels
باب: سفر میں قصر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Shortening The Salat At Mina
باب: منیٰ میں نماز قصر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
18
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
19
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
20
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
Musnad Ahmad
21
جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے
Musnad Ahmad
22
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
Musnad Ahmad
23
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
24
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
Musnad Ahmad
25
نبی کریم aکا بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنا
Musnad Ahmad
26
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
Musnad Ahmad
28
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
Musnad Ahmad
30
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
31
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
32
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
33
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
Musnad Ahmad
34
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
36
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
Musnad Ahmad
37
غزوۂ ذات الرقاع کا بیان، اس میں بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی
Musnad Ahmad
38
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
Musnad Ahmad
39
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
Musnad Ahmad
40
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
Musnad Ahmad
41
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
43
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
Sahih Bukhari
44
(89) CHAPTER. The mosques which are on the way to Al-Madina and the places where the Prophet had offered Salat (prayers).
ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے
Sahih Bukhari
45
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
47
(64) CHAPTER. The shortening and perfection of the prayer (by the Imam).
نماز مختصر اور پوری پڑھنا ( یعنی رکوع و سجود اچھی طرح کرنا )
Sahih Bukhari
48
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
49
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
50
(6) CHAPTER. Takbir (Allah is the Most Great) and offering the Fajr prayer early when it is still dark and offering As-Salat (the prayers) while attacking the enemy and in battles.
حملہ کرنے سے پہلے صبح کی نماز اندھیرے میں جلدی پڑھ لینا اسی طرح لڑائی میں ( طلوع فجر کے بعد فوراً ادا کر لینا )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

35
Musnad Ahmad
319
۔ (۳۱۹)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ لَبِیْدٍؓ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا فَقَالَ: ((وَذَاکَ عِنْدَ أَوَانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَ نَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَائُ نَا أَبْنَائَ ہُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا ابْنَ أُمِّ لَبِیْدٍ، اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، أَوَ لَیْسَ ہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَنْتَفِعُوْنَ مِمَّا فِیْہِمَا بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۶۱۲)
سیدنا زیاد بن لبید ؓ کہتے ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کی اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے،لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔
Musnad Ahmad
322
۔ (۳۲۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَیْنُ بْنُ سَبْرَۃَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ اِلَی زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ (ؓ) فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ قَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: لقَدْ لَقِیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وسَمِعْتَ حَدِیْثَہَ وَغَزَوْتَ مَعَہُ وَصَلَّیْتَ مَعَہُ، لقَدْ رَأَیْتَ یَا زَیْدُ خَیْرًا کَثِیْرًا، حَدِّثْنَا یَا زَیْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! وَاللّٰہِ! لقَدْ کَبُرَتْ سِنِّیْ وَقَدُمَ عَہْدِیْ وَنَسِیْتُ بَعْضَ الَّذِیْ کُنْتُ أَعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَـلَا تُکَلِّفُوْنِیْہِ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا خَطِیْبًا فِیْنَا بِمَائٍ یُدْعٰی خُمًّا، یَعْنِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ،ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! أَ لَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِیَنِیْ رَسُوْلُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَأُجِیْبَ، وَاِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمْ ثَقَلَیْنِ، أَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فِیْہِ الْہُدٰی وَالنُّوْرُ، فَخُذُوْا بِکِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ۔)) فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَرَغَّبَ فِیْہِ، قَالَ: ((وَأَھْلُ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ، أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَھْلِ بَیْتِیْ۔)) فَقَالَ لَہُ حُصَیْنٌ: وَمَنْ أَھْلُ بَیْتِہِ یَا زَیْدُ؟ أَلَیْسَ نِسَائُ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ؟ قَالَ: اِنَّ نِسَائَ ہُ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہِ وَلَکِنَّ أَھْلَ بَیْتِہِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہُ، قَالَ: وَمَنْ ہُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِیٍّ وَ آلُ جَعَفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَکُلُّ ہٰؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۷۹)
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
1518
۔ (۱۵۱۸) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَمَعَ قَوْمَہُ فَقَالَ: یَامَعْشَرَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ! اجْتَمِعُوْا وَاجْمَعُوْا نِسَائَ کُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ أُعَلِّمُکُمْ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلَّتِیْ کَانَ یُصَلِّیْ لَنَا بِالْمَدِیْنَۃِ، فَاجْتَمَعُوْا وَجَمَعُوْا نِسَائَ ھُمْ وَأَبْنَائَ ھُمْ فَتَوَضَّأَ وَأَرَاھُمْ کَیْفَیَتَوَضَّأُ فَأَحْصَی الْوَضُوئَ إِلَی أَمَاکِنِہِ حَتّٰی لَمَّا أَنْ فَائَ الْفَیْئُ وَانْکَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ فَصَفَّ الرِّجَالَ فِی أَدْنَی الصَّفِّ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَہُمْ، وَصَفَّ النِّسَائَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاۃَ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ فَکَبَّرَ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍیُسِرُّھَا، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَاسْتَوٰی قَائِمًا، ثُمَّ کَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ کَبَّرَ فَانْتَہَضَ قَائِمًا، فَکَانَ تَکْبِیْرُہُ فِی أَوَّلَ رَکْعَۃٍ سِتَّ تَکْبِیْرَاتٍ وَکَبَّرَحَیْنَ قَامَ إِلَی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ أَقْبَلَ إِلٰی قَوْمِہِ بِوَجْہِہِ فَقَالَ اِحْفَظُوْا تَکْبِیْرِی، وَتَعَلَّمُوا رُکُوْعِیْ وَسُجُودِیْ، فَإِنَّہَا صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلَّتِیْ کَانَیُصَلِّیْ لَنَا کَذَا السَّاعَۃَ مِنَ النَّہَارِ ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَضَی صَلَاتَہُ أَقْبَلَ إِلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ اِسْمَعُوْا وَاعْقِلُوْا وَاعْلَمُوْا أَنَّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عِبَادًا لَیْسُوْا بِأَنْبِیَائَ وَلَاشُہَدَائَ، یَغْبِطُہُمْ الْأَنْبِیَائُ وَالشُّہَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِہِمْ وَقُرْبِہِمْ مِنَ اللّٰہِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِیَۃِ النَّاسِ وَأَلْوٰی بِیَدِہِ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! نَاسٌ مِنَ النَّاسِ لَیْسُوا بِأَنْبِیَائَ وَلَا شُہَدَائَ یَغْبِطُہُمُ الْأَنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِہِمْ وَقُرْبِہِمْ مِنَ اللّٰہِ، اِنْعَتْہُمْ لَنَا یَعْنِیْ صِفْہُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِیِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَائِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَیْنَھُمْ أَرْحَامٌ مُتَـقَارِبَۃٌ، تَحَابُّوْا فِیْ اللّٰہِ وَتَصَافُوْا، یَضَعُ اللّٰہُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مَنْ نُورٍ فَیُجْلِسُہُمْ عَلَیْہَا، فَیَجْعَلُ وُجُوُھَہُمْ نُورًاوَثِیَابَہُمْ نُورًا، یَفْزَعُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَفْزَعُونَ، وَھُمْ أَوْلِیَائُ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا یَحْزَنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۴)
عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور کہا: اشعریوں کی جماعت! خود بھی جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلو، میں تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ نماز سکھاتا ہوں جو آپ ہمیں مدینہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ پس وہ جمع ہوگئے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلیا۔ سیّدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وضوکیا اور انہیں دکھایا آپ کیسے وضو کرتے تھے، انھوں نے اعضائے وضو تک وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا۔ پھر جب سایہ( مغرب سے مشرق کی طرف) لوٹ آیا اور سایہ مائل ہوگیا تو انھوں نے کھڑے ہوکر (ظہر کی) اذان دی، پھر سب سے آگے مردوں کی صف بنائی،ان کے پیچھے بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی ، پھر اقامت کہہ کر آگے کھڑے ہوگئے، رفع الیدین کیا اور تکبیر کہی پھر سورۂ فاتحہ اور مزید ایک سورت کی سرّاً تلاوت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا، تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور کھڑے ہو کر سیدھے ہوگئے، پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور (سجدے سے) سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا ، پھر تکبیر کہی اور اٹھ کھڑے ہوئے، پہلی رکعت میں ان کی کل چھ تکبیریں ہو گئیں، جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو تکبیر کہی تھی ، جب انھوں نے اپنی نماز پوری کرلی تو اپنی قوم کے طرف منہ کرکے کہا: میری تکبیریںیاد کرلو، اور یہ رکوع و سجود بھی سمجھ لو،کیونکہیہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اسی وقت پڑھایا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نماز پوری کی تھی تو اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرکے فرمایا تھا: لوگو! سنو ،سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بندے، جو نہ نبی ہیں نہ شہید، لیکن ان کے مقام او راللہ کے قریب ہونے کہ وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ دور والے لوگوں سے ایک بدو آیا اور اپنے ہاتھ سے اللہ کے نبی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں سے کچھ لوگ، جو نبی ہیںنہ شہید،لیکن ان کے مقام او ر اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے، ہمیں ان کے اوصاف تو بتائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اعرابی کے سوال کی وجہ سے خوش ہوگیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ غیر معروف اور قبیلوں سے نکلے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی قریبی رشتہ داریاں نہیں ہیں، لیکن وہ صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے حق میں صاف ہیں، قیامت کے دن اللہ ان کے لیے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا اور ان چہروں اور کپڑوں کو نور بنادے گا، قیامت کے دن لوگ گھبرائیں گے، لیکنیہ نہیں گھبرائیں گے ، بلکہ یہ اللہ کے وہ ولی ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ پریشان ہوں گے۔
Musnad Ahmad
1610
۔ (۱۶۱۰) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ رَجُلاً (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاصَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فُلَانٍ، الإِْمَامِ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ: فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُطِیْلُ الْأُوْلَیَیْنِ (وَفیِ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ) مِنَ الظُّہْرِ وَیُخَفِّفُ الْأُخْرَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَیَقْرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفْصَّلِ، وَیَقَرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الْغَدَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفْصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاکُ وَحَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلَاۃً بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا الْفَتٰییَعْنِیْ عُمَرَبْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، قَالَ الضَّحَّاکُ فَصَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَکَانَ یَصْنَعُ مِثْلَ مَاقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے ایکآدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔
Musnad Ahmad
2933
۔ (۲۹۳۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا نَادٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتِ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّکَ، فَنَظَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی السَّمَائِ وَمَا نَرٰی کَثِیْرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقٰی فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُہُ اِلٰی بَعْضِ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتّٰی سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِیْنَۃِ، وَاطَّرَدَتْ طُرُقُہَا أَنْہَارًا، فَمَا زَالَتْ کَذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَیْرُہُ، وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اُدْعَ اللّٰہَ أَنْ یَحْبِسَہَا عَنَّا، فَضَحِکَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) فَدَعَا رَبَّہُ فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِیْنَۃِ یَمِیْنًا وَشِمَا لًا یُمْطِرُ مَا حَوْلَھَا وَلَا یُمْطِرُ فِیْہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۳۷۷۹)
(تیسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن ایک آدمی نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! بارش رک گئی ہے،زمین نباتات سے خالی ہوگئی ہے اور لوگ قحط زدہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، ہم کوئی زیادہ بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اوربادل منشتر اور زیادہ ہونے لگے، پھر بارش برسنا شروع ہوئی،مدینہ کے ندی نالے بہنے لگے اور اس کے راستے نہروں کی طرح چلنے لگے، اگلے جمعہ تک بارش اسی طرح ہوتی رہی اور نہ رکی ۔ (اگلے جمعہ میں) وہی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہوا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا)، نہ کہ ہم پر ۔جونہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب سے دعا کی، بادل پھٹ کر مدینے سے دائیں اور بائیں ہونے لگ گئے اور مدینے کے ارد گرد بارش برسانے لگ گئے اور جبکہ مدینہ میں کوئی بارش نہیں ہو رہی تھی۔
Musnad Ahmad
3266
۔ (۳۲۶۶) عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ عَنْ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ یَنْطَلِقُ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَـلَا یَدَعُ بِہَا وَثَنَا إِلَّأکَسَرَہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاہُ وَلَا صُوْرَۃً إِلَّا لَطَخَہَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَانْطَلَقَ فَہَابَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ أَدَعْ بِہَا وَثَنَا إِلَّا کَسَرْتُہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّیْتُہُ، وَلَا صُوْرَۃً اِلَّا لَطَخْتُہَا، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَادَ لِصَنْعَۃِ شَیْئٍ مِنْ ہٰذَا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالاً وَلَا تَاجِرًا اِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ، فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمَسْبُوْقُوْنَ بِالْعَمَلِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷)
ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔
Musnad Ahmad
3390
۔ (۳۳۹۰) عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُصَدِّقًا عَلٰی بَلِیٍّ وَعُذْرَۃَ، وَجَمِیْعِ بَنِی سَعْدِ بْنِ ہُذَیْمِ ابْنِ قُضَاعَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ قُضَاعَۃَ) قَالَ: فَصَدَّقْتُہُمْ حَتّٰی مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْہُمْ، وَکَانَ مَنْزِلُہُ وَبَلَدُہُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِہِمْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا جَمَعَ إِلَیَّ مَالَہُ لَمْ أَجِدْ عَلَیْہِ فِیْہَا إِلَّا ابْنَۃَ مَخَاضٍ یَعْنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّہَا صَدَقَتُہُ، قَالَ: فَقَالَ: ذَاکَ مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ، وَأَیْمُ اللّٰہِ، مَا قَامَ فِی مَالِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا رَسُوْلٌ لَہُ قَطُّ قَبْلَکَ، وَمَا کُنْتُ لِأُقْرِضَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَاَلٰی مِنْ مَالِی مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ وَلٰکِنْ ہٰذِہِ نَاقَۃٌ فَتِیَّۃٌ سَمِیْنَۃٌ فَخُذْہَا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُوْمَرْ بِہِ، فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْکَ قَرِیْبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِیَہُ فَتَعْرِضَ عَلَیْہِ مَا عَرَضْتَ عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَہُ مِنْکَ قَبِلَہُ، وَإِنْ رَدَّہُ عَلَیْکَ رَدَّہُ، قَالَ فَاِنِّیْ فَاعِلٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعِی وَخَرَجَ بِالنَّاقَۃِ التَّیِ عَرَضَ عَلَیَّ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہُ! أَتَانِی رَسُوْلُکَ لِیَأْخُذَ مِنِّی صَدَقَۃَ مَالِی، وَأَیْمُ اللّٰہِ! مَا قَامَ فِی مَالِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا رَسُوْلٌ لَہٗ قَطُّ فَجَمَعْتُ لَہُ مَالِی فَزَعَمَ أَنْ عَلَیَّ فِیْہِ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَذَالِکَ مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَیْہِ نَاقَۃً فَتِیَّۃً سَمِیْنَۃً لِیَأْخُذُہَا فَأَبٰی عَلَیَّ ذَالِکَ وَقَالَ: ہَا ہِیَ ہَذِہِ قَدْ جِئْتُکَ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! خُذْہَا، قَالَ: فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ الَّذِی عَلَیْکَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَیْرٍ قَبِلْنَاہُ مِنْکَ وَآجَرَکَ اللّٰہُ فِیْہِ۔)) قَالَ: فَہَا ہِیَ ذِہْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ جِئْتُکَ بِہَا فَخُذْہَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبْضِہَا وَ دَعَا لَہُ فِی مَالِہِ بِالْبَرَکَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۳)
سیدناابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلی، عذرۃ، بنو سعد بن ہذیم بن قضاعہ کے قبائل کی طرف زکوۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، میں ان لوگوں سے زکوۃ وصول کی اورجب میں سب سے آخری آدمی کے پاس پہنچا، وہ مدینہ منورہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ترین رہائش پذیر تھا، وہ اپنے جانور جمع کر کے میرے پاس لایا تو میں نے دیکھا کہ اس مال پر ایک سالہ اونٹنی کی زکوۃ فرض ہوتی ہے، لیکن جب میں نے اسے یہ مقدار بتائی تو وہ کہنے لگا کہ یہ جانور تو نہ دودھ والا ہے اور نہ سواری کے قابل، اللہ کی قسم! صورتحال یہ ہے کہ آج سے قبل نہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے مال میں تشریف لائے اور نہ آپ کا کوئی قاصد۔ اب میں اللہ تعالیٰ کو ایسا جانور بطورِ قرضہ نہیں دوں گا، جو نہ دودھ دیتا ہو اور نہ سواری کے قابل ہو، البتہ یہ ایک جوان اور موٹی تازی اونٹنی ہے، تم یہ لے جاؤ، میں نے کہا: میں وہ چیز نہیں لوں گا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، یہ اللہ کے رسول تمہارے قریب ہی ہیں، اگر تم چاہو تو جو جانور مجھے دینا چاہتے ہو خود جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کر دو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرضی ہے وہ اس کو قبول کر لیں یا واپس کر دیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔پس وہ اونٹنی ساتھ لے کر میرے ساتھ روانہ ہوا، جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا یہ نمائندہ میرے مال کی زکوۃ وصول کرنے کے لیے میرے پاس آیا، اللہ کی قسم! اس سے پہلے نہ اللہ کے رسول میرے مال میں تشریف لائے اور نہ آپ کا کوئی قاصد، میں نے سارے جانور جمع کر کے اس قاصد کے سامنے پیش کر دیئے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس مال پر ایک سالہ اونٹنی کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، چونکہ یہ جانور دودھ والا تھا نہ سواری کے قابل، اس لیے میں نے اس کی خدمت میں ایک موٹی تازی اور جوان اونٹنی پیش کی، تاکہ یہ اسے قبول کر لے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، اے اللہ کے رسول! اب میں خود اسے لے کر آ گیا ہوں، آپ اسے قبول فرمائیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پر واجب تو یہی (ایک سال) ہی ہے، ہاں اگر تم خوشی سے اس سے عمدہ دینا چاہو تو ہم قبول کر لیں گے اور اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ وہ بہتر اونٹنی حاضر ہے، میں اسے اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں، آپ اسے قبول فرمائیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔
Musnad Ahmad
3391
۔ (۳۳۹۰) عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُصَدِّقًا عَلٰی بَلِیٍّ وَعُذْرَۃَ، وَجَمِیْعِ بَنِی سَعْدِ بْنِ ہُذَیْمِ ابْنِ قُضَاعَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ قُضَاعَۃَ) قَالَ: فَصَدَّقْتُہُمْ حَتّٰی مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْہُمْ، وَکَانَ مَنْزِلُہُ وَبَلَدُہُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِہِمْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا جَمَعَ إِلَیَّ مَالَہُ لَمْ أَجِدْ عَلَیْہِ فِیْہَا إِلَّا ابْنَۃَ مَخَاضٍ یَعْنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّہَا صَدَقَتُہُ، قَالَ: فَقَالَ: ذَاکَ مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ، وَأَیْمُ اللّٰہِ، مَا قَامَ فِی مَالِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا رَسُوْلٌ لَہُ قَطُّ قَبْلَکَ، وَمَا کُنْتُ لِأُقْرِضَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَاَلٰی مِنْ مَالِی مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ وَلٰکِنْ ہٰذِہِ نَاقَۃٌ فَتِیَّۃٌ سَمِیْنَۃٌ فَخُذْہَا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُوْمَرْ بِہِ، فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْکَ قَرِیْبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِیَہُ فَتَعْرِضَ عَلَیْہِ مَا عَرَضْتَ عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَہُ مِنْکَ قَبِلَہُ، وَإِنْ رَدَّہُ عَلَیْکَ رَدَّہُ، قَالَ فَاِنِّیْ فَاعِلٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعِی وَخَرَجَ بِالنَّاقَۃِ التَّیِ عَرَضَ عَلَیَّ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہُ! أَتَانِی رَسُوْلُکَ لِیَأْخُذَ مِنِّی صَدَقَۃَ مَالِی، وَأَیْمُ اللّٰہِ! مَا قَامَ فِی مَالِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا رَسُوْلٌ لَہٗ قَطُّ فَجَمَعْتُ لَہُ مَالِی فَزَعَمَ أَنْ عَلَیَّ فِیْہِ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَذَالِکَ مَا لَا لَبَنَ فِیْہِ وَلَا ظَہْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَیْہِ نَاقَۃً فَتِیَّۃً سَمِیْنَۃً لِیَأْخُذُہَا فَأَبٰی عَلَیَّ ذَالِکَ وَقَالَ: ہَا ہِیَ ہَذِہِ قَدْ جِئْتُکَ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! خُذْہَا، قَالَ: فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَالِکَ الَّذِی عَلَیْکَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَیْرٍ قَبِلْنَاہُ مِنْکَ وَآجَرَکَ اللّٰہُ فِیْہِ۔)) قَالَ: فَہَا ہِیَ ذِہْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ جِئْتُکَ بِہَا فَخُذْہَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبْضِہَا وَ دَعَا لَہُ فِی مَالِہِ بِالْبَرَکَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۳)
سیدناسوید بن غفلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا زکوۃ وصول کرنے والا عامل ہمارے پاس آیا، میں اس کے پاس گیا، وہ یہ کہنے لگا: میری ذمہ داری ہے کہ میں دودھ پیتا جانور نہ لوں، (دوسری بات یہ ہے کہ) زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھے ریوڑ کو الگ الگ کیا جائے، اتنے میں ایک آدمی ان کے ہاں بلند کوہان والی شاندار اونٹنی لے کر آیا،لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
Musnad Ahmad
3586
۔ (۳۵۸۶) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلِ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلَکَ الْمُکْثِرُوْنَ، إِلَّا مَنْ قَالَ ہٰکَذَا وَ ہٰکَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّی بِکَفِّہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْیَسَارِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ، وَقَلَیْلٌ مَا ہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۰۷۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہو گئے، ما سوائے ان لوگوں کے جو مال کو اِدھر خرچ کرتے ہیں، اُدھر دیتے ہیں اور اس طرف لٹاتے ہیں،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنیہتھیلی سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔