TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا - یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا - مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 5 · 9 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۲۴۱۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلَائٍ فِی جَسَدِہِ اِلَّا أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلَائِکَۃَ الَّذِیْنَ یَحْفَظُوْنَہُ فَقَالَ: اُکْتُبُوا لِعَبْدِی کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ مَا کَانَ فِی وِثَاقِی ۔ (مسند احمد: ۶۴۸۲)
سیّدناعبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے جس کو بھی کوئی جسمانی تکلیف لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہتا ہے: میرا بندہ دن اور رات میں خیر و بھلائی کے جو کام کرتا تھا، تم وہ لکھتے جاؤ، جب تک یہ میری بندھن میں رہے۔
Takhreej
(۲۴۱۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۰، والدارمی: ۲/ ۳۱۶، والبخاری فی ’’الادب المفرد‘‘: ۵۰۰، والحاکم: ۱/ ۳۴۸، والبیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘: ۹۹۲۹ (انظر: ۶۴۸۲)
2416
Sahih
۔ (۲۴۱۷) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِیَ النَّاصُوْرُ فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: ((صَلِّ قَائِمًا فَاِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِداً، فَاِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۷)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے ناسور کی بیماری تھی، اس لیے میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز کے بارے میں سوال کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کر۔
Takhreej
(۲۴۱۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۱۱۷، وابوداود: ۹۵۲، وابن ماجہ: ۱۲۲۳، والترمذی: ۳۷۲ (انظر: ۱۹۸۱۹)
2417
Sahih
۔ (۲۴۱۸) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ سَمِعَہُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَقَطَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّہُ الْأَیْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُوْدُہُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی قَاعِداً وَصَلَّیْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: ((اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً، فَاِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَاِذَا قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا رَبَّنَا وَلکَ الْحَمْدُ وَاِنْ صلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۹۸)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عیادت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے، اتنے میںنماز کا وقت ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز بیٹھ کر پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب نماز پوری کی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو،جب وہ رکوع کرے، تب تم رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تب تم سجدہ کرو، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے، تو تم رَبَّنَا وَلکَ الْحَمْدُ کہو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
Takhreej
(۲۴۱۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۰۵، ۱۱۱۴، ومسلم: ۴۴۱ (انظر: ۱۲۰۷۴)
2418
Sahih
۔ (۲۴۱۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صُرِعَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فَرَسٍ عَلٰی جِذْع نَخْلَۃٍ فَانْفَکَّتْ قَدمُہُ، فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُوْدُہُ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی، فَصَلَّیْنَا بِصَلَاتِہِ وَنَحْنُ قِیَامٌ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَاِنْ صَلّٰی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا، وَاِنْ صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوْسًا، وَلَا تَقُومُوا وَھُوَ جَالِسٌ کَمَا یَفْعَلُ أَھْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۴)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کا جوڑ اتر گیا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ کے پاس گئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (بیٹھ کر) نماز پڑھ رہے تھے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے، جبکہ ہم کھڑے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے اگر وہ کھڑا ہو کر نمازپڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہوا کرو، جیسے فارسی لوگ اپنے بڑوں (کی تعظیم کرتے ہوئے ان) کے ساتھ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۲۴۱۹) تخریـج: …اسنادہ قوی علی شرط مسلم أخرجہ مسلم: ۴۱۳، ابوداود: ۶۰۲، ۶۰۶ (انظر: ۱۴۲۰۵، ۱۴۵۹۰)
2419
Sahih
۔ (۲۴۲۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہِ النَّاسُ فِی مَرَضِہِ یَعُودُوْنَہُ فَصَلّٰی بِہِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا یُصَلُّوْنَ قِیَامًا فَأَشَارَ اِلَیْھِمْ أَنِِ اجْْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ، فَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا، وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَاِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۵۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے دوران لوگ آپ عیادت کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تب تم رکوع کرو، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم رکوع سے سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
Takhreej
(۲۴۲۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۵۸، ومسلم: ۴۱۲ (انظر: ۲۴۲۵۰)
2420
Sahih
۔ (۲۴۲۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: آخِرُ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحًا بِہِ وَھُوَ قَاعِدٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۹۳)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری نماز اس حال میں پڑھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک دھاری دار چادر تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے توشیح کر رکھی تھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۲۴۲۱) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الضیاء فی ’’المختارۃ‘‘: ۱۹۶۶ (انظر: ۱۳۲۶۰)
2421
Sahih
۔ (۲۴۲۳) عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ أَنَّہُ سَأَلَ أَنَسًا عَنْ صَلَاۃِ الْمَرِیْضِ، فَقَالَ: یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ قَاعِدًا فِی الْمَکْتُوْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۱)
مختار بن فلفل نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: (مریض آدمی) فرض نماز میں بیٹھ کر رکوع و سجود کرے گا۔
2422
Sahih
۔ (۲۴۲۳) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: اِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیْفٌ فَمَتٰی یَقُوْمُ مَقَامَکَ تُدْرِکُہُ الرِّقَّۃُ۔ قَالَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوْسُفَ، مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) فَصَلّٰی أَبُوبَکْرٍ وَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابوبکربڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسفf کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۴۲۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابوعوانۃ: ۲/ ۱۳۶، وھو حدیث طویل وأخرجہ ابوداود: ۶۲۴ دون اللفظۃ المذکورۃ (انظر: ۱۲۲۷۶)(۲۴۲۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۳۳۸۴، ومسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۴۰۶۱، ۲۵۲۵۸)
2423
Sahih
۔ (۲۴۲۴) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنْ أَبِی رَجُلٌ رَقِیقٌ، فَقَالَ: مُرُوْا أَبَابَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَاِنَّکُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوْسُفَ۔)) فَأَمَّ أَبُوْبَکْرٍ النَّاسَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۴۸)
سیّدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز
Takhreej
(۲۴۲۴) تخریـج: …حدیث صحیح، لکن عن ابن بریدۃ عن ابیہ خطأ من الامام احمد او من دونہ والصحیح ما فی روایۃ ابی عوانۃأخرجہ ابوعوانۃ فی ’’صحیحہ‘‘: ۱۶۵۳ عن ابی بردۃ، وھو ابن ابی موسی الاشعری، عن ابیہ ابی موسی الاشعری عبد اللہ بن قیس، وھو الصحیح، (انظر: ۲۳۰۶۰)
2424
Sahih